آج حکمران اور ان کے پشتی بان بوکھلائے ہیں، مولانا فضل الرحمان

بول نیوز  |  Nov 22, 2020

جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج حکمران اور ان کے پشتی بان بوکھلائے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے جلسے نے دھاندلی سے آئی حکومت کو مسترد کر دیا ہے۔

جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ نے کہا کہ افسوس مریم نواز دادی کی وفات کی وجہ سے خطاب نہیں کر سکی، نواز شریف، شہباز شریف اور پورے خاندان سے تعزیت کرتا ہوں جبکہ علامہ خادم حسین رضوی کی وفات پر بھی تعزیت کرتا ہوں۔

مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ عمران خان پاکستان کا گوروا چوف بننا چاہتا ہے، ہم نے اعلان جنگ کیا ہے، ان کے قلعے کو فتح کرنا ہے جبکہ میدان جنگ میں پیچھے ہٹنا گناہ کبیرہ یے۔

جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ریاست کا دارومدار مستحکم معیشت پر ہے لیکن موجودہ حکومت نے دو سال میں پاکستان کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان پاکستان کا گوروا چوف بننا چاہتا ہے،وہ جو نامعلوم ہے وہ ہم سب کو معلوم ہے جبکہ دھاندلی کرنے والا بھی ہمیں معلوم ہے اور تمام جماعتوں نے بھی انتخابات میں دھاندلی پر اتفاق کیا۔

جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ نے کہا کہ آج ہمارے ساتھ کوئی ملک تعلقات پر تیار نہیں، آج افغانستان پاکستان سے مایوس ہے ، چین کی ستر ارب ڈالر کی سرمایہ کاری تباہ کر دی گئی جبکہ ایران بھارت کی لابی میں چلا گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمھارے این آر او پر لعنت بھیجتے ہیں، ہم عمران خان کو این آر او نہیں دیں گے۔

جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کشمیر کے سوداگر بنے اور اس کو بیچا اور آج کشمیر پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہو، آج پاکستان میں خون اور زہر کی نہریں بہہ رہی ہیں جبکہ یہ حکومت اور اس کی داخلہ و خارجہ پالیسیاں بھی ناکام ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیر کمیٹی کا چئیرمین رہا ہوں اندر کی باتیں جانتا ہوں، کشمیر پر تمھارے ارادے بھی جانتا ہوں، تم کشمیریوں کی ستر سالہ قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے۔

جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ اس ملک کو حقیقی جمہوری فلاحی اور پارلیمانی پاکستان بنائیں گے اور ہم اپنی منزل کو پا کر رہیں گے۔

-->
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More