کیا ایرانی میزائل واقعی لندن، پیرس اور برلن تک پہنچ سکتے ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Mar 23, 2026

Atta Kenare / AFP via Getty Imagesماہرین کے مطابق ایران نے اہداف کو نشانہ بنانے کا ارادہ ہی نہیں کیا تھا بلکہ یہ محض ایک واضح انتباہی پیغام تھا

تہران کی جانب سے دو روز قبل بحرِ ہند کے جزیرے ڈیاگو گارسیا میں واقع برطانیہ اور امریکہ کے مشترکہ فوجی اڈے کی جانب طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ ایران کے اس اقدام کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری تناؤ میں ایک نمایاں اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اگرچہ یہ میزائل مقررہ ہدف تک نہیں پہنچ سکے، تاہم اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کی جانب سے اس نوعیت کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کیے گئے۔

اسرائیلی فوج کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اب تہران کے پاس ایسے میزائل ہیں جو ’لندن، پیرس یا برلن‘ تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تہران نے تاحال یہ میزائل فائر کرنے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی جبکہ اس حوالے سے ایرانی میڈیا نے بھی زیادہ تر غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کا حوالے دیتے ہوئے اس خبر کو کوریج کی۔

ماہرین اب اس ناکام ایرانی حملے کے ممکنہ اثرات پر غور کر رہے ہیں، خاص طور پر اس بات پر کہ مستقبل میں ایران کے ممکنہ اہداف کی فہرست کتنی وسیع ہو سکتی ہے۔ یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ کیا یورپی دارالحکومتوں بشمول برلن، پیرس اور لندن کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے؟

برطانیہ کے وزیراعظم سٹارمر نے کہا ہے کہ ایسا کوئی انٹیلیجنس جائزہ نہیں جو اس جانب اشارے کرے کہ ایران برطانیہ کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ جبکہ برطانوی کابینہ کے ایک وزیر نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے اس دعوے کی کوئی تصدیق موجود نہیں ہے کہ ایران کے پاس ایسے میزائل ہیں جو لندن تک پہنچ سکتے ہیں۔

دوسری جانب نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے اس دعوے کی ’جانچ پڑتال‘ کر رہے ہیں کہ ایران کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو یورپی دارالحکومتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رٹّے نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے پروگرام ’فیس دی نیشن‘ کو بتایا کہ نیٹو ’اس وقت اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکتا۔‘

Reuters

بی بی سی نیوز فارسی کی غنچہ حبیب آزاد کے مطابق ’ایران کا میزائل پروگرام طویل عرصے سے عالمی تنقید کا مرکز رہا ہے۔ تہران کا اصرار ہے کہ اس کی میزائل صنعت دفاعی نوعیت کی ہے اور قومی دفاعی حکمتِ عملی پر مبنی ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران کی طویل فاصلے تک مار کرنے کی ممکنہ صلاحیتوں میں اضافہ خطے کی سلامتی کے توازن کو بدل سکتا ہے۔‘

یہ سب ایسے وقت میں ہوا ہے جب محض ایک ماہ قبل تہران کے جوہری عزائم پر مذاکرات جاری تھے، اور اس حوالے سے بات چیت کے مزید دور متوقع تھے مگر پھر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے کے بعد صورتحال بدل گئی۔

BBC

چاگوس جزائر، جن میں ڈیاگو گارسیا بھی شامل ہے، ایران سے تقریباً 3,800 کلومیٹر دور ہیں۔ ابتدا میں وال سٹریٹ جرنل اور سی این این نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے یہ میزائل داغے گئے ہیں لیکن ان میں کوئی بھی ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔ ان رپورٹس میں بتایا گیا کہ ایک میزائل دورانِ پرواز ناکام ہوا جبکہ دوسرا فضا میں مار گرایا گیا۔ بعدازاں بی بی سی نے ان رپورٹس کو درست قرار دیا ہے۔

