فلائیڈ کیس کے بعد امریکی محکمہ انصاف کا منی ایپولس میں پولیس کاروائیوں پر تحقیقات کا آغاز

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 21, 2021

ویب ڈیسک — 

امریکی محکمہ انصاف نے بدھ کے روزمنی ایپولس میں پولیس کاروائیوں پر جامع سول تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، یہ تحقیقات جیوری کے اس فیصلے کے بعد شروع کی گئی ہیں جس میں تعین کیا گیا کہ پولیس افسر ڈیرک شوین نے جارج فلوئیڈ کو قتل کیا تھا۔

صدر جو بائیڈن کی جانب سےامریکہ میں منظم نسل پرستی کے مسئلے سے نمٹنے کے وعدے کے بعد، اٹارنی جینرل میرک گارلینڈ کی جانب سے یہ تحقیقات پہلا بڑا قدم ہے۔ گارلینڈ کا کہنا تھا کہ اِن تحقیقات میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ کیا محکمہ پولیس ایک خاص انداز ، بشمول مظاہروں کے دنوں میں، بے جا طاقت کا استعمال کرتا رہا ہے؟ ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ تحقیقات میں یہ جانچ بھی کی جائے گی کہ کیا محکمہ متعصبانہ رویہ بھی رکھتا ہے اور کیا اس کا رویہ نفسیاتی مسائل کا شکار افرد کے ساتھ غیر قانونی ہے؟

رائیٹرز کا کہنا ہے کہ شاوین کی سزا یابی، امریکہ کی نسل پرستانہ تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، اور سیاہ فام امریکیوں کے ساتھ قانون کے نفاذ میں رویوں کی سرزنش ہے۔ فلوئیڈ کی ہلاکت پر ملک بھر میں مظاہرے ہوئے تھے۔

گارلینڈ کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں کہ یہ زخم کتنے گہرے ہیں اور سماج کے بہت سے گروپوں نے اس کا براہ راست تجربہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلوئیڈ کی ہلاکت پر آنے والے فیصلے سے منی ایپولس میں پولیس سے متعلق ممکنہ امور کا حل نہیں نکلتا۔

اس ے پہلے گارلینڈ کہہ چکے ہیں کہ پولیس کے خراب رویے کو روکنا ان کی ترجیح ہے۔

گارلینڈ کا کہنا تھا کہ محکمہ انصاف کی جانب سے شروع کی جانے والی ایک الگ تحقیقات میں یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ کیا فلوئیڈ کی ہلاکت میں ملوث پولیس افسران نے اس کے شہری حقوق کی پامالی کی تھی۔

بدھ کے روز گارلینڈ کا کہنا تھا کہ محکمہ انصاف کے عہدیداروں نے پہلے سے ہی منی ایپولس میں مختلف گروپوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تا کہ ان کے قانون کے نفاذ سے متعلق تجربات کے بارے میں پوچھا جائے اور اس کے علاوہ وہ پولیس افسران سے بھی ان کو ملنے والی تربیت اور مدد کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More