فیلڈ مارشل کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے

بی بی سی اردو  |  Apr 28, 2026

Reuters

میرے بچپن میں پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ سے منظور شدہ دوسری جماعت کے قاعدے میں حکمرانِ وقت کے بارے میں بھی یہ ڈیڑھ سطر شامل تھی۔ 'فیلڈ مارشل محمد ایوب خان پاکستان کے ہر دل عزیز صدر ہیں۔ انھیں ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔'

انیس سو ستر میں وقت بدلا تو اسی قاعدے میں صرف نام بدلا۔ 'جنرل آغا محمد یحیی خان پاکستان کے ہر دل عزیز صدر ہیں، انھیں ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔'

انیس سو بہتر میں شائع ہونے والے اسی قاعدے میں صدر ذوالفقار علی بھٹو کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہنے لگا۔ تب سے اب تک اس نصابی پل کے نیچے سے ویسا ہی پانی رنگ بدل بدل کے بہے چلا جا رہا ہے۔

یہ قاعدہ پڑھنے سے ہی ہم بچوں کو معلوم ہوا کہ نام میں کیا رکھا ہے۔ جو بھی صدر (یا وزیرِ اعظم) بنتا ہے، اسے کرسی پر بیٹھتے ہی ملک و قوم کی ترقی کا خیال ستانے لگتا ہے۔

باقی دنیا کے موازنے میں جتنی ترقی ہمیں آٹھ دہائیوں میں کرنی چاہیے تھی اتنی ہوئی یا نہیں؟ یہ وہ بحث ہے جو ہمیشہ بے نتیجہ رہے گی۔ ویسے بھی مادی ترقی دنیا کی چیز ہے، دنیا میں ہی رہ جائے گی۔

بخدا ہمارا ہر خضر صورت رہنما روزِ محشر سر اونچا کر کے بتانے کے قابل ہے کہ اے اوپر والے: باقی قوموں نے اپنا قیمتی وقت دھن دولت میں لگا کے ضائع کیا اور ہم نے اس عرصے میں عزت کمائی، داد و تحسین اور شاباشی سمیٹی۔ نہ منھ کھول کے مانگا اور ہاتھ بھی پھیلایا تو کچھ اس طرح کہ دائیں ہاتھ کو بائیں کی خبر نہ ہوئی۔

جو جس نے خوشی سے دے دیا صبر شکر کے ساتھ دعائیں دیتے ہوئے جیب میں رکھ لیا۔ اور اس میں سے بھی ایک آدھ چونی اٹھنی رعایا کی جانب اچھال دی۔ آخر کو وہ بھی بحیثیت انسان ہمارے بہن بھائی ہیں۔ پیٹ تو ان کے ساتھ بھی لگا ہوا ہے۔

اے خدا گواہ رہنا کہ ہم نے تیری دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے اپنے بنیادی مسائل و مصائب بھی تجھ پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے پسِ پشت ڈال دیے۔

’عاصم اور شہباز۔۔۔ دنیا کو بچا لیا‘: ایران اور امریکہ کی جنگ بندی میں پاکستانی کردار پر دنیا کیا کہہ رہی ہے؟ٹرمپ کو چھت سے اُتارنے کے بدلے پاکستان کو کیا انعام ملے گا؟پاکستان نے امریکی ناکہ بندی سے متاثرہ ایران کے لیے تجارتی راہداری کھولنے کا فیصلہ کیوں کیا؟عاصم منیر تہران اور شہباز شریف جدہ میں: ’یہ دلچسپ ہے کہ امریکہ اب پاکستان کو واحد ثالث قرار دے رہا ہے‘

ہم نے بس تیری رضا کی خاطر چھپن برس پہلے دنیا کی دو بڑی طاقتوں (چین اور امریکہ) کے درمیان صلح کروائی۔ سینتالیس برس پہلے اپنے ایک نادان ہمسائے کو الحاد کی راہ پر جانے سے روکنے کے لیے تیری دنیا کے دیگرِ اہلیانِ کتب کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اپنی نسلوں کے حال، مستقبل اور بقا کی پرواہ کیے بغیر سرحدیں اور وسائل مصیبت زدہ بھائیوں کے ساتھ سانجھے کر دیے۔

ہماری اس بے غرض کاوش کے دنیا بھر میں ڈنکے پٹ گئے اور بن مانگے اتنی عزت اور نذرانے ملے کہ سمیٹنے مشکل ہو گئے۔ آزاد دنیا کے محافظ کا خطاب الگ سے پایا۔ آج تک ہم اس بے لوث 'مدد' کے فیوض و برکات طرح طرح سے سمیٹ رہے ہیں۔

ارضِ نجد و حجاز کے پاسبانوں نے جب جب یا رفیق کی صدا لگائی ہم دوڑے دوڑے چلے گئے۔ اس اخلاص کے عوض اگر پاسبانوں نے اپنی خوشی سے کچھ دان وان کر دیا تو اسے آنکھوں سے لگا کر لے آئے۔ یہ نذرانہ اپنے خزانے میں جمع کر لیا تاکہ آئندہ نسلوں کے بھی کام آوے۔

