’میاں مسلمانوں‘ کا تنازع اور بڑھتی تقسیم: انڈیا کی چار ریاستوں میں انتخابات جو بی جے پی کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے

بی بی سی اردو  |  Mar 23, 2026

Getty Imagesچار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ہونے والے انتخابات قومی سیاست پر دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں

انڈیا میں اپریل کے دوران چار ریاستوں میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں جو کہ مبصرین کے مطابق وفاق کی حکمراں جماعت بی جے پی کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں مگر ان میں مسلمانوں کا فیصلہ کن کردار ہو سکتا ہے۔

گذشتہ ہفتے انڈیا کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے چار ریاستوں اور ایک یونین ٹیرٹری (مرکز کے زیر انتظام علاقے) میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کیا۔

یہ انتخابات اگلے مہینے کی 9، 23 اور 29 تاریخوں کو ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔

یہ انتخابات مشرقی انڈیا کی دو ریاستوں آسام اور مغربی بنگال کے علاوہ جنوبی انڈیا کی دو ریاستوں کیرالہ اور تمل ناڈو کے ساتھ ساتھ ایک یونین ٹیرٹری پانڈی چیری میں ہوں گے، جس میں 17 کروڑ چار لاکھ ووٹرز 824 سیٹوں کے لیے اپنی رائے دے سکیں گے۔

چیف الیکشن کمیشنر گیانیش کمار نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم صاف و شَفّاف انتخابات کروانے کے لیے پرعزم ہے اور اس کے لیے سارے انتظامات پورے کر لیے گئے ہیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ جن ریاستوں میں انتخابات ہو رہے ہیں، ان میں سے تین ریاستوں میں ووٹرز کا بڑا حصہ مسلم آبادی پر مشتمل ہے۔

ان ریاستوں میں آسام میں مسلمانوں کی آبادی 35 فیصد ہے، کیرالہ میں ان کی آبادی 27 فیصد ہے جبکہ مغربی بنگال میں ان کی آبادی کا تناسب 27 فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔

تمل ناڈو میں چھ فیصد ہے جبکہ پانڈی چیری مسلم آبادی کا تناسب چھ فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔

یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ ان چار ریاستوں اور ایک یونین ٹیریٹری میں صرف ایک ریاست (آسام) میں ہی وزیر اعظم نریندر مودی کی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی براہ راست حکومت ہے۔

Getty Imagesمغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کی حکومت ہے اور بی جے پی کی ایک زمانے سے وہاں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی جی توڑ کوشش جاری ہے

دیگر تین ریاستوں میں تین الگ الگ سیاسی جماعتوں کی حکومت ہے۔ کیرالہ میں کمیونسٹ پارٹی، بنگال میں ترنمول کانگریس اور تمل ناڈو میں دراوڑ منّیتر کزگم (ڈی ایم کے) کی حکومت ہے۔ جبکہ پانڈی چیری میں بی جے پی کی حمایت والی آل انڈیا این آر کانگریس کی حکومت ہے۔

تاہم سیاسی اعتبار سے پانڈی چیری کوئی خاص حیثیت نہیں رکھتی کیوں کہ یہاں اسمبلی کی محض 30 سیٹیں ہیں۔ جبکہ مغربی بنگال میں 294، تمل ناڈو میں 234، کیرالہ میں 140 اور آسام میں 126 نشستیں ہیں۔

ایسے میں پہلا سوال یہ قائم ہوتا ہے کہ مسلمان، جو ان انتخابات میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی حیثیت میں ہیں، ان کا کیا رخ ہے اور سیاسی جماعتوں کی کامیابی یا ناکامیابی کا انحصار ان کے ووٹز پر کتنا ہے؟

سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چاہے جو بھی پارٹی ہو ان انتخابات میں مسلم ووٹز ان کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

