کومیٹ نیو وائز: زمین کے پاس سے گزرتا ’دُم دار ستارہ‘ پاکستان انڈیا سے کیسے دیکھا جائے؟

بی بی سی اردو  |  Jul 14, 2020

Miloslav Druckmuller
کومیٹ نیو وائز مارچ 2020 میں دریافت ہوا ہے اور 22 سے 23 جولائی کو یہ زمین کے نہایت قریب سے گزرے گا

شہروں میں رہنے والے لوگ اکثر اوقات تیز روشنیوں کے باعث آسمان پر جھلملانے والے دیدہ زیب تاروں، سیاروں اور دیگر اِجرام کا مشاہدہ کرنے سے محروم رہتے ہیں۔

لیکن آج کل ہمارے آسمان پر ایک ایسا نیا کومیٹ یا دُم دار ستارہ نمایاں ہوا ہے جسے دیکھنے کے لیے تھوڑی سی محنت تو کرنی پڑ سکتی ہے لیکن اگر آپ یہ کومیٹ اس مرتبہ نہ دیکھ سکے، تو آپ کو اس کے لیے سات ہزار سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے، جو کہ شاید تھوڑا مشکل ہو۔

اور اگر آپ اس کی تصاویر لے پائے، تو اپنے دوستوں پر رعب جمانے میں بھرپور انداز میں کامیاب رہیں گے۔

کومیٹ نیو وائز

بات ہو رہی ہے کومیٹ نیو وائز کی جو آج کل غروبِ آفتاب کے بعد اور طلوعِ آفتاب سے قبل آسمان پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اسے کب دیکھنا ہے، دیکھنے کے لیے کہاں رُخ کرنا ہوگا، یہ سب جانیں گے لیکن اس سے پہلے کچھ کومیٹس کے بارے میں!

Maroun Habib/@Moophz
کومیٹ نیو وائز کی لبنان سے لی گئی تصویر

کومیٹ آخر کیا ہوتے ہیں؟

کومیٹ کو عام طور پر اُردو میں دُم دار ستارہ کہا جاتا ہے حالانکہ یہ ستارے نہیں ہوتے، تاہم ان کی دُم ضرور ہوتی ہے۔

کومیٹ عموماً برف، گیسوں بشمول کاربن ڈائی آکسائیڈ، امونیا، میتھین اور کاربن مونو آکسائیڈ، مٹی اور پتھر کے بنے ہوتے ہیں۔

یہ نظامِ شمسی کے انتہائی دور دراز خطے کائپر بیلٹ سے آتے ہیں جو سورج سے اربوں کلومیٹر کے فاصلے پر سیارہ نیپچون اور اس سے بھی کہیں آگے کا خطہ ہے جہاں پلوٹو بھی موجود ہے۔

کومیٹ ہمارے نظامِ شمسی کا حصہ ہوتے ہیں، اور کبھی کبھی یہ ادھر اُدھر سے گھومتے ہوئے ہمارے سورج کی کششِ ثقل (گریویٹی) میں پھنس جاتے ہیں اور اس کے گرد چکر لگانا شروع کر دیتے ہیں۔

چونکہ یہ سورج سے انتہائی دور دراز علاقے سے آتے ہیں، اس لیے ان پر موجود گیسیں اور بخارات منجمد ہوتے ہیں۔

تاہم جیسے جیسے یہ ہمارے نظامِ شمسی کے اندرونی حصے میں داخل ہوتے ہیں، سورج کی تابکاری سے ان کا درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے، اور منجمد ہونے کی وجہ سے جو برف اور مٹی آپس میں گُندھی ہوئی ہوتی ہے، وہ اس کے پیچھے پھیلنے لگتی ہیں اور جب اس پر سورج کی روشنی پڑتی ہے، تو یہ دُم کی صورت میں ہمیں چمکتی ہوئی نظر آتی ہے۔

Imran Rasheed
کومیٹ نیو وائز کی کراچی سے صبح کے وقت لی گئی تصویر

کچھ کومیٹ ایسے بھی ہوتے ہیں جو سورج کی حِدت برداشت نہیں کر پاتے اور اس کے قریب سے گزرنے پر مکمل طور پر ختم ہوجاتے ہیں، جن میں سنہ 2012 میں دریافت ہونے والا کومیٹ آئزن سرِفہرست ہے۔

اگر کومیٹ آئزن سورج کے قریب سے گزرتے ہوئے باقی رہ جاتا تو اتنا چمکدار ہوتا کہ آپ اندھیری رات میں اس کی روشنی میں ایک دوسرے کے چہرے تک دیکھ پاتے، لیکن ایسا نہ ہوسکا۔

اکثر کومیٹ ایسے ہوتے ہیں جو بار بار سورج کا چکر لگاتے ہیں اور ہر کچھ عرصے بعد زمین کے پاس سے گزرتے ہیں۔

کومیٹ ہیلی ان میں سے ایک ہے جس کے زمین کے پاس سے گزرنے کو 240 قبلِ مسیح سے ریکارڈ کیا جاتا رہا ہے اور آخری مرتبہ یہ 1986 میں زمین کے پاس سے گزرا تھا۔

