دلیپ کمار نے پشاور میں لوگوں سے گزارش کی ہے کہ وہ ان کے آبائی گھر کی تصاویر شیئر کریں

ڈی ڈبلیو اردو  |  Oct 01, 2020

پاکستانی صوبہ خیبر پختونخواہ کے محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے بھارت کے ممتاز اداکار دلیپ کمار اور راج کپور کی پشاور میں واقع آبائی رہائش گاہوں کو  سرکاری تحویل میں لے کر میوزیم میں تبدیل کرنے کے فیصلے کے بعد دلیپ کمار نے پشاور کے علاقے قصہ خوانی بازار  میں واقع اپنے آبائی گھر کی تصاویر شیئر کرنے کی درخواست کی ہے۔

مزیر پڑھیے: کورونا وائرس کا خوف: لیجنڈ اداکار دلیپ کمار مکمل تنہائی میں

دلیپ کمار نے ٹوئٹر پر شیراز حسن نامی ایک مقامی صحافی کا  اپنے آبائی گھر کی تصاویر شائع کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا، ’’ پشاور میں موجود دیگر افراد سے بھی گزارش ہے کہ میرے آبائی گھر کی تصاویر شائع کریں۔‘‘

دلیپ کمار کی اس ٹوئیٹ کے بعد  پشاور سے ان کے مداحوں کی جانب سے DilipKumar# کے ساتھ ان کے آبائی گھر کی بڑی تعداد میں تصاویر بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

دلیپ کمار نے اپنے آبائی گھر میں بتائے انمول یادوں کے بارے میں سن 2011 میں ایک بلاگ لکھا۔ دلیپ کمار کے بقول، ’’قصہ خوانی بازار کی خوبصورت یادیں ہیں، مجھے کہانیاں سنانے کا پہلا سبق وہیں ملا تھا، جس نے بعد میں مجھے میرے کام کے لیے عمدہ کہانیاں اور اسکرپٹ کا انتخاب کرنے میں حوصلہ افزائی کی۔‘‘

یہ بھی پڑھیے:  تاریخی فلم اسٹوڈیو ’بمبئی ٹاکیز‘ اب ایک کھنڈر ہے

پشاور میں دلیپ کمار، شاہ رُخ خان اور بالی وُڈ کے کئی دیگر معروف ترین ستاروں کے آبائی گھروں کے بارے میں پشاور میں ڈی ڈبلیو اردو کے نمائندے مدثر شاہ نے حال ہی میں یہ ویڈیو رپورٹ تیار کی تھی۔

بھارتی فلمی صنعت میں اداکاری کے جوہر دکھانے کے لیے ممبئی منتقل ہونے سے قبل لیجنڈ اداکار دلیپ کمار پاکستانی شہر پشاور کے حالیہ علاقہ قصہ خوانی بازار میں مقیم تھے۔سن 1922 میں ان کی پیدائش برصغیر کے ملک ہندوستان کے شہر پشاور میں ہوئی تھی۔ اس طرح ان کا آبائی وطن  موجودہ پاکستان کا شہر پشاور ہے۔ دلیپ کمار کی عمر 97 برس ہے اور وہ ممبئی کے علاقے باندرہ میں رہتے ہیں۔

آڈیو سنیے 07:44 سنیے دلیپ کمار کی 93 ویں سالگرہ پر اُن کا ایک یادگار انٹرویو

بھیجیے Facebook Twitter google+ Whatsapp Tumblr Digg stumble reddit Newsvine

پیرما لنک https://p.dw.com/p/1HM5q

سنیے دلیپ کمار کی 93 ویں سالگرہ پر اُن کا ایک یادگار انٹرویو

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More