طلال چوہدری کا ایک سال سے عائشہ رجب کے گھرآنا جانا تھا طلال ہمیشہ رات 12 بجے سے پہلے آیا کرتے تھے

روزنامہ اوصاف  |  Sep 27, 2020

فیصل آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری کے جھگڑے کے حوالے سے علاقہ مکینوں کا موقف بھی سامنے آگیا ۔ تفصیلات کے مطابق علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری کا گزشتہ ایک سال سے اس گھر میں آنا جا تھا ، وہ پہلے ہمیشیہ رات کو بارہ بجے سے پہلے آتے تھے ، تاہم واقعے کے روز رات دو بج کر چالیس منٹ پر آئے ، جبکہ ان کی گیٹ پر موجود سیکیورٹی گارڈ سے بھی تلخ کلامی ہوئی کیونکہ  گارڈ نے کہا تھا کہ پہلے اہلخانہ سے اس کی بات کروائی جائے پھر وہ انہیں جانے دیں گے لیکن طلال چوہدری نے گارڈ کی بات نہ مانی اور زبردستی اندر آگئے ، تاہم جیسے ہی وہ گھر میں گئے تو ان کا جھگڑا ہوا جس کے نتیجے میں وہ فوری باہر آئے اور اپنے پرائیویٹ گارڈ کو پکارا ۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری پر تشدد اور ن لیگی خاتون رکن قومی اسمبلی کے معاملے کی تحقیقات کیلئے پولیس کی 4 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق ڈی اسی پی پیپلزکالونی عبدالخالق کمیٹی کی سربراہی کریں گے ، پولیس کی طرف سے تشکیل دی گئی کمیٹی واقعے کی تحقیقات کی روشنی میں قانونی کارروائی تجویز کرے گی ، پولیس ٹیم مسلم لیگ ن کی خاتون رکن اسمبلی عائشہ رجب علی کا بیان قلمبند کرے گی۔ واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری جھگڑے میں زخمی ہو گئے تھے ، جس کے بعد انہیں لاہور کے نجی اسپتال میں داخل کروایا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری اور ن لیگ کی رکن قومی اسمبلی عائشہ رجب علی کے مابین جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد ان کے بھائیوں نے طلال چوہدری پر حملہ کیا ، جھگڑے کے نتیجے میں طلال چوہدری کا بازو دو جگہ سے فریکچر ہوا جب کہ ان کے بائیں بازو کی سرجری لاہور کے نجی اسپتال میں کی گئی ۔ اسپتال ذرائع کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ طلال چوہدری کے سر اور کمر پر شدید چوٹیں آئی ہیں ، جھگڑے میں طلال چوہدری کی مختلف ہڈیاں بھی فریکچر ہوئی ہیں ، طلال چوہدری کو نجی اسپتال کے ایگزیکٹو روم میں رکھا گیا ۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More