BBC
لاہور میں سنسکرت کے استاد پروفیسر ڈاکٹر شاہد رشید کہتے ہیں کہ ’سنسکرت جنوبی ایشیا کا مشترکہ ورثہ ہے، جسے جدید قومی سرحدوں کی تقسیم میں محدود کرنا بہت بڑی زیادتی ہے۔‘
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے گرمانی مرکزِ زبان و ادب نے پچھلے سال دسمبر میں سنسکرت کا کورس متعارف کروایا۔
اس خبر نے پاکستان اور انڈیا، دونوں جانب لوگوں میں حیرت اور دلچسپی پیدا کی کیونکہ تقسیم کے بعد یہ پہلی بار تھا کہ پاکستان میں یونیورسٹی کی سطح پر سنسکرت تدریس کا حصہ بنی تھی۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر شاہد رشید نے کہا کہ پاکستان میں مسلم پس منظر رکھنے والے شخص کا سنسکرت کی طرف آنا بہت سوں کے لیے حیرت کا باعث بنا۔ ’پذیرائی کے ساتھ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ وقت کا ضیاع ہے، اس سے نہ دنیاوی فائدہ ہے اور نہ دینی۔‘
انڈیا سے ملنے والے ردعمل پر وہ مسکرا کر بولے کہ ’بعض لوگوں نے کہا کہ یہ سب جھوٹ ہے، یا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے بنایا گیا کیونکہ ان کے خیال میں پاکستان میں ایسا کام ہو ہی نہیں سکتا۔‘
سنسکرت ایک ایسی معدوم ہوتی زبان ہے جو اب انڈیا میں بھی بہت کم لوگ جانتے ہیں، پاکستان میں اس کے احیا کی کوششوں پر بات کرتے ہوئے پروفیسر شاہد رشید نے کہا کہ ’میرے خیال میں پاکستان کی تاریخ صرف 1947 کی سیاسی تحریک سے شروع نہیں ہوتی۔‘
’ہمیں اس سے پیچھے جانا ہوگا۔ ہمیں وادیٔ سندھ کی تہذیب کو بھی دیکھنا ہوگا، ٹیکسلا کو بھی سمجھنا ہوگا۔ ہم اپنے ماضی سے دامن نہیں چھڑا سکتے۔‘
لاہور اور سنسکرت کا رشتہ
ڈاکٹر شاہد رشید کے بقول ’لاہور سنسکرت کا مرکز رہا۔‘ انھوں نے 1940 میں شائع ہونے والی سنسکرت گرامر کی ایک کتاب دکھاتے ہوئے کہا کہ ’یہاں انارکلی میں بہت سے ادارے تھے جو سنسکرت میں کتابیں چھاپتے تھے، جو پورے ہندوستان میں جاتی تھیں۔‘
انھوں نے سنسکرت کی تقریباً 200 جدید اور چند پرانی کتابیں جمع کی ہیں۔ کتابوں پر ہی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے پنجاب یونیورسٹی میں محفوظ سنسکرت کے قدیم نسخوں اور نایاب کتابوں کا ذکر کیا جنھیں سنسکرت کے سکالر الفریڈ وولنر نے تقسیم ہند سے بہت پہلے جمع کیا تھا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے اور سنہ 1936 میں وفات پاگئے۔
پروفیسر شاہد کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں کوئی ایسا سکالر نہیں جو ان کتابوں سے استفادہ کر سکے۔‘
پنجاب یونیورسٹی لائبریری کی ویب سائٹ کے مطابق سنسکرت کے پروفیسر ڈاکٹر وولنر کی ان نایاب کتابوں اور قدیم تحریری نسخوں کے اس ذخیرے میں سنسکرت، ہندی، پراکرت، شاردا، آندھرا، تامل اور نندناگری زبانوں اور رسم الخطوں کے 9,075 قدیم تحریری نسخے شامل ہیں جبکہ 2,000 سے زائد پام لیف (کھجور کے پتوں پر لکھے گئے قدیم تحریری نسخے) بھی موجود ہیں۔
سکالر الفریڈ وولنر کا مجسمہ آج بھی پنجاب یونیورسٹی کے باہر نصب ہے۔
اس کے علاوہ سنسکرت کے قدیم ترین معروف ماہرِ قواعد پانینی کی جائے پیدائش، گندھارا کی ایک قدیم بستی سلاطورہ بتائی جاتی ہے۔
محققین کے مطابق یہ مقام غالباً صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے سنگم پر واقع ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جو اب ’چھوٹا لاہور‘ کہلاتا ہے۔
