پاکستان اور افغانستان کی جانب سے بالآخر ان اطلاعات کی تصدیق کر دی گئی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان چین میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔
جمعرات کے روز ہفتہ وار بریفنگ کے دوران پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ چین کے شہر اُرمچی میں افغانستان کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں جس میں شرکت کے لیے پاکستان کا ایک وفد وہاں موجود ہے۔
طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی کو روکنے کے لیے دیرپا حل اور قابلِ اعتماد عمل کی حمایت کے اپنے مستقل موقف کے مطابق ایک مذاکراتی وفد بھیجا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’(مذاکرات میں) شرکت ہمارے بنیادی خدشات کی دوبارہ توثیق ہے۔ تاہم حقیقی عمل کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے۔ طالبان حکومت کو قابلِ اعتبار اور قابلِ تصدیق اقدامات دکھانا ہوں گے تاکہ دہشتگرد گروہوں کی طرف سے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’آپریشن غضب للحق اب بھی جاری ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں۔‘
اس سے قبل طالبان حکومت کے ذرائع نے بی بی سی دری کو تصدیق کی تھی کہ افغان وزارت خارجہ کے حکام سمیت مختلف اداروں کا ایک وفد بدھ کے روز چین کے شہر اُرمچی میں پاکستانی وفد سے مذاکرات کرے گا۔
ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات چین کی ثالثی میں ہو رہے ہیں اور ان میں افغانستان کی جانب سے طالبان حکومت کی خفیہ ایجنسی اور وزارت داخلہ کے اہلکار بھی حصہ لے رہے ہیں۔
AFP via Getty Images
بعد ازاں جمعرات کی سہہ پہر افغان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اپنے اصولی مؤقف کی بنیاد پر باضابطہ بات چیت کے لیے افغانستان کا ایک درمیانی درجے کا وفد چین پہنچ چکا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اُرمچی میں ہونے والے مذاکرات چینی حکومت کی ثالثی میں ہو رہے ہیں اور یہ عمل چین کی درخواست پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
’افغانستان حکومت کا ماننا ہے کہ باہمی احترام، عدم مداخلت اور تعمیری تفاہم کی بنیاد پر سفارتی کوششوں کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان موجود مسائل کے عملی اور دیرپا حل تلاش کیے جا سکتے ہیں اور خطے کے استحکام اور تعاون کے لیے راہ ہموار ہو سکتی ہے۔‘
حالیہ دنوں میں یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ گذشتہ ماہ بھی چین نے دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان ثالثی کی کوششیں کی تھیں۔
اس وقت چین کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ ’چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کروانے کے لیے متحرک ہیں۔ جبکہ دونوں ممالک میں چین کے سفارتخانے دونوں فریقین کے ساتھ قریبی رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔‘
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چین پاکستان اور افغانستان کے مابین تنازع کے حل کے لیے کوششیں کیوں کر رہا ہے اور آیا چین کا اتنا اثر و رسوخ ہے کہ وہ اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے حل کر پائے گا؟
پاکستان اور افغانستان کے درمیان چین کا بطور ثالث کردار
خطے کے معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ چین کا پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کا کردار نیا نہیں ہے۔ ان کے مطابق چین دونوں ملکوں پر اثر و رسوخ رکھتا ہے بلکہ اس کے معاشی مفادات بھی دونوں ملکوں سے جڑے ہیں۔
سینیئر صحافی اور افغان امور کے ماہر طاہر خان کہتے ہیں کہ چین کا پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کا کردار کوئی نیا نہیں۔ پاکستان، چین اور افغانستان کا سہہ فریقی گروپ 2017 سے کام کر رہا ہے۔
افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر منصور خان کہتے ہیں کہ چین ہمیشہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’چین کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ہو گی تو اس کا نقصان خطے میں تعاون اور رابطے کی کوششوں پر اثر پڑے گا۔‘
تجزیہ کار اور خراسان ڈائری سے منسلک افتخار فردوس کہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں چینی ایک بڑے سہ فریقی عمل کا حصہ ہے جس میں معیشت اور سکیورٹی کا عنصر شامل ہے۔
