میسی: 10 سال قبل ریٹائرمنٹ واپس لینے کے بعد ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا ریکارڈ

بی بی سی اردو  |  Jun 23, 2026

Getty Imagesمیسی جو بدھ کو 39 سال کے ہو جائیں گے اور گذشتہ تین سال سے میجر لیگ سوکر میں کھیل رہے ہیں

2016 میں لیونل میسی نے انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا جو کہ انھوں نے صرف دو ماہ بعد واپس لے لیا تھا۔

کوپا امریکہ کے فائنل میں چلی کے ہاتھوں شکست کے دوران میسی نے پینلٹی شوٹ آؤٹ میں ایک پینلٹی ضائع کی تھی اور ارجنٹینا نو برس کے دوران اپنا چوتھا بڑا فائنل ہار گیا تھا۔ وہ مزید مایوسی برداشت نہیں کر سکے تھے۔

اس وقت انھوں نے کہا تھا کہ ’میرے لیے قومی ٹیم کا سفر ختم ہو گیا ہے۔ میں نے اپنی تمام تر کوشش کر لی۔ چیمپیئن نہ بن پانا تکلیف دہ ہے۔‘

یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ 10 برس بعد اپنی 39ویں سالگرہ سے صرف دو دن پہلے وہ نہ صرف عالمی چیمپیئن ارجنٹینا کے لیے کھیل رہے ہوں گے بلکہ ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی بن چکے ہوں گے۔

ارجنٹینا کے ورلڈ کپ کے دوسرے میچ میں میسی نے آسٹریا کے خلاف اپنے مخصوص انداز میں بائیں پاؤں سے گیند کو خوبصورتی سے گول میں بھیجا۔ 38 سالہ کھلاڑی صرف اپنی ٹیم کو مضبوط شروعات نہیں دلا رہے تھے بلکہ نئیتاریخ بھی رقم کر رہے تھے۔

وہ ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں اور انھوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ وہ اب بھی عالمی فٹبال کے بادشاہ ہیں۔

اور پھر انھوں نے چھ یارڈ کے علاقے میں کھلاڑیوں کے ہجوم کے درمیان گیند کو گول میں ڈال کر اپنا دوسرا گول کیا اور ٹیم کو دو صفر سے جیت حاصل ہوئی۔

میسی اس ٹورنامنٹ میں شاندار فارم میں ہیں جبکہ ارجنٹینا اپنے اعزاز کا دفاع کر رہا ہے۔

پہلے میچ میں ہیٹرک، دوسرے میچ میں دو گول اور ریکارڈ قائم کرنے کے بعد تیسرے میچ میں اردن کے خلاف کھیل ابھی باقی ہے۔ وہ گولڈن بوٹ جیتنے کے مضبوط امیدوار ہوں گے۔

یہ وہ انفرادی اعزاز ہے جو ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی کو دیا جاتا ہے اور جو انھوں نے اب تک کبھی نہیں جیتا۔

میسی اب مسلسل چھ ورلڈ کپ میچوں میں گول کر چکے ہیں۔ یہ کارنامہ صرف دو اور کھلاڑیوں نے انجام دیا ہے، فرانس کے جسٹ فونٹین اور برازیل کے جائیر زینیو نے 1958 میں۔

اب تک کوئی بھی کھلاڑی سات مسلسل میچوں میں گول نہیں کر سکا۔

انٹر میامی کے اس فارورڈ نے ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔ وہ صرف ایک اسسٹ سے اس ریکارڈ کو پیچھے چھوڑنے والے ہیں جو 1966 سے اب تک کسی بھی کھلاڑی کے پاس ہے۔

فی الحال وہ یہ ریکارڈ اپنے آئیڈیل میراڈونا کے ساتھ مشترکہ طور پر رکھتے ہیں۔

کائلین ایمباپے، ایرلنگ ہالینڈ اور وینیسیئس جونیئر جیسے نئے سپر سٹارز اس ٹورنامنٹ میں اپنی پہچان ضرور بنا رہے ہیں، لیکن اگر وہ تاج حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انھیں میسی سے بہتر کارکردگی دکھانی ہوگی۔

