سیاچن گلیشیئر: انڈین فوجی چندرا شیکھر ہربولا کی لاش 38 سال بعد برف سے برآمد

بی بی سی اردو  |  Aug 16, 2022

ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں لاپتہ ہو جانے والے ایک انڈین فوجی کا جسد خاکی 38 برس کی تلاش کے بعد سیاچن سے مل گیا ہے۔

چندرا شیکھر ہربولا اور ان کے 19 ساتھی 1984 میں سیاچن گلیشیئر پر گشت کرتے ہوئے ایک برفانی تودے کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد 15 افراد کی لاشیں تو مل گئی تھیں تاہم پانچ لوگ لاپتہ تھے۔

سیاچن دنیا میں بلند ترین محاذِ جنگ ہے اور وہاں فوجیوں کی ہلاکت کی بڑی وجہ جنگ یا تصادم نہیں بلکہ شدید موسم رہا ہے۔

انڈیا کی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق جس فوجی دستے کو چندرا شیکھر ہربولا کی لاش ملی ہے انھیں ایک اور لاش بھی ملی ہے تاہم اس کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

چندرا شیکھر ہربولا کے لواحقین ریاست اترکھنڈ کے ضلع ہلدوانی میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لاش مل جانے سے انھیں اطمینان ملے گا۔ ان کے گاؤں میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ آخری رسومات کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی فوجی کی لاش کئی دہائیوں بعد برفانی پہاڑوں سے ملی ہو۔ 2014 میں ایک اور گشت کرنے والے یونٹ کو توکارم پٹیل کی لاش لاپتہ ہونے کے 21 سال بعد ملی تھی۔

سیاچن، انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک متنازع علاقہ ہے۔ اس خطے سے فوجیں واپس بلانے کے لیے مذاکرات ہوئے ہیں تاہم وہ کامیاب نہیں رہے ہیں۔

جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سیاچن گلیشیئر کے کنٹرول کے لیے 1984 میں لڑائی بھی ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

سیاچن: لاحاصل جنگ اور جنگلی گلابوں کی سرزمین

سیاچن: پاکستان اور انڈیا کے لیے انا کی دلدل

’انڈین فوجیوں کو خوراک اور کپڑوں کی کمی کا سامنا‘

مگر آج چار دہائیوں بعد بھی دونوں ممالک کے فوجی اس انتہائی مشکل محاذ پر موجود ہیں۔

2012 میں کم از کم 129 پاکستانی فوجی سیاچن گلیشیئر کے قریب ایک برفانی تودہ گرنے سے برف تلے دب گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد انڈیا اور پاکستان میں یہ آوازیں اٹھیں کہ اس خطے سے دونوں ممالک کے فوجیوں کو واپس بلایا جائے تاہم دونوں ممالک اس پر اتفاق نہیں کر سکے تھے۔

ایسے ہی حالات میں 2016 میں 10 انڈین فوجی اور 2019 میں مزید چار انڈین فوجی مارے گئے تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More