پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں حکام کے مطابق نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے مذہبی رہنما اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کے صوبائی سرپرست مولانا محمد ادریس کو قتل کر دیا ہے جبکہ ان کی سکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
ترجمان خیبر پختونخوا پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ایک ’منظم ٹارگٹ کلنگ‘ کا واقعہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے پیشرفت کی ہے اور ملزمان کی تصاویر حاصل کی گئی ہیں جن کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
اس واقعے پر جمیعت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے چارسدہ میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا اور انتظامیہ کو تین دن کا وقت دیا کہ مولانا قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ تنظیم کے مطابق تین دن کے بعد مشاورت سے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اس واقعے کا نوٹس لیا ہے اور رپورٹ طلب کی ہے۔
تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جبکہ چارسدہ کے ضلعی پولیس افسر محمد وقاص خان نے ایس پی انویسٹیگیشن عالمزیب خان کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔
ادھر پاکستان کے مذہبی حلقوں کے ساتھ ساتھ افغانستان میں طالبان کی حکومت نے بھی مولانا محمد ادریس کی ہلاکت پر اظہار افسوس کیا ہے۔
ایک پیغام میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’افغانستان اس حملے کی مذمت کرتا ہے کیونکہ یہ عالم اسلام کے لیے ایک عظیم اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔‘
مولانا ادریس کو ’دو گولیاں لگیں‘
چارسدہ کے تھانہ سٹی کے ایک پولیس اہلکار رضوان کے مطابق منگل کی صبح مولانا ادریس طارق آباد کی تحصیل اتمانزئی میں اپنے گھر سے ایک گاڑی میں مدرسے جامعہ نعمانیہ کے لیے نکلے تو دو موٹر سائیکل سوار افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مولانا ادریس ہلاک ہو گئے۔ جبکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ملزمان فرار ہو گئے جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ ہسپتال چارسدہ کے ڈی ایم ایس ڈاکٹر جاوید ستار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب مولانا صاحب کو ہسپتال لایا گیا تو وہ اس وقت تک دم توڑ چکے تھے۔‘
’ان کو دو گولیاں لگی ہیں۔ ایک گولی گردن اور ایک سر کے پچھلے حصے پر لگی۔‘
ڈاکٹر کے مطابق ’چونکہ ہسپتال میں ہجوم بہت زیادہ تھا تو ان کی لاش کو لواحقین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔‘
فائرنگ کے اس واقعے میں مولانا کے ہمراہ دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے جنھیں پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
آئی جی پولیس ذوالفقار حمید نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او مردان سے رپورٹ طلب کی ہے اور ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کا حکم دیا ہے۔
بنوں کے پولیس تھانے پر خودکش حملے میں ہلاک ہونے والا خاندان: ’بارود سے بھری گاڑی اسی مقام پر لائی گئی جہاں 13 سال پہلے دھماکہ ہوا تھا‘’ملبے سے آواز آئی کہ مجھے نکالو‘: جس شخص کی تدفین کی گئی وہ 17 دن بعد زندہ مل گیا باڑہ میں سکول پر ’قبضے کی کوشش‘، سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 10 شدت پسند ہلاکطورخم سرحد پر چار روز سے پڑی لاش کا معمہ: عارضی سیز فائر اور مبینہ شناخت کے باوجود میت کیوں نہ اٹھائی جا سکی؟
مولانا ادریس کے قتل کے بعد بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ چارسدہ کے فاروق اعظم چوک اور تنگی روڈ پر احتجاج جاری ہے جبکہ چارسدہ آنے جانے والی تمام شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں۔ علاقے میں اس وقت حالات کشیدہ بتائے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ کچھ دن قبل مولانا ادریس کا ایک بیان سوشل میڈیا پر گردش کر رہا تھا جس میں انھوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حق میں بیان دیا تھا جس پر انھیں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ محمد وقاص خان نے مولانا شیخ ادریس کے قتل کے بعد مقامی صحافیوں سے کہا ہے کہ پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھی جہاں پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے ہیں۔
ان کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے سلسلے میں قریبی مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کر لی گئی ہیں جن کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ملزمان کی شناخت اور گرفتاری میں مدد حاصل کی جا سکے۔
