قومی اسمبلی میں فرانس کے خلاف قرارداد کے بعد تحریک لبیک کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 20, 2021

ویب ڈیسک — 

پاکستان کی قومی اسمبلی میں فرانس کے سفیر کی ملک بدری سے متعلق قرارداد پیش کیے جانے کے بعد کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان نے ملک بھر میں دھرنے اور احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

کالعدم ٹی ایل پی کی مرکزی شوریٰ کے رہنما علامہ شفیق امینی نے منگل کو ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا مرتبہ ہوا ہے کہ قومی اسمبلی میں اس نوعیت کی قرارداد آئی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اب کسی بھی احتجاج اور دھرنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ ہمارے مطالبے پر عمل ہو چکا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ لاہور میں مرکزی دھرنے سمیت جہاں بھی احتجاج ہو رہا ہے اسے ختم کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل پاکستان میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے بعد فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے لیے قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی گئی تھی۔

البتہ، حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے اجلاس میں شرکت نہیں کی جب کہ مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ قرارداد پر اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

منگل کو پیش کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کے لیے قومی اسمبلی میں بحث کی جائے۔

قرارداد کے مطابق تمام یورپی ممالک بالخصوص فرانس کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے گا جب کہ مسلمان ممالک کے ساتھ بھی اس معاملے پر سیر حاصل بات کی جائے گی۔

قرارداد میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے اس معاملے کو عالمی فورمز پر اُٹھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی معاملات ریاست کو ہی طے کرنے چاہئیں اور کوئی فرد، گروہ یا جماعت بے جا غیر قانونی دباؤ نہیں ڈال سکتا۔ صوبائی حکومتیں احتجاج کے لیے جگہ مختص کریں تاکہ عوام کے روزمرہ معمولاتِ زندگی میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو شیڈول تھا۔ تاہم پیر کی شب لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید کالعدم تحریکِ لبیک کے سربراہ مولانا سعد رضوی کے ساتھ مذاکرات کے بعد اسے منگل کی سہ پہر کے لیے ری شیڈول کیا گیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو رکن قومی اسمبلی امجد علی خان نے فرانس سے متعلق قرارداد پیش کی۔ وزیرِ پارلیمانی اُمور علی محمد خان نے اس معاملے پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کی کمیٹی بنانے کی تحریک پیش کر دی جسے ایوان نے منظور کر لیا۔

شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم ٹی ایل پی ملک بھر سے دھرنوں کو ختم کرے گی اور خاص طور پر لاہور کی مسجد رحمت للعالمین سے بھی دھرنا ختم ہو گا جس کے بعد حکومت اور مذکورہ تنظیم کے درمیان بات چیت و مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے گا۔

وزیرِ داخلہ کے مطابق کالعدم ٹی ایل پی کے جن لوگوں کے خلاف مقدمات درج ہیں انہیں خارج کر دیا جائے گا اور ان خارج ہونے والے مقدمات میں فورتھ شیڈول مقدمات بھی شامل ہوں گے۔

شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ وہ کالعدم ٹی ایل پی سے ہونے والے مذاکرات کی مزید تفصیلات منگل کی شام یا بدھ کو پریس کانفرنس کے دوران بتائیں گے۔

جیل ذرائع کے مطابق یہ ملاقات پانچ گھنٹے طویل تھی جس میں علما نے سعد رضوی کو دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔

پیر کو ہی وزیرِ اعظم عمران خان نے قوم سے اپنے مختصر خطاب میں کہا تھا کہ فرانس سے تعلقات ختم کرنے اور سفیر کو بے دخل کرنے سے پاکستان کو ہی معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یاد رہے کہ فرانس میں گزشتہ برس پیغمبرِ اسلام کے توہین آمیز خاکوں کے خلاف تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے ملک بھر میں بھرپور احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین نے اسلام آباد میں دھرنا بھی دیا اور فرانسیسی سفیر کی ملک بدری اور فرانس کی اشیا کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔

بعدازاں حکومت اور مظاہرین کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس میں حکومت نے پارلیمنٹ کے ذریعے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی یقین دہانی کرائی۔

SEE ALSO:ٹی ایل پی اور میرا مقصد ایک، لیکن سفیر واپس بھیجنا مسئلے کا حل نہیں: عمران خان

کالعدم ٹی ایل پی کا احتجاج ایک مرتبہ پھر اس وقت خبروں کی زینت بنا جب تنظیم کے امیر مولانا سعد رضوی نے حکومت سے ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف لاہور سے اسلام آباد کی جانب مارچ کی دھمکی دی جس پر حکومت نے 12 اپریل کو انہیں حراست میں لے لیا۔

سعد رضوی کی گرفتاری کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں ان کی تنظیم کے کارکنوں نے دھرنے دینا شروع کیے اور فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبات دوہرائے۔

پیر کو قوم سے خطاب کے دوران وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پیغمبرِ اسلام کی توہین کے معاملے پر کالعدم ٹی ایل پی اور حکومت کا مقصد ایک ہی ہے تاہم فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجنا مسئلے کا حل نہیں۔

وزیرِ اعظم نے الزام عائد کیا تھا کہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے کالعدم ٹی ایل پی کا ساتھ دے رہی ہیں جب کہ مظاہروں کے دوران سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں چلتی رہیں اور چار لاکھ ٹوئٹس میں سے 70 فی صد فیک اکاؤنٹس سے کی گئی تھیں جن میں بھارتی اکاؤنٹس بھی شامل تھے جو پاکستان میں خانہ جنگی کے ٹرینڈز چلا رہے تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More