پاکستان میں بولی جانے والی زبان سندھی میں سرحد پار انڈین نوجوانوں کی دلچسپی26 زبانوں پر عبور رکھنے والے مہم جُو رچرڈ برٹن، جو ناصرف غیرمسلموں کے لیے ممنوع شہر مکہ تک پہنچے بلکہ ’حجرِ اسود کو بوسہ بھی دیا‘وہ کشمیری قبیلہ جو موسیقی کے ذریعے انڈیا اور پاکستان کی سرحد پھلانگ رہا ہےانڈین طالبعلم نے سنسکرت کا 2500 سال پرانا معمہ حل کر دیاانجینیئرنگ سے سنسکرت تک کا سفر
پنجاب کے شہر بوریوالہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر شاہد رشید نے لاہور سے الیکٹریکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی، پھر سی ایس ایس کا امتحان دیا اور کچھ عرصہ سول سروس کا حصہ رہے۔
وہ اپنی نوکری چھوڑ کر برطانیہ میں آکسفورڈ سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کرنے چلے گئے اور واپس آ کر لاہور کے فورمین کرسچین کالج (ایف سی کالج) میں پڑھانے لگے۔ انھوں نے عربی، فارسی، یونانی، ہندی اور سنسکرت جیسی سیکھیں۔
سنسکرت کے استادوں کی عدم دستیابی چیلنج بنی تو انھوں نے ایک آن لائن پلیٹ فارم سے سنسکرت کے تین کورسز کیے۔ اس پلیٹ فارم پر ’کیمبرج انٹروڈکشن ٹو سنسکرت‘ کی مصنفہ انتونیو روپل سنسکرت پڑھاتی ہیں۔
وہ اب بھی ایف سی کالج میں سوشیالوجی کے استاد ہیں۔ البتہ لمز کے گرمانی سینٹر کے ڈائریکٹر علی عثمان قاسمی نے انھیں سنسکرت اور ہندی پڑھانے کی پیشکش کی اور یوں یہ سلسلہ شروع ہوا۔
وہ دو اوپن ورکشاپس کروا چکے ہیں اور صرف لمز کے طلبہ کے لیے دو کورسز پڑھا چکے ہیں جس میں لگ بھگ 32 طلبہ نے داخلہ لیا اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
BBCتدریس میں گائیکی کا سہارا
پروفیسر شاہد رشید نے سنسکرت پڑھانے کے لیے مختلف طریقوں کا سہارا لیا جن میں ایک گائیکی بھی ہے۔ وہ اور ان کے طلبا مختلف شلوک (قطعات) اور گرامر کے مختلف نکات گا کرسیکھتے ہیں۔
چونکہ یہ بولی جانے والی زبان نہیں رہی، اس لیے ان کے خیال میں ’زندگی سے اس کا تعلق آرکائیوز، عجائب گھروں اور تاریخی مقامات کے ذریعے بنتا ہے۔‘
وہ اپنے سٹوڈنٹس کو لاہور میوزیم، قلعہ جوگیاں اور ٹیکسلا کے مطالعاتی دورے بھی کراتے ہیں اور وہاں قدیم بدھ مت کے کتبوں کو پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کے ایک شاگرد آفتاب ناصر خود لمز میں استاد ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ٹیکسلا میں جولیان یونیورسٹی ہے، جو دنیا کی ابتدائی بدھ مت کی جامعات میں شمار ہوتی ہے لیکن ہمیں اس کے بارے میں زیادہ علم نہیں کیونکہ اس کا بیشتر ریکارڈ سنسکرت میں ہے۔‘
BBCڈاکٹر شاہد کی پہلی شاگرد ان کی اپنی بیٹی عافیہ شاہد تھیں جو بتاتی ہیں کہ انھوں نے 2015 میں پہلی بار یہ زبان سیکھنا شروع کی
لمز میں زیر تعلیم عبدالرحمان 1930 اور 1940 کی دہائی میں برطانوی راج کے خلاف چلائی جانے والی ہر تحریک پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ’اس تحریک سے متعلق جو آرکائیوز موجود ہیں، وہ زیادہ تر نوآبادیاتی دور کے ریکارڈ ہیں۔ تحقیق کے دوران مجھے سندھی زبان میں دیوناگری رسم الخط کے کچھ آرکائیوز ملے۔ وہاں سے میرا شوق پیدا ہوا کہ میں دیوناگری رسم الخط اور سنسکرت سیکھوں۔‘
’پاکستان میں سنسکرت کے کافی قدیم نسخے بھی موجود ہیں جو اب تک نہیں پڑھے گئے۔ میری خواہش ہے کہ آگے چل کر میں ان کو بھی پڑھ سکوں۔‘
