انڈیا نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پر ’محتاط امید‘ کا اظہار کیا جبکہ چین کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے ’تعمیری‘ بات چیت کی۔
خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق برکس کے قومی سلامتی کے مشیروں کے 16 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انڈیا کے مشیر برائے قومی سلامتی اجیت ڈوول نے کہا: ’انڈیا امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا خیر مقدم کرتا ہے۔ ہم پُرامید ہونے کے ساتھ ساتھ محتاط بھی ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ یہ کامیاب ہو گی۔ اس سے توانائی کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ آبنائے ہرمز کا کھلنا ایک نہایت خوش آئند پیش رفت ہے۔‘
برکس ایسے ممالک کا اتحاد ہے جن کی معیشتیں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔ اس میں شامل ممالک برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ کے ناموں کے پہلے حروف سے ہی ’برکس‘ مخفف بنایا گیا۔ تاہم بعد میں مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو بھی اس میں شامل کیا گیا۔
برکس اتحاد میں شامل ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کا دو روزہ اجلاس پیر سے نئی دہلی میں شروع ہوا۔
انڈین حکومت کے مطابق اجلاس کا موضوع ’دنیا کو درپیش غیر روایتی سکیورٹی چیلنجز‘ ہے اور اس میں سکیورٹی خدشات میں نئی ٹیکنالوجیز کے کردار پر بحث کی جائے گی۔ سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں شامل مندوبین سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت سے جنم لینے والے خطرات کا بھی جائزہ لیں گے۔
’ایک اہم مگر چھوٹا سا لفظ ’پاکستان‘ اس بیان سے غائب ہے‘: وزیراعظم مودی کی امریکہ، ایران امن معاہدے سے متعلق پوسٹ پر بحث’مجھے ڈر لگ رہا ہے، مجھے بچا لیں‘: چھ سالہ ہند رجب کی آخری کال پر بننے والی فلم، کیا انڈیا-اسرائیل تعلقات ریلیز میں تاخیر کی وجہ بنے؟پاکستان انڈیا کشیدگی کے بعد دہلی کی سفارت کاری پر سوال کیوں اٹھ رہے ہیں؟انڈین سکول کے شو میں مبینہ طور پر ’پاکستانی گانے پر پرفارمنس اور ممتاز قادری کی تصویر‘ دکھانے کے الزام میں پرنسپل اور اساتذہ کے خلاف مقدمہ
اے این آئی کے مطابق منگل کے روز اجلاس سے خطاب کے دوران انڈین مشیر قومی سلامتی اجیت ڈوول نے امریکہ، ایران معاہدے پر بھی بات کی۔ عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے اس معاہدے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اجیت ڈوول نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان یہ مفاہمت توانائی کی فراہمی میں زیادہ استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس اہم آبی گزر گاہ کے ذریعے سمندری نقل و حرکت میں بہتری آنے سے ’سپلائی چین کی رکاوٹیں دور ہوں گی اور کھاد اور کیمیکلز وغیرہ کے شعبے میں رسد کی کمی کو پورا کیا جا سکے گا۔‘
اے این آئی کے مطابق انڈین مشیر قومی سلامتی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بحری آمد و رفت میں کوئی رکاوٹ نہ پڑنے سے خطے کو وسیع تر معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔
اس سے قبل 15 جون کو انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا خیر مقدم کیا تھا، تاہم پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کا گلہ تھا کہ دیگر عالمی رہنما تو امریکہ اور ایران میں ثالثی کرانے والے ملک پاکستان کا ذکر کر رہے ہیں، پھر انڈین وزیر اعظم نے ایسا کیوں نہ کیا۔
اے این آئی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے نائب سیکریٹری غدیر نظامی پور بھی نئی دہلی میں ہونے والے برکس اجلاس میں شریک ہوئے، جبکہ چین کی نمائندگی وزیر خارجہ وانگ یی نے کی۔ روس اور متحدہ عرب امارات کے سیکریٹری برائے سلامتی اور جنوبی افریقہ کے ایوان صدر سے منسلک وزیر اس اجلاس میں شریک ہوئے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کے روز اجلاس کے موقع پر وانگ یی کی انڈین مشیر قومی سلامتی سے ملاقات ہوئی۔ روئٹرز نے انڈیا کی وزارت خارجہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اجیت ڈوول اور وانگ یی کے درمیان ’تعمیری‘ بات چیت ہوئی، دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات میں حالیہ پیش رفت پر گفتگو کی اور ’نوٹ کیا کہ (تعلقات) بتدریج معمول پر آنے کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے۔‘
واضح رہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک میں 2020 کی سرحدی جھڑپوں کے بعد کئی برس تک کشیدگی رہی اور 2024 سے تعلقات میں بہتری آئی تھی۔
روئٹرز نے چینی وزارت خارجہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے وانگ یی کا بیان رپورٹ کیا: ’ہمیں ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کا احترام کرنا چاہیے اور حساس امور کو مناسب طریقے سے سنبھالنا چاہیے۔‘
روئٹرز کے مطابق وانگ نے دو طرفہ مکالمے کے طریقہ کار کی بحالی اور تجارت، مالیات، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میڈیا میں تبادلوں کو فروغ دینے پر زور دیا۔
’وٹس اپ مین ہاؤ آر یو‘: امریکی نائب صدر کا فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مکالمہ اور ’انڈیا، پاکستان کے دو انتہائی اہم افراد‘’نقوی صاحب، کچھ کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف کو بھی دے دیں پلیز‘: امریکہ، ایران امن معاہدہ اور سوشل میڈیا پر صارفین کا ردعمل’گلف نیٹو‘ کا خواب: خلیجی ممالک کی رقابتیں، امریکی اثر و رسوخ اور پاکستان کا ممکنہ کردارایران، امریکہ یادداشت کے بعد ’پاکستان خطے میں مستقل سٹیک ہولڈر‘: اسلام آباد کی سفارتی کامیابی اس کے اپنے پڑوسیوں سے تعلقات بہتر بنائے گی؟ایف اے ٹی ایف کی نائب صدارت انڈیا کو ملنے پر اسد الدین اویسی کا مطالبہ، کیا پاکستان کے لیے نئی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں؟