امن معاہدے کا دوسرا مرحلہ، طالبان تشدد کم کریں: امریکہ

اردو نیوز  |  Jul 15, 2020

امریکہ نے کہا ہے کہ افغان امن معاہدہ  اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں تشدد کو کم کریں تاکہ امن معاہدے کو آگے بڑھایا جا سکے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق امریکہ کو اگلے سال کے وسط تک افغانستان سے اپنی فوجوں کو نکالنا ہوگا، اور طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ امن کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے۔

امریکہ نے کہا تھا کہ معاہدے کے پہلے مرحلے میں 135 روز کے اندر وہ افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد  کم کر کے آتھ ہزار چھ سو  پر لے آئے گا اور پانچ فوجی اڈے مکمل طور پر خالی کر دے گا۔

 

افغانستان کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے پیر کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’امریکہ نے معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت فوجی کی تعداد کم کرنے اور پانچ فوجی اڈے خالی کرنے کے وعدے پر عمل کیا ہے۔‘

’ہم قیدیوں کی رہائی، تشدد کم کرنے اور بین الاافغان مذاکرات پر زور دیں گے۔‘

دوسری طرف طالبان نے امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنے کے عمل کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ امریکہ نے افغان حکومت کی حمایت میں جن علاقوں میں جنگ نہیں ہو رہی وہاں مسلسل بمباری کی ہے اور حملے کیے ہیں۔

طالبان نے امریکی پائلٹس پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ انہوں نے گذشتہ دس روز میں عام شہریوں اور انفراسٹرکچر پر بمباری کی ہے۔

طالبان نے کہا ہے کہ ’یہ سب معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور جان بوجھ کر طالبان کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ بڑے حملے کریں۔‘

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ جب سے امن معاہدہ ہوا ہے طالبان نے حملوں میں اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

زلمے خیل زاد کے مطابق افغان شہریوں کی بڑی تعداد کو کسی وجہ کے بغیر مارا جا رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)زلمے خیل زاد نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغان شہریوں کی بڑی تعداد کو کسی وجہ کے بغیر مارا جا رہا ہے۔

انہوں نے پیر کو ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’طالبان کے حملے تشدد کو کم کرنے کے معاہدے کی نفی کر رہے ہیں۔‘

کابل میں امریکہ کے سفارت کار روس ولسن نے بھی پیر کو شمالی شہر ایبک میں طالبان حملے کی مذمت کی ہے۔

افغانستان کی انٹیلیجنس ایجنسی نے طالبان کے خلاف ’جوابی حملوں‘ کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان امن معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہے۔

واضح رہے کہ افغان حکومت نے اب تک چار ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کیا ہے جبکہ طالبان نے افغان سکیورٹی فورسز کے چھ سو اہلکاروں کو رہا کیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More