’میاں مسلمانوں‘ کا تنازع

سیاسی امور پر نظر رکھنے والے اور کولکتہ کی عالیہ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد ریاض ایک اہم نقطہ بیان کرتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ویسے تو آج کل پورے انڈیا میں ہی مسلمانوں کا نام لیے بغیر کسی بھی سیاسی جماعت کو ووٹ نہیں ملتا لیکن یہ بات خاص طور پر ریاست آسام، مغربی بنگال اور کیرالہ کے سلسلے میں زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ آسام اور مغربی بنگال کی مثال دیتے ہوئے وہ مزید کہتے ہیں کہ جہاں ایک طرف آسام میں بی جے پی مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول بنا کر، ان کو ملک مخالف اور بنگلہ دیشی بتاکر ہندؤں کا ووٹ حاصل کرتی ہے تو وہیں دوسری طرف مغربی بنگال میں ٹی ایم سی اپنے آپ کو مسلمانوں کا محافظ اور خیر خواہ پیش کر کے ان کے ووٹ حاصل کرتی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں بی جے پی رہنما اور آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے یہ بات ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ'مسلمانوں کے ساتھ ہمیں کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟ انڈیا ایک سیکولر ملک ہے۔ ہر کسی کو برابر حقوق حاصل ہیں۔ آسام کی جنگ مسلمانوں کے خلاف نہیں بلکہ بنگلہ دیشی مسلمانوں کے خلاف ہے۔'

ان کے مطابق ان کی اصل لڑائی ’میاں مسلمانوں‘ سے ہے نہ کہ آسام کے مقامی مسلمانوں سے۔

تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ 'میاں مسلمان' ایک ایسی سیاسی اصطلاح ہے، جس سے ریاست میں مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کو نشانہ بنا کر ہندوں کا ووٹ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے ایک چھوٹے طبقے (جسے عام طور پر مقامی مسلمان قرار دیا جاتا ہے) کی بھی حمایت حاصل کر سکیں۔ واضح ہو کہ 'میاں مسلمانوں' سے مراد وہ مسلمان ہیں جو کہ بنگلہ سے ملتی جلتی زبان بولتے ہیں۔ ان کے آبا و اجداد موجودہ بنگلہ دیش سے آئے تھے۔ ایسا کرنے والے صرف مسلمان ہی نہیں تھے، بلکہ ان میں ہند بھی شامل ہیں لیکن نشانہ صرف مسلمانوں کو بنایا جاتا ہے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ ایسا کیوں ہے کہ بنگال کے مقابلے آسام میں مسلمانوں کا تناسب زیادہ ہونے کے باوجود بی جے پی کو کامیابی مل جاتی ہے، محمد ریاض کا کہنا تھا کہ آسام کی نسبت بنگال کے مسلمان زیادہ منظم ہیں اور تاریخی طور پر بھی مغربی بنگال میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول رہا ہے۔

ساتھ ہی بنگال میں زیادہ تر مسلمان ایک ہی پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں (حال کے برسوں میں ٹی ایم سی اور اس سے پہلے کمیونسٹ پارٹیز) جبکہ آسام میں یہ ووٹ کانگیس اور محمد بدرالدین اجمل کی قیادت والی سیاسی جماعت آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کے درمیان تقسیم ہو جاتا ہے۔

اس سلسلے میں سینیئر صحافی ثمیر پرکایستھ ایک اور نقطہ بیان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2023 میں ہِمنت بسوا سرما کے دور حکومت کے دوران ہی آسام میں حد بندی کی کارروائی مکمل کی گئی، جس کے تحت اسمبلی حلقوں کی نئی سرحدیں مقرر کی گئیں ۔ جس کے نتیجے میں مسلم یا اقلیتی اکثریت والی نشستوں کی تعداد کم ہو گئی۔

سمیر بتاتے ہیں کہ پہلے جہاں مسلم اکثریت والی نشستیں تقریباً 30 تھیں، وہ کم ہو کر 22 رہ گئی ہیں۔ ساتھ ہی کئی ایسی نشستیں بھی بدل گئی ہیں، جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن تھا۔ اُن کے مطابق، 'اس کا سیدھا فائدہ اُن پارٹیوں کو ہوگا جو اکثریتی ووٹوں پر زیادہ منحصر ہیں، جیسے بی جے پی۔ یہی وجہ ہے کہ ہِمنت اب اپنی سیاست کو اور کھلے انداز میں اکثریتی پولرائزیشن کے گرد رکھ سکتے ہیں کیونکہ تبدیل شدہ انتخابی علاقوں کے حساب سے اُنھیں اقلیتی ووٹوں کی اتنی ضرورت نہیں رہی۔

دریں اثنا جمعہ کے روز مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ اور ٹی ایم سی کی سربراہ ممتا بنرجی نے 2026 کے اسمبلی انتخابات کے لیے کولکتہ میں پارٹی کا منشور جاری کیا۔