اس واقعے کے فوراً بعد اسرائیلی فوج نے کہا کہ یورپ، ایشیا اور افریقہ کے کئی شہر اب خطرے کی زد میں ہیں، اور یہ بھی بتایا کہ گذشتہ برس تہران نے اس نوعیت کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ 'ایران نے دو مرحلوں پر مشتمل بین البراعظمی بیلسٹک میزائل داغا جس کی رینج 4,000 کلومیٹر ہے۔ یہ میزائل داغنے کا مقصد اسرائیل کو نشانہ بنانا نہیں تھا ۔اُن کی رینج یورپی دارالحکومتوں تک ہے۔ برلن، پیرس اور روم براہِ راست خطرے کی رینج میں ہیں۔'

’انھیں روکنا بہت ہی مشکل ہے‘: کلسٹر بموں والے ایرانی میزائلوں سے اسرائیلی پریشان ایرانی گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد ٹرمپ کے پیغام سے جنم لیتے سوالات: کیا ایران جنگ پر امریکہ اور اسرائیل ایک سوچ رکھتے ہیں؟ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے ایک پاکستانی جہاز سمیت کون سے 99 جہاز گزرنے میں کامیاب رہے اور کیسے؟’برادر ملک‘ سے ’جوابی کارروائی‘ کی دھمکی تک: کیا ’بقا کی جدوجہد‘ میں ایران نے سعودی عرب سے طے پانے والا مصالحتی معاہدہ قربان کر دیا؟BBCایران کا لندن، برلن پیرس اور ڈیاگو گارسیا سے فاصلہ

دفاعی ماہر اور برطانیہ کے سابق جوائنٹ فورسز کمانڈ کے سربراہ جنرل سر رچرڈ بیرنز نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے نے ایران کے میزائل ذخیرے اور ان کی پہنچ پر عالمی نظرِ ثانی کو لازمی بنا دیا ہے۔ ’پہلے ہم سمجھتے تھے کہ ایران کے میزائلوں کی رینج 2,000 کلومیٹر ہے جبکہ ڈیاگو جزیرہ 3,800 کلومیٹر دور ہے۔‘

ایران نے اب تک کہا تھا کہ اس نے اپنے میزائل پروگرام پر ایک خود ساختہ حد مقرر کر رکھی ہے، جس کے مطابق ان کی رینج 2,000 کلومیٹر (1,240 میل) تک محدود ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اسرائیل ایران کے میزائلوں کی زد میں تھا مگر یورپ نہیں۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے 2021 میں کہا تھا کہ یہ (میزائل پروگرام کی رینج محدود رکھنا) ایک سیاسی فیصلہ تھا، نہ کہ میزائل بنانے کے لیے درکار تکنیک کی کمی۔ یہ فیصلہ فوجی قیادت اور پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی مخالفت کے باوجود کیا گیا تاکہ اسرائیل کو خطرے میں رکھا جائے لیکن یورپ کو نہ ڈرایا جائے۔

تاہم گزشتہ سال ستمبر میں ایک ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ پاسداران انقلاب نے کامیابی سے ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے، اگرچہ اس کی رینج کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی تھی۔

ایران کے میزائلوں کی رینج اور صلاحیتیںShomos Uddin via Getty Images

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق امریکی حکام طویل عرصے سے الزام لگاتے رہے ہیں کہ ایران کے سپیس پروگرام کا اصل مقصد ایسی ٹیکنالوجی کی تیاری ہو سکتا ہے جو بین البراعظمی بیلسٹک میزائل بنانے میں مددگار ثابت ہو، اور ضرورت پڑنے پر اس ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جا سکتا ہو۔

کچھ ماہرین اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ لندن میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کی سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر کارن فان ہپل نے بی بی سی کو بتایا کہ 'اگر یہ میزائل ڈیاگو گارسیا تک پہنچ گئے تو اس کا مطلب ہے کہ ایرانی بین البراعظمی میزائل بھی تیار کر رہے ہیں جو 10,000 کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں۔ اوراس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران سے داغے گئے میزائل براعظم امریکہ تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اگرچہ ہم نے ابھی تک بین البراعظمی میزائلوں کو عملی طور پر استعمال ہوتے نہیں دیکھا۔'

ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرِ ہند میں حالیہ حملہ اس بات کی علامت ہے کہ ایران نے اپنی میزائل رینج سے متعلق خود ساختہ حدود ختم کر دی ہیں۔ تاہم کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ معاملہ مشکوک ہے کہ میزائل اپنے ہدف تک پہنچ سکتے تھے یا نہیں، چاہے انھیں روکا نہ بھی جاتا۔

برطانیہ کے ہاؤسنگ منسٹر سٹیو ریڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ایسا کوئی مخصوص تجزیہ موجود نہیں ہے کہ ایران برطانیہ کو نشانہ بنا رہا ہے یا بنا سکتا ہے۔'

Photo by Eyad Baba / AFP via Getty Images

اصل سوال یہ ہے کہ آیا ایران نے اتنی طویل فاصلے کی کارروائی کے لیے درکار عملی ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کر لیا ہے یا نہیں — جس میں میزائل کو اتنے فاصلے پر قابو میں رکھنا اور رہنمائی کرنا شامل ہے۔

اس معاملے کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران نے اہداف کو نشانہ بنانے کا ارادہ ہی نہیں کیا تھا بلکہ یہ محض ایک واضح انتباہی پیغام تھا، جس کا مقصد اپنی نیت اور دفاعی حکمتِ عملی کو ظاہر کرنا تھا۔

سابق اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس افسر ڈینی سٹرینووچ، جو اب تل ابیب میں انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز سے وابستہ ہیں، نے لندن کے اخبار دی انڈیپنڈنٹ کو بتایا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ وہ کل ہی لندن یا پیرس پر حملہ کریں گے، لیکن میرے خیال میں یہ ان کے لیے ایک اور عنصر ہے جو انھیں اپنی دفاعی حکمتِ عملی ترتیب دینے میں مدد دیتی ہے۔‘

اس ہفتے بحرِ ہند میں ہونے والے واقعات پر اسرائیل کا ردعمل بھی ایک جنگی نعرے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

سابق نیٹو ڈپٹی کمانڈر برائے یورپ جنرل سر رچرڈ شیرف نے بی بی سی کو بتایا کہ 'یقیناً اسرائیل یہ کہے گا کیونکہ اس کے مفاد میں ہے تاکہ جنگ کا دائرہ وسیع کیا جا سکے اور زیادہ سے زیادہ ممالک کو امریکہ اور اسرائیل کی اس جنگ کا حصہ بنایا جا سکے۔ ہمیں اس کی مزاحمت کرنی چاہیے۔ یہ ٹرمپ کی جنگ ہے، جس کا کوئی واضح اختتام یا حکمتِ عملی نہیں ہے، اور جو دلدل میں پھنسنے جیسا ہے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ چھ ماہ پہلے ایران کی جوہری صلاحیتیں ختم کر دی گئی ہیں۔ ہم واشنگٹن سے آنے والی کسی بات پر یقین نہیں کر سکتے۔'

ٹرمپ سے ’خائف‘ خلیجی بادشاہتیں: کیا دبئی اور قطر جیسی امیر ریاستوں میں سکیورٹی کا تصور محض سراب تھا؟’برادر ملک‘ سے ’جوابی کارروائی‘ کی دھمکی تک: کیا ’بقا کی جدوجہد‘ میں ایران نے سعودی عرب سے طے پانے والا مصالحتی معاہدہ قربان کر دیا؟ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے ایک پاکستانی جہاز سمیت کون سے 99 جہاز گزرنے میں کامیاب رہے اور کیسے؟ایرانی گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد ٹرمپ کے پیغام سے جنم لیتے سوالات: کیا ایران جنگ پر امریکہ اور اسرائیل ایک سوچ رکھتے ہیں؟’انھیں روکنا بہت ہی مشکل ہے‘: کلسٹر بموں والے ایرانی میزائلوں سے اسرائیلی پریشان
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More