ڈارک نیٹ پر منشیات اسمگلنگ: بین الاقوامی کارروائی

ڈی ڈبلیو اردو  |  Sep 23, 2020

یورپین پولیس ایجنسی 'یورو پول‘ اور امریکا کے محکمہ انصاف (USDOJ) نے منگل 22 ستمبر کو بتایا کہ بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے حکام نے 179 سرچ وارنٹس پر کارروائی کرتے ہوئے 170 سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔ اس کارروائی کا ہدف ''ڈارک ویب پر غیر قانونی اشیا فروخت کرنے والے اور خریدار تھے۔‘‘

'ڈِسرپ ٹور‘ کے کوڈ نام سے کیے جانے والے اس آپریشن کے دوران 6.5 ملین ڈالر کے قریب نقد رقم اور ورچوئل کرنسی کے علاوہ ہتھیار، 500 کلوگرام منشیات بھی قبضے میں لی گئیں، جن میں کوکین، فینٹانیل، ہیروئن، اوکسی کوڈون اور میتھافیٹامین وغیرہ شامل ہیں۔

ڈارک نیٹ: انٹرنیٹ پر جرائم کی تاریک دنیا

انٹرنیٹ کی تاریک دنیا ' ڈارک نیٹ‘ کیسے کام کرتی ہے؟

یورپ بھر میں ہونے والی کارروائی کے دوران 42 افراد کو جرمنی، آٹھ کو ہالینڈ، چار کو برطانیہ اور تین کو آسٹریا سے حراست میں لیا گیا۔ 121 افراد کو امریکا میں گرفتار کیا گیا۔

جرمنی کی وفاقی کریمنل پولیس (بی کے اے) نے ڈچ نیشنل پولیس اور یورو پول اور یورو جسٹ کے علاوہ متعدد امریکی ایجنسیوں  کے ساتھ مل کر 'وال اسٹریٹ مارکیٹ‘ نامی ڈارک نیٹ خریدو فروخت کے پلیٹ فارم کا خاتمہ کیا جس سے حاصل ہونے والی معلومات سے ڈارک ویب پر غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث اکاؤنٹس کے پیچھے چھپے افراد کی شناخت میں مدد ملی۔

'گمنامی اب مزید نہیں‘، عالمی قانون نافذ کرنے والے حکام

'ڈسرپ ٹور‘ کا کوڈ نام دراصل ٹور براؤزر کے حوالے سے ہے جو انٹرنیٹ پر سب سے بڑا انکرپٹڈ پراکسی نیٹ ورک ہے۔ یہ ڈارک ویب کے نام سے جانے جانے والے انٹرنیٹ کا حصہ ہے جہاں افراد اپنی اصل شناخت کو خفیہ رکھ سکتے ہیں۔ یورپی اور امریکی حکام نے اس آپریشن کے دوران اپنی اس صلاحیت کو ثابت کیا کہ وہ گمنام ڈارک نیٹ اکاؤنٹس کے پیچھے چھپے افراد کو اب شناخت کر سکتے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 02:08 ڈارک نیٹ، جہاں جرائم پیشہ افراد چائلڈ پورن فروخت کرتے ہیں

بھیجیے Facebook Twitter google+ Whatsapp Tumblr Digg stumble reddit Newsvine

پیرما لنک https://p.dw.com/p/32qUU

ڈارک نیٹ، جہاں جرائم پیشہ افراد چائلڈ پورن فروخت کرتے ہیں

یورو پول کے ایڈوارڈس سیلیرِس کے بقول، ''خفیہ انٹرنیٹ اب مزید خفیہ نہیں رہا اور آپ کی گمنام کارروائی اب مزید گمنام نہیں رہی۔ ڈارک ویب مارکیٹ کا سنہری دور اب ختم ہو گیا۔‘‘

ا ب ا / ک م (اے ایف پی، اے پی، ڈی پی اے)

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More