اس موقع پر انھوں نے کہا: ’جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، تب سے ہر انتخاب میں ہم نے کئی طرح کی سازشیں دیکھیں ہیں، لیکن اس بار تو سازش کی تمام حدیں پار کر دی گئی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح سے مغربی بنگال پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور ریاست کی حکومت اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا: 'بی جے پی حکومت ایک گہری سازش کر رہی ہے۔ ملک کو تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا گیا ہے۔ کئی ریاستوں میں قانون و انتظامی صورتحال ٹھیک نہیں ہے اور لوگ خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ممتا نے مزید کہا کہ 'بنگال میں ایک غیر اعلانیہ صدراتی حکومت' تھوپ دی گئی ہے، کیونکہ بی جے پی جانتی ہے کہ اسمبلی انتخابات میں اس کی شکست ہوگی۔ کیا وزیراعظم مودی بنگال کی عوام سے اتنے ڈرے ہوئے ہیں؟'

Getty Imagesتین ریاستوں مغربی بنگال، آسام اور کیرالہ میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 25 فیصد سے زیادہ ہے

خیال رہے کہ حال کے برسوں میں ممتا کو مودی کا مقابل سمجھا جاتا ہے۔ الیکشن ریسرچر آشیش رنجن مانتے ہیں کہ جیت ہار اپنی جگہ لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اج کے وقت میں صرف ممتا ہی مودی کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ اور یہ بات گذشتہ کئی برسوں میں بار بار ثابت بھی ہوا ہے۔ کیوں بی جے پی اور مودی کہ تمام تر کوششوں کے باوجود بھی ان کو بنگال میں کامیابی نہی مل سکی ہے۔ اور اس بار بھی اس کی بہت کم امید نظر آتی ہے۔

بی جے پی کی فتح کے کتنے امکانات ہے؟

ماہرین ان انتخابات کو قومی سیاست کے لحاظ سے بھی اہمیت کے حامل بتا رہے ہیں اوران کے مطابق اس کے نتائج کے اثرات دور رس ہوسکتے ہی۔ وہ اسے اگلے سال ملک کی سات دیگر اور اہم ریاستوں کے لیے ہونے والے اسمبلی انتخابات سے بھی جوڑ کر دیکھتے ہیں۔

واضح ہو کہ آئندہ سال فروری۔مارچ کے مہینے میں پانچ ریاستوں (اتر پردیش، منی پور، پنجاب، اتراکھنڈ اور گوا) اور نومبر۔دسمبر میں دو دیگر ریاستوں (گجرات اور ہماچل پردیش) کے انتخاب ہونے ہیں۔ان سات ریاستوں میں سے پانچ میں بی جے پی کی حکومت ہے، جبکہ دیگر دو میں کانگریس (ہماچل پردیش) اور عام آدمی پارٹی (پنجاب) کی حکومت ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگلے ماہ ہونے والے انتخاب کے نتائج کا اثر آئندہ ہونے والے انتخابات پر بھی مرتب ہوں گے اور یہ صرف بی جے پی تک محدود نہیں ہے، دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے بھی یہ انتخابات اہم ہیں۔

BBCکہتے ہیں کہ مسلمان اب کسی کا ووٹ بینک نہیں ہیں لیکن ان پر ووٹ بینک ہونے کے الزامات لگ‏تے رہتے ہیں

سیاسی تجزیہ نگار اور سینیئر کالم نگار رشید قدوائی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ 'یوں تو یہ انتخابات تمام سیاسی جماعتوں کے اہم ہیں لیکن خاص طور ان ریاستوں کی حکمراں جماعتوں کے لیے بھی اہمیت کے حامل ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'یہ انتخابات بی جے پی کے لیے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ اس کی پوری کوشش ہے کہ وہ آسام میں اپنا اقتدار قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں بھی اپنی حکومت بنا سکے۔ اگر ایسا نہیں بھی ہو پاتا ہے تو اس کی پوری کوشش ہوگی وہ ایک مضبوط سیاسی فورس کے طور پر ابھرے تاکہ مستقبل میں ان کے لیے کامیابی کی راہ آسان ہو سکے۔'

اس سلسلے میں انھوں نے انتخابات کی تاریخوں کے متعلق ایک اہم پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق انتخابات کی تاریخیں بھی اسی لحاظ سے رکھی گئی ہے کہ اس سے بی جے پی کے رہنماؤں کو انتخابی مہم چلانے میں آسانی ہو۔