تو آخر کیسے ممکن ہے کہ میسی جو بدھ کو 39 سال کے ہو جائیں گے اور گذشتہ تین سال سے امریکہ میں میجر لیگ سوکر کھیل رہے ہیں، وہ اب بھی سب سے بڑے سٹیج پر شاندار اور زبردست کارکردگی دکھا رہے ہیں؟

Getty Imagesآسٹریا کے خلاف دو گول کرنے کے بعد لیونل میسی اب ورلڈ کپ کے 28 میچوں میں 18 گول کر چکے ہیں اور انھوں نے جرمنی کے سابق سٹرائیکر میروسلاف کلوزے کا ریکارڈ توڑ دیا ہے جنھوں نے 16 گول کیے تھے ’مجھے نہیں لگا تھا کہ میسی اب بھی یہ کر سکتے ہیں‘

میسی اُس وقت 31 سال کے تھے جب ارجنٹینا 2018 میں روس میں فرانس کے خلاف سات گول والے ایک شاندار میچ میں باہر ہو گیا، تو ایسا لگا کہ ورلڈ کپ میں ان کی فیصلہ کن کارکردگیوں کا دور ختم ہو گیا ہے۔

لیکن چار سال بعد انھوں نے قطر میں اپنی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے ٹرافی جیت لی اور سات گول کیے، اور مزید چار سال بعد وہ پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں جنھوں نے مسلسل چھ ورلڈ کپ میچوں میں گول کیا۔

اولیویئر جیرود، جو 2018 میں فرانس کی اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے ٹورنامنٹ جیتا، اور خود بھی 39 سال کی عمر میں لیگ 1 میں کھیل رہے ہیں، میسی کی صورتحال کو سمجھتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ایک کھلاڑی کا اصل مقابلہ خود اپنے ساتھ ہوتا ہے، نہ کہ صرف نئی نسل کے ساتھ۔

جیرود کہتے ہیں ’یہ بالکل واضح ہے کہ میسی کو فٹبال سے اب بھی کتنا لگاؤ ہے اور یہ ان کی فطرت میں ہے کہ وہ ہمیشہ مقابلہ کرنا اور خود کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔‘

’اس عمر میں اعلیٰ سطح پر کھیلنے کے لیے آپ کو اپنی زندگی کے طریقوں پر خاص توجہ دینی پڑتی ہے، جیسے نیند، غذا، اور اپنے جسم کا خیال رکھنا، کیونکہ یہی آپ کا بنیادی ذریعہ ہے۔‘

’سب سے اہم چیز یہ ہے کہ آپ میں آگے بڑھتے رہنے کی خواہش، حوصلہ اور جذبہ باقی رہے۔‘

میسی اکیلے ایسے عالمی سپر سٹار نہیں ہیں جو اپنی تیسری دہائی کے آخر تک نوجوان کھلاڑیوں کو چیلنج دیتے رہے ہوں، ٹینس کے نووک جوکووچ حالیہ برسوں میں اس کی نمایاں مثال ہیں۔

لیکن ایسا کرنے کے لیے جسمانی فٹنس کے لیے مسلسل محنت اور خود پر بھرپور اعتماد کا امتزاج ضروری ہوتا ہے۔

مائیکل کال فیلڈ، جو 20 سال سے زیادہ عرصے سے پروفیشنل فٹبال میں سپورٹس سائیکالوجسٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں، کہتے ہیں ’اس عمر تک کھلاڑی خود کو اچھی طرح سمجھنے لگتے ہیں، اس لیے انھیں یہ سکھانے کی زیادہ ضرورت نہیں رہتی کہ بڑھتی عمر میں خود کو کیسے سنبھالنا ہے۔‘

’جسمانی لحاظ سے وہ سپورٹس سائنس کی ہر نئی پیش رفت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘

’لیکن ذہنی طور پر اصل بات یہ ہے کہ کیا ان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ روزمرہ کی مسلسل محنت کو برداشت کر سکیں۔ انھیں پورا سال انہی چیزوں پر محنت جاری رکھنے کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے، اور اگر آپ 25 سال سے ایسا کر رہے ہوں، تو اس کے لیے بہت زیادہ خود نظم و ضبط درکار ہوتا ہے۔‘

’انھیں انجری کے بعد بحالی کے مشکل عمل سے گزرنے کا عزم برقرار رکھنا ہوتا ہے، حالانکہ وہ پہلے ہی سب کچھ جیت چکے ہوتے ہیں۔‘

’جتنے بھی بڑے کھلاڑی میں نے دیکھے ہیں، وہ سب ایک بار اور کوشش کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے کام سے محبت کرتے ہیں۔‘

’اسی وجہ سے آپ بروس سپرنگسٹین یا میڈونا جیسے فنکاروں کو آج بھی کنسرٹس کرتے دیکھتے ہیں، یہ ان کی فطرت کا حصہ ہے۔‘

فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے 104 میچوں کا شیڈول اور نتائجایک میچ میں میسی کے تین گول اور دو ریکارڈ: ’اب یہ بحث ختم ہو چکی کہ سب سے عظیم کھلاڑی کون ہے‘30 سیکنڈ سے 12 سیکنڈ تک: ورلڈ کپ کے دو تاریخی گول بہترین فٹبالرز کی جسمانی ساخت میں تبدیلی کی نشانیفٹبال ورلڈ کپ میں پہلی بار پاکستان کی نمائندگی اور ’دائیں جوتے پر پاکستانی پرچم‘Getty Imagesمیسی کی گیند پر غیر معمولی مہارت نے وقت کے ساتھ ساتھ ان کی جسمانی پھرتی میں آنے والی کسی بھی کمی کو پورا کرنے میں مدد دی ہے

میسی کی گیند پر غیر معمولی مہارت نے وقت کے ساتھ ساتھ ان کی جسمانی پھرتی میں آنے والی کسی بھی کمی کو پورا کرنے میں مدد دی ہے۔

وین رونی، جو مانچسٹر یونائیٹڈ کی اس ٹیم کا حصہ تھے جو 2009 اور 2011 کے چیمپئنز لیگ فائنل میں بارسلونا اور میسی کے خلاف ہاری تھی، جہاں میسی نے دونوں فائنلز میں گول کیا اور مؤخر الذکر میں میچ کے بہترین کھلاڑی رہے۔

وہکہتے ہیں ’اس ورلڈ کپ میں آتے ہوئے میں نے تقریباً ارجنٹینا کے امکانات کو نظر انداز کر دیا تھا کیونکہ مجھے نہیں لگتا تھا کہ وہ ایک اور ٹورنامنٹ میں اس سطح پر کھیل جاری رکھ سکیں گے۔‘

’ایک چیز جو عمر کبھی بھی کھلاڑیوں سے نہیں چھین سکتی، وہ ان کی گیند پر مہارت ہے۔ اگر آپ اسے پینلٹی ایریا کے قریب لے آئیں، تو وہ ایسے کام کر سکتا ہے جو دوسرے نہیں کر سکتے۔‘

’یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا وہ پورے ٹورنامنٹ میں یہ فارم برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا، تو مجھے حیرت نہیں ہوگی اگر ہم انھیں اگلے ورلڈ کپ میں بھی ارجنٹینا کے لیے کھیلتے دیکھیں۔‘

’میسی فٹبال سے ایک چھوٹے بچے کی طرح محبت کرتے ہیں‘ BBC Sportارجنٹینا کے الجزائر کے خلاف پہلے میچ میں ابتدائی گول کرنے کے بعد میسی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے، اور اس کے بعد کے دنوں میں ان کے خاندان نے ایک بیان جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ ان کے والد ’صحت سے متعلق ایک مسئلے‘ کا سامنا کر رہے ہیں