ان کے مطابق، ’یہ مذاکرات گذشتہ ماہ کے اوائل میں طے تھے لیکن ایران کی صورتحال کے باعث ان میں تاخیر ہوئی۔ چین علاقے میں ایک بڑے سٹیک ہولڈر کی حیثیت رکھتا ہے اور ان کی کوششیں سفارتی عمل کے تحت ہیں۔
منصور خان کا کہنا ہے کہ خطے میں ایران اور امریکہ، اسرائیل کے درمیان جنگ چل رہی ہے، اس سارے تناظر میں چین کافی عرصے سے کوششیں کر رہا ہے کہ کسی طرح سے مفاہمت ہو جائے اور دونوں فریق بات چیت کے لیے بیٹھیں اور یہ مذاکرات اس ہی کی ایک کڑی ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد کے چائنہ پاکستان سٹڈی سینٹر سے منسلک ریسرچر اسد اللہ خان کے خیال میں چین وہ واحد ملک ہے جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
’خطے کی بڑی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ چین کے اس خطے میں سی پیک جیسے منصوبوں کی شکل میں مفادات ہیں۔ معاشی مفادات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے چین سے بہتر کوئی ثالث کا کردار نہیں ادا کر سکتا۔‘
کیا حالیہ دنوں میں پاکستان نے افغانستان کے کچھ علاقے پر قبضہ کر لیا ہے؟پاکستان افغانستان کشیدگی اور ڈیورنڈ لائن کی دوسری جانب پھنسے شہری: ’حکومت چاہے تو یہ چند گھنٹوں میں واپس آ سکتے ہیں‘جب افغانستان میں بدھا کے دیوقامت مجسمے تباہ کرنے میں القاعدہ نے طالبان کی مدد کیکابل میں منشیات بحالی مرکز پر فضائی حملہ: ’قیامت کا منظر تھا، میرے دوست آگ میں جل رہے تھے‘پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی میں چین کی دلچسپی کیوں؟
چین کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کے متعلق دلچسپی کے حوالے سے طاہر خان کا کہنا ہے کہ ’جب طالبان کی حکومت آئی اور غیر ملکی چلے گئے تو ان کی خواہش تھی کہ جو چیزیں جنگ کے دوران نہیں ہو سکی تھیں جیسے کہ انفراسٹرکچر منصوبے، انھیں شروع کیا جائے۔‘
’چین کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال ان کے معاشی مفادات کے حق میں نہیں اور تجارت، ٹرانزٹ، واکھان کوریڈور اور بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹیو جیسے منصوبوں پر عملدرآمد ممکن نہیں ہو سکے گا۔‘
افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر کہتے ہیں کہ چین ایک مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن نتائج کا دارومدار اس بات پر ہے کہ افغانستان اور پاکستان اپنے طویل بارڈر پر سرحد پار دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کس طرح ایک مکینزم بناتے ہیں۔
افتخار فردوس کہتے ہیں کہ ’اس کے باوجود کہ چین کے ترکستان اسلامک پارٹی کے اویغور عسکریت پسندوں کے حوالے سے تحفظات اب بھی دور نہیں ہوئے، وہ سفارتی طور پر طالبان کو اس عمل میں شامل رکھنے کی مسلسل کوشش کریں گے۔‘
چین دونوں ملکوں پر کسی حد تک اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ طاہر خان کہتے ہیں کہ چین وہ پہلا ملک تھا جس نے طالبان حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد اپنا سفیر افغانستان بھیجا اور طالبان کے سفیر کو تسلیم کیا۔
’چین افغانستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے، چین کا کسی حد تک طالبان پر اثر و رسوخ رکھتا ہے، اور پاکستان پر تو اس کا اثر ورسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔‘
اسد اللہ خان کے مطابق بیجنگ کے کابل پر اثر و رسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چین اس وقت افغانستان میں متعدد انفراسٹرکچر منصوبے چلانے کے علاوہ کابل کو امداد بھی فراہم کر رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دوسری جانب چین ہمیشہ پاکستان کی بات کو ترجیح دیتا ہے۔ ’اس لیے چین نہ صرف پاکستان اور افغانستان کو مذاکرات کی میز پر لا سکتا ہے بلکہ کسی قابلِ عمل مکینزم پر دونوں ملکوں کو قائل بھی کر سکتا ہے۔‘
Reutersپاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کی ماضی کی کوششیں ناکام کیوں ہوئیں؟
افتخار فردوس اور طاہر خان گذشتہ برس ترکی اور خلیجی ممالک کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان شروع کیے گئے مذاکراتی عمل کی ناکامی کو پاکستان کی جانب سے تحریری ضمانت کے مطالبے اور طالبان کی جانب سے اس سے انکار کو گردانتے ہیں۔
