حکومت کی آئی ایم ایف کے مطالبے پر عملدرآمد کی تیاری

سماء نیوز  |  Nov 25, 2021

حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبے پر عملدرآمد کی تیاری کرلی ہے۔ پاور پلانٹس، مشینری اور ایل پی جی کی درآمد پر 17 فیصد جی ایس ٹی عائد کرنے کی تجویز ہے،سیلز ٹیکس عائد ہونے کے بعد ساڑھے تین سو ارب روپے کی سیلز ٹیکس چھوٹ ختم ہوجائیں گی۔

ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق حکومت ٹیکس قوانین  ترمیمی بل 2021 کی صورت میں منی بجٹ جلد لائے گیبجٹ میں کھانے پینے کی غیر ضروری درآمدی پیکڈ اشیاء کی حوصلہ شکنی ہوگی۔موبائل فونز، جیولری اور قیمتی دھاتیں بھی اضافی سیلز ٹیکس کی زد میں آںے کی مجوزہ فہرست میں شامل ہیں۔ اس کےعلاوہ درآمدی گاڑیوں پرکچھ عرصے کیلئے پابندی یا ڈیوٹی ٹیکس بڑھانے پر بھی غور جاری ہے جبکہ چینی کمپنیز، سی پیک منصوبوں،گوادرایکسپورٹ پراسیسنگ زون،بنیادی خوراک، تعلیم اور صحت کی سہولیات پر استثنی برقرار رہے گا۔

تفصیلات کےمطابق دواؤں کےدرآمدی خام مال،پولٹری و کیٹل فیڈ اور پھلوں پر اسٹینڈرڈ جی ایس ٹی نافذ کرنے کی تجویز ہے۔

زرائع وزارت خزانہ  کے مطابق اسٹیٹ بینک ایکٹ 1956 میں ترامیم کا مسودہ بھی تیارکر لیا گیا، منظوری کی صورت میں حکومت اسٹیٹ بینک سے قرضہ حاصل نہیں کر سکے گی۔

مشیرخزانہ کا اگلے ہفتے تک منی بحٹ لانے کا اعلان

دو روز قبل سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے تک منی بحٹ لائیں گے، چارج سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ منی بجٹ میں 350 ارب نیا ٹیکس نہیں ہے بلکہ یہ وہ ٹیکسز ہیں جس پر لوگوں نے کسی نہ کسی طریقے سے استثنیٰ لیا ہوا تھا، آئی ایم ایف نے ہمیں کہا ہے کہ ٹیکس نظام میں مزید اصلاحات کریں۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ لوگ اراضی رکھ لیتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے اسلئے اب لوگوں کےاثاثوں کاجائزہ لےکر ٹیکس لگائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس پر ہمیں شک نہیں کہ آپ ہدف سے زیادہ کلیکٹ کریں گے مگر ہم پالیسی کے مطابق چلنا چاہتے ہیں۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے 700 ارب روپے ٹیکسیشن کی بات کی تھی میں نے ساڑھے300 ارب پر منوایا۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے ہمیں کہا کہ سیلز ٹیکس کے ریٹس کو یونیفارم کرکے 17 فیصد کردیں، ٹيکس نيٹ کو بڑھانے کيلئے اقدامات کررہے ہيں، جس سے ٹيکس کلیکشن ميں اضافہ ہوگا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More