ڈی پی او چارسدہ محمد وقاص خان نے واقعے کی جامع اور شفاف تفتیش کے لیے ایس پی انویسٹیگیشن عالمزیب خان کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
مولانا ادریس کون تھے؟
جمیعت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے مولانا ادریس 1961 میں چارسدہ کے علاقے ترنگزئی میں پیدا ہوئے۔
ان کے والد مولوی حکیم عبدالحق تھے جو عوام میں ’مناظرِ اسلام‘ کے نام سے مشہور تھے۔ ان کے دادا شیخ الحدیث مفتی شہزادہ، دار العلوم دیوبند کے فاضل اور اپنے دور کے بڑے مفتی تھے۔ وہ عالمی شہرت یافتہ عالم دین مولانا محمد حسن جان مدنی کے داماد بھی تھے۔
انھوں نے اعلیٰ دینی تعلیم دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں حاصل کی۔ پشاور یونیورسٹی سے عربی اور اسلامیات میں ایم اے کی ڈگری بھی اعلیٰ نمبروں سے حاصل کی تھی۔
مولانا ادریس نے 1983 سے دارالعلوم نعمانیہ میں شیخ الحدیث اور صدر المدرسین کے منصب پر فائز رہے تھے جہاں وہ صحیح البخاری، جامع الترمذی اور صحیح مسلم پڑھاتے تھے۔ انھیں صحیح بخاری اور ترمذی کی مسلسل تدریس میں 30 سال مکمل ہو چکے تھے۔
وہ جمیعت علمائے اسلام (ف) چارسدہ کے امیر رہے اور پھر جمیعت کے صوبائی سرپرست اعلیٰ بنے۔ وہ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے رکن بھی رہے۔
خیبرپختونخوا میں تشدد کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر پیش آ رہے ہیں جن میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے علاوہ عام شہری بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں مذہبی رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں مذہبی رہنماؤں پر گذشتہ سال اور اب اس سال اب تک چھ سے زیادہ اہم مذہبی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پشاور کے بورڈ بازار (تھانہ پشتخرہ) میں نومبر 2025 میں قاری عزت اللہ جمعہ کی نماز کے بعد اپنے دو بیٹوں کے ہمراہ گھر جا رہے تھے کہ موٹرسائیکل سوار افراد نے انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا۔ قاری عزت اللہ اور ان کا بیٹا علی موقع پر جاں بحق ہوئے جبکہ دوسرا بیٹا مرتضیٰ زخمی ہوا۔
کوہاٹ کے علاقے نصرت خیل میں مارچ 2025 میں فائرنگ کے نتیجے میں مفتی فرمان اپنے ایک ساتھی کے ساتھ جاں بحق ہوئے۔
دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں مارچ 2025 میں مولانا سمیع الحق کے بیٹے مولانا حامد الحق کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔
اسی طرح سال 2025 میں پشاور کے علاقے ارمڑ میں ممتاز عالم دین مفتی منیر شاکر کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔
باجوڑ میں مولانا خان زیب کو جولائی 2025 میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔ مولانا خان زیب ان دنوں باجوڑ میں امن کانفرنس کے لیے جدو جہد کر رہے تھے۔ ان کا تعلق عوامی نیشل پارٹی سے تھا۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں تشدد کے واقعات میں مذہبی رہنماؤں اور علما کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ بظاہر تشدد کی لہر کا ایک ایسا واقعہ ہے جو نہ پہلا ہے اور شاید نہ ہی 'آخری ہوگا۔'
صحافی و تجزیہ کار لحاظ علی کا کہنا ہے کہ مولانا ادریس اپنے موقف اور علمی لحاظ سے اس وقت صرف جمیعت علمائے اسلام (ف) میں ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں ’انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔‘
سال 2024 میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ افغانستان کا دورہ بھی کیا تھا جہاں ان کی ملاقات افغانستان کے ’سپریم لیڈر‘ ہیبت اللہ اخونزادہ سے ہوئی تھی۔
لحاظ علی کا کہنا ہے کہ افغانستان کے طالبان میں مولانا ادریس کے سیکڑوں شاگرد شامل ہیں جبکہ افغانستان کے سپریم لیڈر شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات تھے۔
بنوں کے پولیس تھانے پر خودکش حملے میں ہلاک ہونے والا خاندان: ’بارود سے بھری گاڑی اسی مقام پر لائی گئی جہاں 13 سال پہلے دھماکہ ہوا تھا‘’ملبے سے آواز آئی کہ مجھے نکالو‘: جس شخص کی تدفین کی گئی وہ 17 دن بعد زندہ مل گیا باڑہ میں سکول پر ’قبضے کی کوشش‘، سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 10 شدت پسند ہلاکطورخم سرحد پر چار روز سے پڑی لاش کا معمہ: عارضی سیز فائر اور مبینہ شناخت کے باوجود میت کیوں نہ اٹھائی جا سکی؟بلیک آؤٹ، گولہ باری کا خوف اور سرنگ میں پناہ: بی بی سی نے جنگ سے متاثرہ لنڈی کوتل کے سرحدی گاؤں میں کیا دیکھا؟مانسہرہ میں ’مزاح بانٹنے والا‘ شہری پولیس اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک: مشتعل ہجوم نے بالاکوٹ تھانہ کیوں جلایاخیبر پختونخوا حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن کا کنٹرول فوج سے واپس لینے کا فیصلہ کیوں کیا؟