ڈاکٹر شاہد کی پہلی شاگرد ان کی اپنی بیٹی عافیہ شاہد تھیں جو بتاتی ہیں کہ انھوں نے سنہ 2015 میں پہلی بار یہ زبان سیکھنا شروع کی۔
اس دور کے نوٹس دکھاتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’لوگوں کو بچپن کے بارے میں کارٹونز یا کھیل یاد ہوتے ہیں لیکن مجھے سنسکرت اور عربی یاد ہیں۔ میرا بچپن ان ہی زبانوں کے درمیان گزرا۔ اس وجہ سے میری اس زبان سے ایک ذاتی وابستگی ہے۔‘
’یہ زبان کافی پیچیدہ ہے لیکن جب آپ اس کی پیچیدگی کو کسی پہیلی یا لیگو کی طرح حل کر لیتے ہیں تو بہت لطف آتا ہے۔‘
طحہ واثق بھی لمز میں تاریخ کے شاگرد ہیں۔ سنسکرت سیکھنے میں دلچسپی پر بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’اگر آپ دیوناگری رسم الخط سیکھ لیں تو آپ دوسری زبانیں سیکھنے کے قابل بھی ہو جاتے ہیں۔ ہندی اردو سے کافی ملتی جلتی ہے، اس لیے اب میں اسے پڑھ سکتا ہوں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے ادبی ورثے تک رسائی حاصل کر سکیں۔‘
BBCپروفیسر رشید اور ان کے طلبہ کا خواب ہے کہ وہ پاکستان خصوصاً لاہور کی پنجاب یونیورسٹی کے وولنر سینٹر میں محفوظ سنسکرت کے نایاب قدیم نسخے اور کتابیں پڑھ سکیںپاکستان میں ’سنسکرت کمیونٹی‘ کا خواب
پروفیسر رشید اور ان کے طلبہ کا خواب ہے کہ وہ پاکستان خصوصاً لاہور کی پنجاب یونیورسٹی کے وولنر سینٹر میں محفوظ سنسکرت کے نایاب قدیم نسخے اور کتابیں پڑھ سکیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’سنسکرت کے بارے میں یہ سوچنا کہ یہ ہماری زبان نہیں یا کسی اور کی زبان ہے، ایک تنگ نظری اور تعصب ہے اور اب اس سوچ سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔‘
پروفیسر رشید نے کہا کہ ’میری خواہش ہے کہ ایک وقت آئے جب ہم مل کر مہا بھارت کا مکمل اردو ترجمہ کریں۔ اردو میں اس وقت جو کچھ دستیاب ہے وہ زیادہ تر مختصر خلاصے ہیں۔ اسی طرح رامائن کا بھی مکمل اور معیاری اردو ترجمہ شائع ہونا چاہیے۔‘
واضح رہے کہ پاکستان میں اردو زبان میں مہا بھارت اور رامائن کے تراجم موجود ہیں اور باآسانی مل جاتے ہیں۔
اسی کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر رشید بولے کہ ’ان میں سے اکثر ترجمے فارسی یا انگریزی سے کیے گئے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ یہ تراجم براہِ راست سنسکرت سے ہوں۔‘
پروفیسر رشید کے بقول ’یہ میرے چند خواب ہیں۔ ایک سنسکرت کمیونٹی وجود میں آئے، لوگ اس سے جڑ سکیں اور یہ سمجھ سکیں کہ اس کا تعلق کسی ایک مذہب سے نہیں۔ لوگوں کے دل کھلیں، ذہن کھلیں اور ہم اپنے مشترکہ ورثے کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔‘
26 زبانوں پر عبور رکھنے والے مہم جُو رچرڈ برٹن، جو ناصرف غیرمسلموں کے لیے ممنوع شہر مکہ تک پہنچے بلکہ ’حجرِ اسود کو بوسہ بھی دیا‘ہندی پڑھانے کی مخالفت، مراٹھی نہ بولنے پر تشدد: بی جے پی کی پالیسی جس نے بال ٹھاکرے کے بیٹے اور بھتیجے کو ایک کر دیاوہ کشمیری قبیلہ جو موسیقی کے ذریعے انڈیا اور پاکستان کی سرحد پھلانگ رہا ہےوہ میکسیکن خاتون جن کی زبان سمجھ نہ آنے پر انھیں 12 سال امریکی قید میں رہنا پڑاپاکستان میں بولی جانے والی زبان سندھی میں سرحد پار انڈین نوجوانوں کی دلچسپی