سعودی عرب میں قطری چینل بی اِن اسپورٹس کا نشریاتی لائسنس منسوخ، 27 لاکھ ڈالر جرمانہ

العربیہ  |  Jul 15, 2020

سعودی عرب نے قطر کے ملکیتی بی اِن اسپورٹس چینل کا مملکت میں نشریات کا لائسنس مستقل طور پر منسوخ کردیا ہے اور اس پر’’اجارہ دارانہ طرزعمل‘‘ اختیار کرنے پر ایک کروڑ ریال (قریباً 27 لاکھ ڈالر) جرمانہ عاید کیا ہے۔

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے مسابقت ( جی اے سی) نے اس ضمن میں منگل کے روز ایک بیان جاری کیا ہے۔اس نے کہا ہے کہ ’’وہ بی ان اسپورٹس کے خلاف شکایات کی تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ قطری چینل نے 2016ء میں یورپی فٹ بال چیمپیئن شپ کے میچوں کے خصوصی نشریاتی حقوق کا استحصالی انداز میں ناجائز استعمال کیا تھا۔‘‘

اتھارٹی نے مزید کہا ہے کہ’’بی اِن اسپورٹس نے یورو 2016 ءٹورنا منٹ دیکھنے کے لیے کھیلوں کا بنڈل خرید کرنے والے اپنے صارفین کو مجبور کیا تھا کہ وہ دوسرے بنڈل بھی خرید کریں اور ان میں کھیلوں کے علاوہ دوسرا مواد دکھایا گیا تھا۔اس کے علاوہ انھیں ایسے بنڈل خرید کرنے پر بھی مجبور کیا تھا جن میں مختلف قسم کے ٹورنا منٹ اور کھیلوں کے مقابلے دیکھنے کی پیش کش کی گئی تھی۔‘‘

جی اے سی نے بی اِن اسپورٹس کے اس طرز عمل کو مسابقتی قانون کی ’’واضح خلاف ورزی‘‘ قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ قطر نے اکتوبر2018ء میں سعودی عرب پر بی اِن اسپورٹس کی نشریات بلاک کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور اس کے خلاف عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) سے رجوع کیا تھا۔اس نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ سعودی عرب چینل بی آؤٹ کیو کی جانب سے بی اِن اسپورٹس کے مواد کی چوری پر کوئی کارروائی نہیں کررہا ہے۔

گذشتہ ماہ ڈبلیو ٹی او نے ایک رپورٹ میں قرار دیا تھا کہ سعودی عرب کے قطر کے خلاف اقدامات جائز ہیں اور وہ سعودی عرب کے سکیورٹی مفادات کے تحفظ کے لیے ڈبلیو ٹی او کے حقوقِ دانش کی ملکیت کے تحفظ کے لیے قواعد وضوابط کے مطابق ہیں۔

ڈبلیو ٹی او کے پینل نے کہا تھا کہ سعودی عرب ’’ اپنے شہریوں ، اپنی آبادی ، اپنے سرکاری اداروں اور اپنے علاقے کو انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خطرات سے بچانا چاہتا ہے۔‘‘

تنظیم کے قانونی پینل کو اس امر کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا کہ سعودی عرب نے ڈبلیو ٹی او کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔اس نے ان دعووں کو بھی مسترد کردیا تھا کہ سعودی حکومت نے مبیّنہ طور پر کاپی رائٹ کی چوری کی حمایت کی ہے۔

سعودی عرب نے اپنی وزارتِ تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے مملکت میں بی آؤٹ کیو کی سرگرمیوں کا مقابلہ کیا ہے۔اس وزارت نے اس کے ہزاروں ٹاپ باکسز ضبط کیے ہیں جنھیں حقوقِ دانش کی خلاف ورزی کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا۔حکومتِ سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ وہ حقوقِ دانش کے تحفظ کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی۔

یادرہے کہ سعودی عرب کے علاوہ متحدہ عرب امارات ، مصر اور بحرین نے جون 2017ء میں قطر کے ساتھ ہرطرح کے سفارتی ، تجارتی اور مواصلاتی روابط منقطع کر لیے تھے اور اس پر دہشت گردی اور دہشت گرد گروپوں کی مالی معاونت کا الزام عاید کیا تھا۔ قطر نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More