متحدہ عرب امارات کے دفاتر میں اب ساڑھے 4 دن کام ہوگا

سماء نیوز  |  Dec 07, 2021

دفاتر میں کام کرنے والے اس بات سے واقف ہوں گے کہ عموماً ہفتے میں 6 دن کام کیا جاتا یے اور ہفتے کے آخر میں ایک چھٹی ملتی ہے جو شروع ہوتے ہی ختم ہوجاتی ہے۔

مگرمتحدہ عرب امارات دنیا کا ایسا ملک بن گیا ہے جس نے دفتروں میں کام کرنے والے ملازمین کیلئے آسانی پیدا کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب ساڑھے چار دن کام ہوگا جبکہ جمعہ کی سہ پہر سے لے کر اتوار تک ملازمین کو چھٹی دی جائے گی۔

اعلان کے مطابق یو اے ای کی وفاقی حکومت کے تمام محکمے یکم جنوری 2022 سے نئے ویک اینڈ پر منتقل ہوجائیں گے۔ ابوظہبی اور دبئی کی حکومتوں نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ نئے ورک ویک اسٹرکچر پر عمل کریں گے۔

اس اقدام کا مطلب سرکاری عملے کے لیے نئے اوقات کار کا نفاذ ہے جو پیر سے جمعرات کے دن صبح 7.30 بجے شروع ہوتے ہیں اور دوپہر 3.30 بجے ختم ہوتے ہیں جبکہ جمعہ کے اوقات کار صبح 7.30 سے 12.00 بجے تک ہیں۔

امارات بھر میں جمعہکے خطبات اور نماز دوپہر 1.15 بجے سے شروع ہوں گی اس دوران سرکاری عملے کو جمعہ کےروز گھر سے کام کرنے کے انتظامات کرنے کے ساتھ ساتھ کام کے اوقات میں لچک دی جائےگی۔

خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے ہفتے میں 5 روز کام کا دنیا بھر میں رائج طریقہ بدلتے ہوئے مختصر مقامی ورکنگ ویک متعارف کرایا ہے۔

یو اے ای حکومت کے میڈیا آفس نے کہا کہ توسیع شدہ ویک اینڈ کام اور ذاتی زندگی کے مابین توازن میں اضافے اور سماجی بہبود کو بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے جبکہ اس سے ملک کی معاشی مسابقت آگے بڑھانے کے لیے کارکردگی میں بھی اضافہ ہوگا۔

معاشینقطہ نظر سے نیا ورکنگ ویک متحدہ عرب امارات کو عالمی مارکیٹ کے ساتھ بہتر طور پرہم آہنگ کرے گا، جو عالمی اقتصادی نقشے پر ملک کی اسٹریٹجک حیثیت کی عکاسی کرتاہے۔

میڈیا آفس کے مطابق یہ ورک شیڈول کئی ممالک کے ساتھ ہموار مالی، تجارتی اور اقتصادی لین دین کو یقینی بنائے گا، جس سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہزاروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے مضبوط بین الاقوامی کاروباری روابط اور مواقع فراہم ہوں گے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More