لمپی سکن وائرس 15 ریاستوں تک پھیل گیا، انڈیا میں ایک لاکھ مویشی ہلاک

اردو نیوز  |  Sep 30, 2022

انڈیا کی پندرہ ریاستوں میں مویشیوں میں لمپی سکن کی بیماری پھیلنے سے تقریباً ایک لاکھ گائے اور بھینسیں ہلاک جبکہ بیس لاکھ سے زیادہ بیماری میں مبتلا ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوی ایٹڈ پریس کے مطابق لمپنی سکن کا وائرس کم از کم پندرہ ریاستوں میں پھیل چکا ہے جہاں گزشتہ تین ہفتوں میں گائے اور بھینسوں میں ہلاکتوں کی تعداد دگنی ہوگئی ہے۔ 

اس وائرس سے متاثر ہونے سے نہ صرف جانور کی موت واقع ہو سکتی ہے بلکہ دودھ کی پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے اور جانور میں کمزوری کے باعث بچہ پیدا کرنے میں بھی مسائل ہوتے ہیں۔

انڈیا میں پہلے ہی شدید موسمی حالات کے باعث کسانوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ رواں سال اپریل میں گندم کی پیداوار بہت زیادہ کم تھی اور اب اس وائرس نے کسانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

لمپی سکن کا وائرس کیڑوں سے پھیلتا ہے جو مچھروں یا چچڑوں کی طرح خون چوستے ہیں۔ اس سے متاثرہ گائے اور بھینسوں کو بخار کے بعد جلد پر پھوڑے بن جاتے ہیں۔

اس وائرس سے چھوٹے کسان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جنہوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے مویشی پالنے کو ترجیح دی.

انڈیا کے شمالی شہر چندی گڑھ میں ماہر زراعت دویندر شرما کا کہنا ہے کہ لمپی سکن کی بیماری ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے جو گزشتہ سالوں میں بڑھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بیماری سے متاثر ہونے والے جانوروں کی تعداد حکومتی اعداد و شمار سے کئی زیادہ ہے۔

ریاست راجستھان کے محکمہ لائیو سٹاک کے ڈائریکٹر نریندرہ موہن سنگھ کا کہنا ہے کہ یہ ایک متعدی مرض ہے جو مغربی ریاستوں سے مشرق کی جانب پھیل رہا ہے۔

ریاست ہماچل پردیش میں بھی متاثرہ کسانوں نے حکومت سے مالی امداد کی اپیل کی ہے۔

یہ وائرس سال 2019 میں پہلی مرتبہ جنوبی ایشیا میں منظر عام پر آیا تھا اور تب سے انڈیا، چین اور نیپال تک پھیل گیا ہے۔ اس سے قبل سال 1929 میں لمپی سکن کا پہلا کیس زیمبیا میں ریکارڈ ہوا جو بعد میں افریقہ کے دیگر ممالک میں پھیلا اور اب یورپ کے کچھ حصوں میں بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More