خالد حمید کی یادیں: دلیپ کمار سے دو یادگار ملاقاتیں

وائس آف امریکہ اردو  |  Jul 07, 2021

واشنگٹن ڈی سی — 

لاکھوں، کروڑوں لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والے لیجنڈ فن کار یوسف خان عرف دلیپ کمار ہم سے رخصت ہو گئے۔ دلیپ کمار میں اللہ نے کچھ ایسی خصوصیات رکھی تھیں کہ وہ پردہٴ اسکرین پر ہوں یا اس سے باہر ان کو لوگ اسی طرح دیوانہ وار چاہتے تھے۔

ایک صدی سے لوگ ان کے دیوانے رہے اور نہ جانے کب تک ان کی شخصیت کا سحر قائم رہے گا۔

مجھے اس بات کا اندازہ اس وقت ہوا جب وہ پاکستان تشریف لائے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ وہ پشاور میں اپنے آبائی گھر کو دیکھ سکیں۔

خصوصی انتظامات کے تحت وہ پشاور پہنچے۔ قصّہ خوانی بازار کی سیر کی اور پھر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ سیکیورٹی خدشات کی بنا پر ان کے اس دورے کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ لیکن نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو—

اور خبر ہونا بھی تھی۔ دلیپ کمار شہر میں ہوں اور ان کی خوشبو نہ پھیلے، یہ تو بہت مشکل ہی تھا۔ لہٰذا اپنے یوسف خان کو دیکھنے سارے بھائی، بہنیں، بچے اور بوڑھے سڑکوں پر امڈ آئے۔ گاڑیوں کا قافلہ منجمد ہو گیا۔

پھر یوسف خان کے لیے گھر دیکھنے جانا تو ناممکن تھا۔ مسئلہ یہ درپیش ہو گیا کہ انہیں اس ہجوم سے نکالا کیسے جائے؟ سیکیورٹی کی بھاری نفری لگائی گئی۔ لوگوں کو پیچھے دھکیلا گیا اور جیسے تیسے خان صاحب کو بحفاظت وہاں سے نکالا گیا۔ یوں وہ اپنے آباؤ اجداد کی میراث دیکھنے کی حسرت لیے پاکستان سے رخصت ہو گئے۔

ان کے ساتھ ہی وارث صاحب بھی کھڑے تھے۔ دونوں نے بڑے تپاک سے ہمارا خیر مقدم کیا اور شکریہ ادا کیا۔ میں نے کہا کہ شکریہ تو آپ کا کہ اس نادر موقع پر ہمیں یاد رکھا۔

حبیب اللہ نے وارث صاحب کا تعارف کرایا۔ معلوم ہوا کہ وہ بھی دلیپ صاحب کے بڑے عاشقوں میں سے ہیں۔ کاروبار کے سلسلے میں زیادہ تر باہر رہتے ہیں اور آتے جاتے بھارت ضرور جاتے ہیں دلیپ کمار سے ملنے۔ جانے سے پہلے ان کی فرمائش پوچھ لیتے ہیں اور دلیپ صاحب عموماً کسی پاکستانی شاعر و ادیب کی کتاب یا کسی میوے کی فرمائش کرتے ہیں۔ دونوں کے درمیان تعلق بڑھتے بڑھتے بے تکلف دوستی میں بدل گیا ہے اور محبت کا یہ عالم ہے کہ وارث صاحب نے اپنے لیے ایسی بیوی کا انتخاب کیا ہے جس کی شکل سائرہ بانو سے ملتی ہے۔ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانہ تیراچوں کہ ہماری دونوں بچیاں ہماری گود میں سو رہی تھیں، ماحول اور لوگ ان کے لیے اجنبی تھے۔ اس لیے ہم ان کو لے کر ڈرائنگ روم کے کونے میں ایک صوفے پر جا بیٹھے۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ شور ہوا اور گاڑیوں کا ایک قافلہ آ کر رکا۔ اور تھا جس کا انتظار، وہ شاہ کار آ گیا۔دل آویز مسکراہٹ لیے ہمارا ہیرو گاڑی سے اترا۔ ساتھ ان کے بھائی اور کچھ اور لوگ بھی تھے۔ باوجود اس کے کہ مہمانوں کو ایک ترتیب سے قطار میں کھڑا کیا گیا تھا۔ لیکن دلیپ کمار کی شخصیت کا طلسم ایسا تھا کہ اچھے اچھے معزز لوگ سب کچھ بھول کر لائن توڑ کر ان کی طرف لپکے۔ ہم تو دور کھڑے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے جو ہمارے لیے بڑا خوبصورت اور بڑا یادگار لمحہ تھا۔مہمانوں سے ملتے ملاتے دلیپ صاحب دور ایک صوفے پر بیٹھے تو بچے ان کے ارد گرد ہو گئے۔ وہ بھی بچوں سے کھیلنے لگے۔ کبھی ان کو لطیفے سناتے، کبھی ہاتھوں اور رومال سے شکلیں بناتے۔ بچے کھل کھلا کر ہنستے تو وہ بھی خوش ہوتے۔ یہ سادگی دیکھ کر محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ اتنی بڑی شخصیت درمیان میں ہے۔اس دوران وارث صاحب کی نظر ہم پر پڑی تو وہ فوراً آئے اور کہنے لگے، "آپ کی ملاقات ہوئی۔"

میں نے کہا کہ ایک تو ان کے گرد بھیڑ بہت ہے۔ دوسرا ہمارے بچے نیند میں ہیں۔ اس لیے ہم یہیں بیٹھ گئے۔ انہوں نے کمال کیا کہ تھوڑی دیر میں دلیپ صاحب کو لے کر ہماری طرف آ گئے اور ہمارا ایسا تعارف کرایا کہ ہمارے آئیڈیل فن کار ہمارا ہاتھ تھام کر وہیں بیٹھ گئے۔ دلیپ صاحب کا محبت کا یہ بھی ایک انداز تھا کہ مخاطب کا ہاتھ اپنے نرم اور گداز ہاتھوں میں اس طرح دیر تک تھامے رہتے کہ آپ ان کے پیار اور شفقت کی گرمی اور لمس محسوس کر سکتے تھے۔میں تو ایک خواب کی حالت میں تھا۔ کچھ معلوم نہیں کہ وقت کیسے گزر رہا تھا۔ یہ یاد ہے کہ جب انہوں نے فن کے حوالے سے بات شروع کی تو میں نے کہا کہ آپ کی گفتگو اور مکالموں کی ادائیگی میں ایک خاص ردھم ہوتا ہے۔ تو گویا ہوئے کہ، "کائنات کا سارا نظام ہی ایک ردھم پر چل رہا ہے۔"کیا برجستہ، جامع اور مختصر جواب تھا۔ ان کا یہ تاریخی جملہ آج بھی میرے کانوں میں گونجتا ہے۔ان کے ساتھ گزارے ہوئے وہ تمام یادگار لمحات ذہن پر نقش ہیں۔ ان کے گداز اور نرم ہاتھوں کا لمس اور ان کی محبت کی گرمی آج بھی محسوس ہوتی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More