یہ سورج کے گرد اپنا ایک چکر 75 سے 76 سال میں مکمل کرتا ہے اور برہنہ آنکھ سے باآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔

NASA
کومیٹ ہیلی آخری مرتبہ 1986 میں زمین کے پاس سے گزرا تھا اور اب 2061/62 میں یہ موقع دوبارہ آئے گا

پاکستان اور انڈیا سے کومیٹ نیو وائز کیسے دیکھا جائے؟

اب بات کرتے ہیں ہمارے نئے دوست کومیٹ نیو وائز کی۔

مارچ 2020 میں دریافت ہونے والا یہ کومیٹ اس وقت سورج کے گرد اپنا چکر لگا چکا ہے اور اب واپس جا رہا ہے۔

اس وقت اسے صبح اور شام دونوں اوقات میں دیکھا جا سکتا ہے تاہم صبح کے وقت سورج اس کے نمودار ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی طلوع ہوجائے گا اس لیے اس کے کافی روشن ہونے کے باوجود اسے دیکھنا ایک امتحان بن سکتا ہے۔

Sky & Telescope
پاکستان میں 10 سے 15 جولائی کو صبح 4 بجے کومیٹ نیو وائز کی لوکیشن۔ مختلف شہروں میں کومیٹ کی بلندی مختلف ہو سکتی ہے

آپ کو اس کے لیے ایک چھوٹی دوربین (بائینوکیولرز) کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاہم اگر آپ ایک مرتبہ آسمان میں اس کی لوکیشن کا تعین کر لیں تو آپ اسے باآسانی برہنہ آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں۔

تاہم آئندہ آنے والے چند دنوں میں اسے صبح کے وقت دیکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے گا۔

شام میں اسے دیکھنے کے لیے آپ کو مزید ایک سے ڈیڑھ ہفتے تک کا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

آپ پاکستان کے کسی بھی شہر میں ہیں تو دیے گئے خاکوں کی مدد سے بلندی اور اوقات کے معمولی فرق سے آپ اس کومیٹ کو انھی ستاروں کے پاس اپنے اپنے شہروں سے دیکھ سکتے ہیں۔

کراچی میں جولائی کے آخری دنوں میں شام آٹھ بجے کے قریب اسے دیکھنے کے لیے ایک موزوں وقت ہوگا۔

اس وقت آپ اسے بُرج دُبِ اکبر (ارسا میجر) اور اسدِ اصغر (لیو مائنر) کے قریب دیکھ سکتے ہیں تاہم یہ کافی مدھم ہو چکا ہوگا۔

اس کے باوجود اسے دیکھنا ناممکن نہیں ہوگا اور اگر آپ کسی ایسی جگہ جا سکیں جہاں آسمان پر شہر کی روشنیاں نہ ہوں، تو یہ آپ کے کیمرے میں نہایت شاندار نظر آ سکتا ہے۔

Sky & Telescope
پاکستان میں 14 سے 23 جولائی کو سورج غروب ہونے کے ایک گھنٹے بعد تک کومیٹ نیو وائز کی لوکیشن

جیسے جیسے آپ عرض البلد (لیٹیٹیوڈ) پر جنوب کی جانب جاتے جائیں گے، ویسے ویسے اسے شام کے وقت اوپر آنے کے لیے مزید دن درکار ہوں گے۔

جولائی کے بالکل آخری دن اسے دیکھنے کے لیے بہتر ہوں گے جب یہ کافی زیادہ مدھم ہوگا مگر انڈیا کے جنوبی شہروں مثلاً حیدرآباد اور انتہائی جنوب میں واقع شہر تھیرووننتھاپورم تک سے نظر آ سکتا ہے۔

ان دنوں یہ کومیٹ بُرج دُبِ اکبر (دائیں) بُرج اسد (نیچے) اور بُرج سُنبلہ (ورگو، بائیں جانب) کے درمیان موجود ہوگا۔

Stellarium
انڈیا کے شہر تھیرووننتھاپورم سے 31 جولائی شام آٹھ بجے کومیٹ نیو وائز کی لوکیشن

اگر آپ کو ان ستاروں کی تلاش میں دشواری کا سامنا ہو تو آپ اپنے موبائل فون پر گوگل سکائی میپ کی ایپلیکیشن، سکائی سفاری ایپ یا کمپیوٹر میں سٹیلیریئم نامی سافٹ ویئر انسٹال کر کے اس سے مدد لے سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ کومیٹ اب تقریباً 6766 سال بعد دوبارہ ہماری زمین کے پاس آئے گا، اب اتنا انتظار کون کرے؟

اس لیے فوراً کیمرا اور دوربین نکالیں اور اس منظر کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیں۔

اور ہاں! اگر آپ اس خوبصورت کومیٹ کی تصاویر لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، تو یہ تصاویر ہمیں ضرور ارسال کریں۔ منتخب تصاویر کو ہم اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کے نام کے ساتھ شائع کریں گے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More