اے باری تعالی تو نے ہمیں انسان دوستی کے لیے صلح جوئی اور سہولت کاری کا جو ہنر عطا کیا، آج پھر یہ ہنر ڈنکے کی چوٹ کام آ رہا ہے۔ کیا ایران، کیا سعودی عرب، کیا ترکی، کیا مصر، کیا روس، کیا چین، کیا یورپی یونین۔ ایک بار پھر ہم سب کی آنکھوں کا تارہ ہیں۔

Reutersہماری اس بے غرض کاوش کے دنیا بھر میں ڈنکے پٹ گئے اور بن مانگے اتنی عزت اور نذرانے ملے کہ سمیٹنے مشکل ہو گئے

دنیا بھر سے ہماری جانب اس قدر سراہنا بہہ رہی ہے کہ ہفتوں سے دارالحکومت کی سرکاری فون لائنیں جام ہیں۔ مال بردار جہاز اتنی کثیر تعداد میں رُخ کر رہے ہیں کہ ہماری دو بندرگاہوں پر سامان رکھنے کی جگہ نہیں رہی۔ اسلام آباد ایئرپورٹ بھانت بھانت کی فضائی ٹریفک کے سبب تنگ پڑ رہا ہے۔

ملک و قوم کو نصیب ہونے والی یہ عالمگیر عزت کچھ فیس بکیوں سے ہضم نہیں ہو پا رہی چنانچہ وہ ٹُچے ٹُچے مسائل کا رونا رو کر قوم کی توجہ اپنی جانب مڑوانے کی سستی سی نامراد کوشش کر رہے ہیں۔

ان حاسدوں کو یہ تو صاف صاف نظر آ رہا ہے کہ جب سے پاکستان نے ثالثانہ عزت کمانا شروع کی ہے، دارالحکومت میں تعلیمی ادارے، ٹرانسپورٹ، دہاڑی دار اور مریض وغیرہ ملک و قوم کی خاطر قربانی دے رہے ہیں۔ مگر وہ یہ نہیں دیکھ پا رہے کہ آج کتنے ممالک ہمیں امید بھری رشکیلی نگاہوں سے تک رہے ہیں۔

پورا قومی میڈیا پاکستانی قیادت کی عظیم الشان علاقائی تگ و دو اور کامیابیوں سے نہال ہے تو دوسری طرف چند مٹھی بھر عناصر تعلیم، صحت، بنیادی حقوق، عدلیہ کی پا بہ زنجیری، سیاسی مقدمات، پولیس گیری، بے روزگاری، تیل گیس بجلی ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورد نوش کی مہنگائی، کچی آبادیوں کی بلڈوزیت کی بے وقت ریں ریں کر رہے ہیں۔ جیسے یہ مسائل آج ہی پیدا ہوئے ہوں۔ اور وہ بھی ایک ایسے سنہری وقت میں یاد دلائے جا رہے ہیں جب اسلام آباد کا ہر فیصلہ ساز ایوان بین الاقوامی قدر افزائی کی روپہلی کرنوں میں نہائے چلا جا رہا ہے۔

ایسے خواب ناک ماحول سے تکریم کا نشہ کشید کرنے کے بجائے بنیادی مسائل کا مرثیہ ایسے ہی ہے جیسے ملک و قوم کی عظمت کے موضوع پر ہونے والے کسی فائیو سٹار اجتماع میں کوئی ننگے پاؤں فقیر گھس کے صدا لگانے لگے کہ ’اللہ کے نام پر ہی کچھ دے دو بابا۔‘

آج جو خوبصورت سمے چل رہا ہے، اس نے مجھے ایک بار پھر ساٹھ برس پہلے کی دوسری جماعت میں پہنچا دیا ہے اور میں ایک گہری کھائی کے آر پار خوبصورت ماضی اور دلکش حال کی رسی سے بندھے جھولے میں آنکھیں بند کیے ہلکورے لیتے لیتے دل ہی دل میں دہرا رہا ہوں:

’فیلڈ مارشل محمد ایوب خان پاکستان کے ہر دل عزیز صدر ہیں۔ انھیں ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔‘

’فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کے ہر دل عزیز سپہ سالار اعظم ہیں۔ انھیں ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔‘

’میاں محمد شہباز شریف پاکستان کے ہر دل عزیز وزیرِ اعظم ہیں۔ انھیں ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔‘

پاکستان نے امریکی ناکہ بندی سے متاثرہ ایران کے لیے تجارتی راہداری کھولنے کا فیصلہ کیوں کیا؟پشاور کا عمران خان کرکٹ سٹیڈیم خیبرپختونخوا اسمبلی کا ایوان کیوں بنا دیا گیا؟عاصم منیر تہران اور شہباز شریف جدہ میں: ’یہ دلچسپ ہے کہ امریکہ اب پاکستان کو واحد ثالث قرار دے رہا ہے‘ٹرمپ کو چھت سے اُتارنے کے بدلے پاکستان کو کیا انعام ملے گا؟’عاصم اور شہباز۔۔۔ دنیا کو بچا لیا‘: ایران اور امریکہ کی جنگ بندی میں پاکستانی کردار پر دنیا کیا کہہ رہی ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More