بجلی ٹیرف میں اضافےکا آئی ایم ایف مطالبہ ناجائزہے، وزیرخزانہ

سماء نیوز  |  May 03, 2021

فائل فوٹو

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ بجلی ٹیرف میں اضافے کا انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) کا مطالبہ ناجائز ہے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ٹیرف بڑھانے سے آئے روز مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس پر آئی ایم ایف سے بات کرنا انتہائی ضروری ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا فیض اللہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں قائمہ کمیٹی خزانہ کو ملکی معاشی صورتحال پر بریفنگ میں وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام پر نظرثانی کا عندیہ بھی دیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت کا پہیہ چل نہیں رہا اور ٹیرف بڑھانے سے کرپشن بڑھ رہی ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ زیادتی کی۔

جی ڈی پی گروتھ پانچ فیصد تک نہ لے کر گئے تو آئندہ چار سال تک ملک کا اللہ حافظ ہے، وزیر خزانہ

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں اور آئی ایم ایف سے کہا کہ گردشی قرضہ کم کریں گے لیکن ٹیرف بڑھانا سمجھ سے باہر ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت کی بحالی اور استحکام کیلئے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔ گزشتہ دو ماہ سے محصولات میں اضافہ ہو رہا ہے اس لیے نئے ٹیکسز کی بجائے ٹیکس نیٹ بڑھانے کی ضرورت ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ ہمارے ملک میں شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم معاشی پالیسی نہیں جبکہ چین، ترکی اور بھارت نے معاشی پالیسیوں میں تسلسل رکھا۔ زراعت، صنعت، پرائس کنٹرول اور ہاوسنگ سیکٹر میں بہتری کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بریفنگ میں بتایا کہ صرف اعشاریہ 25 فیصد ہاؤسنگ مارگیج ہے لیکن ہاؤسنگ سیکٹر کی بحالی سے 20 دوسری صنعتوں کا پہیہ چلے گا۔ صحت اور تعلیم کے لیے بہت کم خرچ کیا جاتا ہے، تمام صوبوں کے محاصل کا 85 فیصد ملک کے 9 بڑے شہروں پر خرچ ہوتا ہے۔

 شوکت ترین نے بتایا کہ ڈیٹ مینجمنٹ کی ری پروفائلنگ کی ہے۔ حکومت جن اداروں کو نہیں چلا سکتی ان کی نجکاری کر دی جائے گی، غریب طبقے کو اشیائے ضروریہ پر ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا پلان ہے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے صنعتی شعبے کے لیے 200 ارب روپے کے فنڈ کے قیام کی تجویز بھی دی۔

وزیر خزانہ کی تبدیلی ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب حکومت کو آئی ایم ایف سے 50کروڑ ڈالر کی قسط موصول ہوئی تھی۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے جمعرات 25 مارچ کو منظوری دی تھی جبکہ 6 ارب ڈالر کے قرض میں سے اب تک ایک ارب 95 کروڑ ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More