امریکہ: آن لائن کلاسیں لینے والے غیر ملکی طلبہ کو ملک بدر کرنے کی پالیسی واپس

بی بی سی اردو  |  Jul 15, 2020

Getty Images
میساچوسیٹس میں واقع ہارورڈ یونیورسٹی اپنی تمام تر تعلیمی سرگرمیاں آن لائن کر چکی ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اُن غیر ملکی طلبا کو ملک بدر کرنے کے منصوبے سے دستبردار ہوگئی ہے جن کی تعلیمی سرگرمیاں کورونا کے باعث مکمل طور پر آن لائن ہو چکی ہیں۔

امریکہ کی حکومت کی جانب سے یہ یو ٹرن نئی پالیسی کے اعلان کے ایک ہفتے کے بعد ہی لیا گیا ہے۔

اس سے قبل چھ جولائی کو

اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اس معاہدے کے تحت مارچ میں وبا پھوٹنے پر جو پالیسی نافذ کی گئی تھی، اسے بحال کیا جائے گا جس کے مطابق غیر ملکی طلبا ضرورت ہونے پر اپنی کلاسیں آن لائن بھی لے سکتے ہیں اور اسی دوران تعلیمی ویزا پر ملک میں قانونی طور پر مقیم رہ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ ہر سال دنیا بھر سے بڑی تعداد میں طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا رُخ کرتے ہیں جس سے وہاں کی یونیورسٹیوں کو خاصی آمدنی ہوتی ہے۔

ہارورڈ نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر اگلے تعلیمی سال سے کورسز آن لائن پڑھائے جائیں گے جبکہ دیگر تعلیمی اداروں کی طرح ایم آئی ٹی نے بھی کہا تھا کہ وہ آن لائن تعلیم ہی جاری رکھے گی۔

Getty Images
غیر ملکی طلبہ کو مطلع کیا گیا تھا کہ اگر انھوں نے رواں سال فال سیمیسٹر میں کسی ایسے کورس میں اندراج نہیں کروایا جہاں ذاتی طور پر حاضری ضروری ہو، تو انھیں امریکہ میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

گذشتہ ہفتے کی پالیسی میں کیا تھا؟

غیر ملکی طلبہ کو گذشتہ ہفتے مطلع کیا گیا تھا کہ اگر انھوں نے رواں سال فال سیمیسٹر میں کسی ایسے کورس میں اندراج نہیں کروایا جہاں ذاتی طور پر حاضری ضروری ہو، تو انھیں امریکہ میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جو طلبہ مارچ میں تعلیمی سال کے اختتام پر اپنے اپنے ممالک کو لوٹ گئے تھے ان کے لیے اعلان میں کہا گیا تھا کہ اگر اُن کی کلاسیں مکمل طور پر آن لائن ہو چکی ہیں تو انھیں واپس نہیں لوٹنے دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے سٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام نے ابتدائی طور پر غیر ملکی طلبہ کو سپرنگ اور سمر 2020 میں امریکہ میں رہتے ہوئے آن لائن کلاسیں لینے کی اجازت دی تھی۔

تاہم چھ جولائی کو ادارے نے کہا تھا کہ وہ طلبہ جو ایسے کسی کورس میں مندرج نہیں جس میں ذاتی طور پر حاضری ضروری ہو، انھیں ملک بدری تک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کون سے ویزا متاثر ہوئے تھے؟

ان ضوابط کا اطلاق ایف ون اور ایم ون ویزا کے حامل افراد پر ہونا تھا جو طلبہ اور ہنری تربیت حاصل کر رہے افراد کو دیا جاتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق محکمے نے مالی سال 2019 میں تین لاکھ 88 ہزار 839 ایف ویزے اور نو ہزار 518 ایم ویزے جاری کیے تھے۔

امریکہ کے محکمہ تجارت کے مطابق غیر ملکی طلبا کی وجہ سے سنہ 2018 میں امریکی معیشت کو 45 ارب ڈالر (36 ارب پاؤنڈ) کا فائدہ ہوا۔

یونیورسٹیوں کا کیا ردِ عمل تھا؟

دو دن کے بعد ہارورڈ اور ایم آئی ٹی نے حکومت کی ان ہدایات کی منسوخی کے لیے مقدمہ دائر کر دیا۔ درجنوں دیگر یونیورسٹیوں نے بھی عدالتی دستاویزات پر اپنی حمایت کے دستخط کیے۔

ان 59 یونیورسٹیوں نے اپنی حمایتی دستاویز میں مؤقف اختیار کیا کہ 'اصل مقصد طلبہ کے مکمل کورسز میں اندراج کو یقینی بنانا یا سٹوڈنٹ ویزا پروگرام کی ساکھ برقرار رکھنا نہیں، بلکہ یونیورسٹیوں پر دوبارہ کھلنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔'

اس کے علاوہ ریاست میساچوسیٹس، کیلیفورنیا سمیت کم از کم 18 ریاستوں کے اٹارنی جنرل بھی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف عدالتوں میں گئے۔

صدر ٹرمپ یونیوسٹیوں اور سکولوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ نئے تعلیمی سال میں طلبہ کی کلاس رومز میں واپسی کو یقینی بنائیں۔

ان کے مطابق کئی ماہ کی افراتفری اور ہنگامی حالت کے بعد یہ حالات کی بہتری کا ایک اشارہ ہوگا جو نومبر میں ان کے دوبارہ انتخاب کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

مگر کئی تعلیم دانوں کو طلبہ کی صحت کے حوالے سے خدشات ہیں اور وہ وبا کے دوران سماجی دوری کے ضوابط کی پاسداری جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More