عام طور پر ایک سادہ اور عاجز شخصیت سمجھے جانے والے میسی نے کبھی کبھار اپنی ذاتی شہرت پر خوشی کا اظہار بھی کیا ہے، جیسے 2017 میں جب انھوں نے ال کلاسیکو میں آخری لمحات میں جیت کا گول کرنے کے بعد ریال میڈرڈ کے شائقین کے سامنے اپنی شرٹ اٹھائی تھی۔

ان کے سابق بارسلونا ساتھی سیسک فابریگاس، بی بی سی آئی پلیئر کی ڈاکیومنٹری ’رائیولز: میسی بمقابلہ رونالڈو‘ میں کہتے ہیں ’جب وہ میدان میں اترتے ہیں تو وہ ایک بالکل مختلف انسان بن جاتے ہیں۔ وہ ہر قیمت پر جیتنا چاہتے ہیں۔‘

کامیابی حاصل کرنے کی یہی مسلسل خواہش ایک کھلاڑی کے کیریئر کو اس وقت تک جاری رکھ سکتی ہے جب وہ اپنے کھیل میں سب کچھ حاصل کر چکا ہو، اور ساتھ ہی کھیل سے حقیقی محبت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

کال فیلڈ کہتے ہیں کہ ’کھلاڑی ہمیشہ سمجھتے ہیں کہ ابھی کچھ باقی ہے حاصل کرنے کے لیے۔ وہ سوچتے رہتے ہیں کہ شاید کچھ ایسا ہے جسے انھوں نے ابھی مکمل طور پر حاصل نہیں کیا۔‘

’لیکن سب سے بڑھ کر وہ اس بچپن جیسی خوشی کو محسوس کرتے رہنا چاہتے ہیں جو انھیں اپنے پسندیدہ کام سے ملتی ہے۔ آپ میسی کو اب بھی گیند کے ساتھ کھیلتے دیکھتے ہیں، اور وہ آج بھی فٹبال سے ایک چھوٹے بچے کی طرح محبت کرتے ہیں۔‘

میسی کی شاندار کارکردگی کا موازنہ ان کے دیرینہ حریف کرسٹیانو رونالڈو سے کیا گیا، جو پرتگال کی جانب سے اپنا چھٹا ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں۔

41 سالہ رونالڈو اپنی ٹیم کے ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کے خلاف پہلے میچ میں زیادہ اثر نہیں ڈال سکے، اور جو لوگ انھیں اچھی طرح جانتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ میسی کی کارکردگی نے ان پر اثر ڈالا ہوگا۔

رونی کہتے ہیں کہ ’رونالڈو یقیناً بہت ناراض ہوئے ہوں گے۔ 41 سال کی عمر میں بھی وہ اب بھی سب سے زیادہ گول کرنے والے بننے کی توقع رکھتے ہیں۔ لیکن یہی رویہ ان کی عظمت کا حصہ ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو آگے بڑھنے پر مجبور کیا ہے۔‘

’ان دونوں میں خود پر یقین اور ایک مثبت انداز کا غرور ہے، جہاں وہ جانتے ہیں کہ انھوں نے کیا حاصل کیا ہے، انھیں کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں، اور اب ایمباپے اور ہالینڈ جیسے کھلاڑیوں پر ہے کہ وہ ثابت کریں کہ وہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘

ایک میچ میں میسی کے تین گول اور دو ریکارڈ: ’اب یہ بحث ختم ہو چکی کہ سب سے عظیم کھلاڑی کون ہے‘لامینے یمال: میسی کی گود میں کھیلنے والا بچہ جو فٹبال کی دنیا میں تہلکہ مچا رہا ہے30 سیکنڈ سے 12 سیکنڈ تک: ورلڈ کپ کے دو تاریخی گول بہترین فٹبالرز کی جسمانی ساخت میں تبدیلی کی نشانیمیسی نے انسٹاگرام پر رونالڈو اور ’انڈے کی تصویر‘ کے علاوہ اور کس کو پیچھے چھوڑاارجنٹائن کو فیفا ورلڈ کپ جتوانے والے لیونیل میسی کیا اب فٹبال کے سب سے عظیم کھلاڑی ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More