کوئٹہ میں سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والا دھماکہ خودکش حملہ تھا: وزیر داخلہ شیخ رشید

بی بی سی اردو  |  Apr 22, 2021

سرینا ہوٹل
Getty Images

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ گذشتہ روز صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے نجی ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والا حملہ خودکش تھا جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ’خودکش حملہ آور ہوٹل کی پارکنگ میں گاڑی کے اندر ہی بیٹھا رہا۔ حملہ آور کی فی الحال شناخت نہیں ہو سکی ہے تاہم فرانزک کے لیے رپورٹس بھیج دی گئی ہیں۔‘

یاد رہے کہ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والے زور دار دھماکے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ گیارہ کے زخمی ہوئے تھے۔وزیر داخلہ کے مطابق فی الحال زخمی ہونے والے چھ افراد ہسپتال میں زیر علاج ہیں جن میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔

وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ چیف سیکریٹری بلوچستان کو مزید کارروائی کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو داخلی طور پر غیر مستحکم کرنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے مگر پاکستان کی فوج اور دیگر سکیورٹی ادارے مکمل طور پر چاق و چوبند ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کوئٹہ: پولیس موبائل کے قریب دھماکہ، چار اہلکار ہلاک

کوئٹہ میں صوبائی اسمبلی کے قریب دھماکہ، چھ ہلاک

کوئٹہ دھماکے میں پولیس افسر سمیت کم از کم 14 ہلاک

گذشتہ روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو نے کہا تھا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ’دھماکہ خیز مواد ایک گاڑی میں تھا۔‘ سول ہسپتال کوئٹہ کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ نے ابتدا میں چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی تاہم بعدازاں ایک زخمی بھی دم توڑ گیا تھا۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والے پانچوں افراد کی شناخت ہو چکی ہے، جن میں سرینا ہوٹل کے فرنٹ آفس مینیجر اور پولیس کے ایک کانسٹیبل بھی شامل ہیں۔

سرینا ہوٹل
Getty Images

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ خودکش حملے میں سی فور کیٹیگری کا دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

شیخ رشید نے کہا کہ چین کے سفیر کوئٹہ میں کئی دنوں سے موجود ہیں اور محفوظ ہیں۔ ’آج انھوں نے سٹاف کالج سے خطاب بھی کیاگ ہے۔

یہ دھماکہ ایک ایسے موقع پر ہوا تھا جب چین کے سفیر کوئٹہ میں موجود ہیں تاہم بلوچستان کے وزیر داخلہ نے بتایا تھا کہ جب دھماکہ ہوا اس وقت چین کے سفیر ہوٹل میں موجود نہیں تھے بلکہ کوئٹہ کلب میں تھے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ ان کی چینی سفیر سے ملاقات ہوئی ہے اور ان کے عزائم بلند ہیں۔

انھوں نے کہا کہ چینی سفیر نے بتایا ہے کہ وہ اپنا کوئٹہ کا دورہ مکمل کر کے جائیں گے۔

ڈی آئی جی کوئٹہ اظہر اکرام نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سرینا ہوٹل میں پولیس کی سکیورٹی بھی موجود ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ علاقے کا ایس ایچ او بھی دھماکے کے وقت ہوٹل کے اندر موجود تھا۔ ڈی آئی جی پولیس نے بتایا کہ دھماکے کی نوعیت کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

سرینا ہوٹل
Getty Images

سرینا ہوٹل کوئٹہ کا واحد فائیو سٹار ہوٹل

سرینا ہوٹل کوئٹہ کا واحد فائیو سٹار ہوٹل ہے اور جو ملکی اور غیر ملکی مہمان کوئٹہ آتے ہیں ان کی بڑی تعداد سرینا ہوٹل میں رہائش اختیار کرتی ہے۔

سیرینا ہوٹل کوئٹہ کے ہائی سکیورٹی زون میں واقع ہے جس کے سامنے کوئٹہ کینٹونمنٹ، ساتھ میں بلوچستان اسمبلی اور بلوچستان ہائی کورٹ واقع ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مذمت

وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے کوئٹہ سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کی ہے۔

اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں نے اپنی بزدلانہ کارروائیوں کے لیے مقامی ہوٹل کو نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے پوری قوم متحد ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More