طاہر خان کے مطابق پاکستان کا اصرار تھا کہ طالبان تحریری ضمانت دیں کہ افغانستان کی سرزمین سے کوئی دہشتگردی کا واقعہ نہیں ہو گا اور اگر ہوا تو پاکستان اس پر کارروائی کرے گا۔
’مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ پاکستان چاہتا ہے کہ طالبان حکومت اپنے ملک کے اندر سے پاکستان میں کارروائیاں کرنے والے گروہوں کو پکڑے، انھیں غیر مسلح کرے اور انھیں پاکستان کے حوالے کرے۔‘
’دوسری جانب افغان طالبان کا کہنا تھا کہ آپ ان (گروہوں) سے مذاکرات کریں۔ ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، لکی مروت، بنوں کی سکیورٹی کی ذمہ داری ہماری نہیں آپ کی ہے، ہم کابل کی گارنٹی نہیں لے سکتے تو پشاور کی کیسے دیں۔‘
افتخار فردوس کہتے ہیں طالبان کے نقطہ نظر سے مشترکہ بارڈر میکانزم بنانے کا مطلب ڈیورنڈ لائن کو تسلیم شدہ سرحد کے طور پر قبول کرنا ہو گا۔
'افغان طالبان نہ صرف علاقے کے جغرافیہ کو تاریخی پس منظر میں دیکھتے ہیں بلکہ وہ پاکستانی طالبان کو تحفظ فراہم کرنا اپنا نظریاتی فرض سمجھتے ہیں۔'
طاہر خان کہتے ہیں کہ اُرمچی میں ہونے والے مذاکرات دونوں ملکوں کے درمیان امن قائم کرنے کی کوششوں کے سلسلے کی ایک کڑی تو ہے لیکن چین کی ثالثی میں ہونے والا مذاکراتی عمل پچھلی کوششوں سے مختلف ہے۔
Reuters
طاہر خان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی چین کے لیے اس لیے بھی چیلنج ہے کیونکہ پاکستان کی سیز فائر کی تشریح مختلف ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان کہہ چکے ہیں کہ طالبان کے ساتھ سیز فائر کی نوعیت اس سے مختلف ہے جو عام طور پر دو ملکوں کے درمیان ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دفترِ خارجہ کے مطابق افغانستان کے ساتھ سیز فائر کا مطلب ہو گا کہ پاکستان کے اندر دہشتگردی کا کوئی واقعہ نہ ہو۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ایک طرح سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیز فائر تو ہے کیونکہ بڑے حملے نہیں ہو رہے حالانکہ پاکستانی وزیرِ اطلاعات کے بیان کے مطابق 23 اور 24 مارچ کی درمیانی شب کو سیز فائر کا وقت ختم ہو چکا ہے۔
'یہ ایک لحاظ سے قائم ہے لیکن اس کو بڑے خطرات ہیں۔'
کیا پاکستان اور افغانستان کے درمیان مستقل جنگ بندی ممکن ہے؟
اسد اللہ خان کہتے ہیں اگر پاکستان اور افغانستان اپنے سکیورٹی اور تجارتی مسائل کے معاملے میں حد متعین کر لیں کہ وہ سکیورٹی مسائل کو تجارتی معاملات پر اثر انداز ہونے نہیں دیں گے تو وہ جنگ بندی دیرپا ثابت ہو سکتی ہے۔
طاہر خان کہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کا مسئلہ اتنا پیچیدہ ہے کہ چین کے لیے بھی یہ ایک بڑا چیلنج ہو گا کہ کیسے ان دونوں ملکوں کو پیچھے ہٹنے اور اپنے موقف میں نرمی لانے کے لیے راضی کرے۔
دوسری جانب افتخار فردوس کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اس وقت تک مستقل جنگ بندی ممکن نہیں جب تک دونوں فریق ایک قابل تصدیق طریقہ کار پر متفق نہ ہو جائیں۔
’فی الحال یہ کافی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ جس چیز کا زیادہ امکان ہے وہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان وقتاً فوقتاً وسیع اور محدود پیمانے پر کشیدگی جاری رہے گی۔‘
منصور خان کہتے ہیں کہ اگر چین کی ثالثی کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کسی معاہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو یہ ایک خوش آئند پیشرفت ہو گی۔
عید کے پیغام میں افغان طالبان کے سپریم لیڈر نے پاکستان کا ذکر کیوں نہیں کیا؟’سرخ لکیر عبور‘: افغان طالبان کے پاکستان کے مختلف شہروں میں ڈرون حملے اسلام آباد کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟کیا پاکستان اور افغانستان کے ایک دوسرے پر حملوں کے دوران چین کی ثالثی کی کوششیں کامیاب ہوں گی؟ ’جہادی سفارتکاری‘: عسکریت پسندی کا پسِ منظر رکھنے والی شخصیات پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی کم کروا کر سکتی ہیں؟افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف حملوں میں کن ڈرونز کا استعمال کیا اور اُن کی صلاحیت کتنی تھی؟’بچے رات کو سو نہیں سکتے، ہر طرف خوف ہے‘: پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان جھڑپوں کے دوران سرحدی علاقوں میں کیا صورتحال ہے؟