شوگر انکوائری کمیشن: اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں اضافی دستاویز جمع کرادیں

اب تک  |  Jul 14, 2020

اسلام آباد: (13 جولائی 2020) شوگر انکوائری کمیشن کے معاملے پر اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں اضافی دستاویز جمع کرادیں۔ شوگر انکوائری کمیشن کا گزٹ نوٹیفکیشن بھی اضافی دستاویز میں شامل ہے۔

شوگر انکوائری کمیشن کے معاملے پر اٹارنی جنرل آف پاکستان نے اضافی دستاویزات کے ساتھ مقدمے کا خلاصہ بھی عدالت میں جمع کروایا۔ دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے پر وفاقی حکومت نے انکوائری کمیشن بنایا۔ انکوائری کمیشن پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017ء کے قانون کے تحت بنائی گئی۔ انکوائری کمیشن نے وفاقی، صوبائی شوگر ملوں سے معلومات اکٹھی کیں۔ کمیشن نے معلومات حاصل کرنے کے بعد قیمتوں میں اضافے پر تفصیلی تصویر تیار کی۔

دستاویزات کے مطابق کمیشن نے اپنی رپورٹ میں چینی کی صنعت کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی کی نشاندہی کی۔ وفاقی حکومت نے تیار کردہ رپورٹ کو منظور کرنے کے بعد ریگیولٹرز کو عملدرآمد کے کیے بھیجی۔ کمیشن کی رپورٹ کو پہلے پاسما والوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں داخل کی، جو مسترد ہوئی۔

دستاویزات میں کہا گیا کہ اس سماعت میں دلائل دیئے گئے کہ کمیشن کا نوٹیفیکیشن بروقت جاری نہیں کیا گیا۔ کمیشن کی تشکیل کے بارے میں پاسما مکمل طور پر آگاہ تھا۔ نوٹیفیکیشن کے معاملے کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔ نوٹیفیکیشن کی تاخیر سے اشاعت سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ کے اس حوالے سے فیصلے موجود ہیں۔ شوگر ملز والوں کا آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی کا الزام بے بنیاد ہے۔ انکوائری کمیشن صرف صوبے بنا سکتے ہیں کی دلیل بے بنیاد ہے۔ انکوائری کمیشن کی تشکیل آئین اور قانون کے مطابق ہے۔ چینی کی قیمتوں میں اضافہ بنیادی انسانی حقوق اور آرٹیکل 9 کا ہے۔

دستاویزات میں مزید کہا گیا کہ جواب دہندہ، وفاقی، صوبائی حکومتوں اور تمام اداروں کو ان کے فرائض کی انجام دہی سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وفاقی حکومت نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کر رکھی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More