ایل این جی ٹرمینل نجی شعبے کو بھی لگانے کی اجازت دے دی، عمر ایوب

ہم نیوز  |  Jan 13, 2020

اسلام آباد:  وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں گیس کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایل این جی ٹرمینل نجی شعبے کو بھی لگانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے یہ بات ایوان زیریں (قومی اسمبلی) اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وہ پنجاب میں گیس کی قلت کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس پر حکومتی مؤقف بیان کررہے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب خان نے ایوان زیریں میں کہا کہ ملک میں گیس کے نئے ذخائر تلاش کرنے پر گزشتہ سالوں میں کام نہیں کیا گیا۔

عمر ایوب خان نے کہا کہ سردیوں میں گیس کی طلب بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جب کہ اس سال 40 سال کی ریکارڈ سردی پڑ رہی ہے۔ ایوان کو انہوں نے بتایا کہ کرک میں مول کی گیس فیلڈ کا مسلح افواج نے گھیراؤ کیا تو اس سے گیس کی سپلائی دو تین دن بند ہوئی۔

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ کرک میں ڈومیسٹک صارفین کو گیس کی فراہمی کے لیے کام کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دس سال میں گیس کی تلاش کے منصوبے نہیں لگائے گئے مگر اب گیس کی پیداواری سرگرمیاں شروع کرنی ہیں۔

وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے رکن اسمبلی طالب نکئی کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے اس پر ہمیں سخت اعتراض ہے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ آئندہ ہفتے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں قائم کمیٹی اراکین کے ترقیاتی منصوبوں کو دیکھے گی۔

رکن قومی اسمبلی طالب نکئی نے ایوان میں مؤقف اپنایا تھا کہ پنجاب کے اکثر علاقوں میں گیس بند ہے اور صارفین سخت پریشان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خدا کا خوف کریں اور وزرا ایوان میں غلط بیانی مت کریں۔

ہم نیوز کے مطابق اس موقع پر وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ آئل اینڈ گیس ہر درخواست پر لکھتی تھی کہ گیس دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے محکمے کو کہا کہ آپ ایسا نہیں کرسکتے ہیں اور صوبوں کے گیس منصوبے مکمل کرنا ہوں گے۔

‘پاکستان قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افرائی کرے’

وزیر دفاع پرویز خٹک نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ گیس کے نئے منصوبے اور اسکیمیں منظور کی جائیں گی۔

ہم نیوز کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے توجہ دلاؤ نوٹس متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوادیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More