Reuters
ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری جہازوں کو نکالنے کے لیے شروع کیا گیا ’پراجیکٹ فریڈم‘ مختصر مدت کے لیے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ اعلان بھی کیا کہ ایران کے ساتھ ’مکمل اور حتمی معاہدہ‘ طے پانے کی جانب پیش قدمی ہوئی ہے۔ اس فیصلے اور اعلان کے بعد کسی بڑی پیش رفت کے لیے امیدیں بلند ہوئیں اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت نیچے آئی۔
تاہم امریکی صدر نے کچھ ہی دیر بعد خود ہی ان توقعات پر پانی پھیر دیا۔
بدھ کے روز ایران نے کہا کہ وہ واشنگٹن کی جانب سے پیش کی گئی ایک نئی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، جب کہ امریکی میڈیا نے نامعلوم امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ دونوں فریق خلیج میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک صفحے کی یاد داشت کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
پاکستان میں ثالثوں کے قریب ایک ذریعے نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا: ’ہم یہ بہت جلد طے کر لیں گے۔ ہم اس کے قریب پہنچ رہے ہیں۔‘
منگل کی شام ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کی کہ پراجیکٹ فریڈم قلیل مدت کے لیے معطل کیا جائے گا تاکہ ’دیکھا جا سکے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔‘
اور پھر اس پوسٹ کے چند گھنٹے بعد انھوں نے اچانک لہجہ بدل لیا۔
بدھ کی صبح انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہونا ایک ’بڑا مفروضہ‘ ہے اور اگر یہ معاہدہ طے نہ پایا تو بمباری ’پہلے سے کہیں زیادہ شدت‘ کے ساتھ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
اس دھمکی سے پہلے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وائٹ ہاؤس میں کہا تھا کہ آپریشن ایپک فیوری، یعنی امریکی قیادت میں ایران پر عسکری حملے، ختم ہو چکا ہے۔
بدھ کی صبح بعد میں، ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے پی بی ایس (پبلک براڈکاسٹنگ سروس) کے ساتھ ایک مختصر ٹیلی فونک گفتگو کی اور ایران کے ساتھ معاہدے کے بارے میں امید ظاہر کی، ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا کہ ماضی میں ایسا ہونا مشکل ثابت ہوا ہے۔
انھوں نے کہا: ’میں پہلے بھی ان کے بارے میں ایسا ہی محسوس کر چکا ہوں۔ لہٰذا دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘
ٹرمپ نے پی بی ایس کو یہ بھی بتایا کہ اس بات کا ’امکان نہیں‘ کہ وہ ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے امریکی ایلچیوں کو پاکستانی دار الحکومت اسلام آباد بھیجیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس اور روئٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ واشنگٹن اور تہران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک صفحے کی، 14 نکات پر مشتمل یاد داشت کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس منصوبے کا مقصد جنگ کا خاتمہ کرنا ہے، جس کے بعد آبنائے ہرمز کو کھولنے، پابندیاں اٹھانے اور ایران کے جوہری عزائم کو محدود کرنے پر بات چیت ہو گی۔
’آپریشن فریڈم‘ روکنے پر پاکستانی وزیرِ اعظم صدر ٹرمپ کے شکرگزار: محض دو روز جاری رہنے والی کارروائی میں کیا کچھ ہوا؟کیا متحدہ عرب امارات پر حملوں نے اسلام آباد کی مشکلات بڑھا دیں؟پاکستان، انڈیا جنگ سے ایران، امریکہ مذاکرات تک: فیلڈ مارشل عاصم منیر عالمی سیاست کا اہم کردار کیسے بنے؟’نیا ایران‘: کیا اسرائیل اور ترکی کے بیچ مسلح محاذ آرائی ہو سکتی ہے؟
تاہم ایگزیوس نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ بعض امریکی عہدیدار اس معاہدے کے بارے میں شکوک رکھتے ہیں اور یہ بھی سوال ہے کہ ایران کی قیادت کے مختلف دھڑوں میں ایسے کسی معاہدے کی منظوری کون دے گا۔