آشیش رنجن بھی قدوائی کے اس تجزیہ سے متفق نظر آتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دعوے میں سچائی نظر آتی ہے۔ واضح ہو کہ آسام، کیرالہ اور پانڈی چیری میں 9 اپریل، تامل ناڈو میں 23 اپریل اور مغربی بنگال میں 23 اور 29 اپریل کو انتخابات ہونے ہیں۔

دونوں مبصرین کا خیال ہے کہ آسام میں بی جے پی پہلے سے مضبوط ہے اور کیرالہ و پانڈی چیری میں بی جے پی کے لیے زیادہ امکانات نہیں ہیں۔ اس لیے ان سب کو ساتھ رکھا گیا ہے۔

Getty Imagesآسام کے وزیر ا‏علی کے مسلم مخالف متنازع بیانات کے خلاف مظاہرے بھی نظر آئے ہیں

جبکہ بنگال اور تمل ناڈو میں الیکشن بعد میں رکھا گیا ہے، جس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو سکتا ہے، کیوںکہ اس کی وجہ سے ان کی ٹاپ لیڈر شپ کو کیمپین کے لیے زیادہ وقت مل سکے گا۔

موجودہ انتخابات کے سلسلے میں رشید قدوائی ایک اور اہم بات کہتے ہیں کہ 'انتخابات کے نتائج سے یہ بھی واضح ہوگا کہ بی جے پی مزید مضبوط ہو رہی ہے یا پھر کانگریس کی قیادت والی انڈیا الائنس کو سبقت مل رہی۔

'اگر بی جے پی پچھلے انتخابات کے مقابلے اس بار ان ریاستوں میں خاطر خواہ زیادہ سیٹیں حاصل کرپاتی ہے تو یہ اس کے لیے بڑی کامیابی ہوگی۔ اگر نتیجہ اس کے برعکس ہوتا ہے تو یہ پیغام جائے گا کہ اپوزیشن پارٹیز مضبوظ ہو رہی ہیں اور بی جے پی کی ساکھ کم ہو رہی ہے۔'

قدوائی کے مطابق 'ان انتخابات میں بی جے پی کا اصل مقصد آسام میں واپسی کرنا ہی نہیں ہے بلکہ مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں جیت کے قریب پہنچنا اور کیرالہ میں اپنے آپ کو مظبوط کرنا ہے اسی لیے اس نے اپنی پوری طاقت اس میں جھونک دی ہے۔'

قدوائی کی طرح آشیش رنجن نے بھی کہا کہ یہ انتخابات بی جے پی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں، خاص طور پر کمیونسٹ پارٹی، کانگریس، ڈی ایم کے اور ترنمول کانگریس کے لیے بھی اہم ہے۔

انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اگر کیرالہ میں کمیونسٹ پارٹی حکومت سے بے دخل ہوجاتی ہے تو انڈیا میں ایک طرح سے کمیونسٹ پارٹی کا شِیرازہ بکھر جائے گا کیوں کہ اس وقت صرف کیرالہ ہی واحد ریاست ہے جہاں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت ہے۔

کیرالہ میں کمیونسٹ پارٹی کے ہارنے سے کانگریس کو فائدہ ہوگا کیونکہ وہاں مقابہ کمیونسٹ پارٹی اور کانگریس کے درمیان ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اگر مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں ترنمول اور ڈی ایم کے کمزور ہو جاتی ہے تو اس کا براہ راست اثر ملک کی قومی سیاست اور آئندہ سال ہونے والے انتخابات پر پڑے گا۔

’پوائنٹ بلینک شاٹ‘: وزیر اعلیٰ آسام کی وائرل اے آئی ویڈیو پر تنقید، ’جیل جانے کو تیار ہوں مگر ہمیشہ بنگلہ دیشی دراندازوں کے خلاف رہوں گا‘بہار انتخابات میں ’غیر معمولی جیت‘ نے مودی کو انڈیا کا ’سب سے طاقتور رہنما‘ بنا دیا’ووٹ چوری‘: انتخابی فہرستوں میں جعلی ووٹرز کی شمولیت اور اہل ووٹرز کے اخراج سے متعلق الزامات جنھوں نے انڈین سیاست کو ہلا کر رکھ دیاانڈیا کی نئی ووٹر لسٹوں میں ’مردہ ووٹر، ڈبل ووٹ اور مسلمانوں کا اخراج‘: ’یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت پر دھبہ ہے‘ہندی پڑھانے کی مخالفت، مراٹھی نہ بولنے پر تشدد: بی جے پی کی پالیسی جس نے بال ٹھاکرے کے بیٹے اور بھتیجے کو ایک کر دیا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More