ایران کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان اور ایرانی پارلیمان کے رکن ابراہیم رضائی نے ایکس پر لکھا کہ ایگزیوس کی رپورٹ میں بیان کیے گئے 14 نکات دراصل امریکی ’خواہشات کی فہرست‘ ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر امریکیوں نے ’ضروری رعایتیں‘ نہ دیں تو ایران ’کی انگلی بندوق کے گھوڑے پر ہے اور وہ تیار ہے۔‘
امریکہ میں خارجہ پالیسی کے ماہرین نے بھی محتاط رویہ اختیار کرنے پر زور دیا۔
وائٹ ہاؤس میں بائیڈن اور ٹرمپ انتظامیہ کے لیے مشرق وسطیٰ پالیسی کے سابق مشیر گرانٹ رملی نے بی بی سی کو بتایا: ’واضح طور پر انتظامیہ سمجھتی ہے کہ ایک معاہدہ ممکن ہے، اسی لیے انہوں نے پراجیکٹ فریڈم کو پہلے متعارف کرایا اور چند گھنٹوں بعد اچانک اسے روک دیا۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’لیکن ہم اس صورتحال سے پہلے بھی گزر چکے ہیں، اور ہم نے مختلف وجوہات کی بنا پر آخری لمحے میں مذاکرات کے منہدم ہوتے دیکھا ہے۔‘
ٹرمپ سات اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے بارہا یہ اشارہ دیتے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
17 اپریل کو انھوں نے نشریاتی ادارے سی بی ایس کو بتایا کہ ایران نے ’ہر بات پر اتفاق کر لیا ہے‘ اور امریکہ کو افزودہ یورینیم ہٹانے کی اجازت دے گا۔ تہران کے عہدے داروں نے یہ دعویٰ مسترد کر دیا۔
بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا: ’وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ اور ہم دیکھیں گے کہ وہ متفق ہو رہے ہیں یا نہیں۔‘
اگر ایک صفحے کی یاد داشت پر اتفاق ہو بھی گیا، تو رملی کے مطابق اس بات کا ’بالکل کوئی امکان نہیں‘ کہ تمام مسائل حل ہو جائیں گے، خصوصاً ایران کے جوہری مواد سے متعلق معاہدے کے نہایت تکنیکی پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے۔
اوباما انتظامیہ کے دوران ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کی باریک تفصیلات طے کرنے میں 20 ماہ سے زیادہ وقت لگا تھا۔
بحری جہاز رانی کے ماہرین نے کہا کہ جب اتوار کو پراجیکٹ فریڈم کا اعلان کیا گیا تو ابتدائی چند گھنٹوں میں اس کا اثر محدود رہا، صرف چند جہاز ہی آبنائے سے گزرے۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ تھنک ٹینک میں ایران پراجیکٹ کے ڈائریکٹر علی واعظ نے بی بی سی کو بتایا کہ پراجیکٹ فریڈم پر ردعمل میں ایران نے جہازوں پر فائرنگ کی اور متحدہ عرب امارات میں اہداف پر حملے کیے، غالباً اسی رد عمل کے بعد ٹرمپ اس نتیجے پر پہنچے کہ پراجیکٹ فریڈم ’مسئلے کو حل نہیں کرے گا۔‘
انھوں نے کہا: ’اس انتظامیہ میں پالیسی سازی کسی حقیقی عمل کے تحت نہیں کی جاتی۔ صدر فیصلے کسی طریقۂ کار کے بجائے بس فوری رد عمل کے تحت کرتے ہیں، اس لیے تضادات ہر وقت سامنے آتے رہتے ہیں۔‘
پینٹاگون میں مشرق وسطیٰ کے لیے سابق اسسٹنٹ انڈر سیکرٹری دفاع مک مُلرائے نے کہا کہ پراجیکٹ فریڈم کو معطل کرنے اور ممکنہ امن معاہدے کے درمیان کوئی تعلق اب بھی غیر واضح ہے۔
انھوں نے کہا: ’یہ واضح نہیں کہ پراجیکٹ فریڈم روکنے کی وجہ یہ ایک صفحے کی یاد داشت تھی یا یہ اس لیے روکا گیا کہ امریکی سکیورٹی کے باوجود بھی اس وقت آبنائے ہرمز میں پھنسے 1500 جہاز وہاں سے گزر نہ پاتے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’ایران بھی غالباً اسی کا تعین کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
’آپریشن فریڈم‘ روکنے پر پاکستانی وزیرِ اعظم صدر ٹرمپ کے شکرگزار: محض دو روز جاری رہنے والی کارروائی میں کیا کچھ ہوا؟ایرانی میڈیا کا امریکی اور اسرائیلی ہتھیاروں کی ’ریورس انجینیئرنگ‘ کا دعویٰ: ’میدان جنگ دفاعی صنعت کے لیے ریسرچ لیبارٹری ہے‘آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگیں کتنی خطرناک ہیں اور انھیں ہٹانا اتنا مشکل کیوں؟ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جانب سے ’بادل چوری‘ کے جھوٹے دعوؤں کو کیسے ہوا دیپاکستان، انڈیا جنگ سے ایران، امریکہ مذاکرات تک: فیلڈ مارشل عاصم منیر عالمی سیاست کا اہم کردار کیسے بنے؟