کورونا: جرمن محققین نے سنگین اثرات دریافت کر لیے

ڈی ڈبلیو اردو  |  Oct 28, 2020

جرمن محققین نے کورونا کی علامات اور اس کے اثرات سے متعلق ایک نئی تحقیق کے نتائج منظرعام پر لا کر یہ ثابت کیا ہے کہ کووڈ انیس کی علامات اور اس کے اثرات اس انفیکشن سے بچ جانے کے بعد بھی طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔ محققین نے خاص طور سے ایسے افراد کو متنبہ کیا ہے جن میں طویل عرصے سے تھکن اور پھیپھڑوں کی کمزوری جیسے مسائل پائے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: جرمنی: کورونا کے پھیلاؤ کے سبب پابندیاں سخت تر

ماہرین کے مطابق کووڈ انیس کے شکار افراد بھی اکثر اپنے اندر پائی جانے والی علامات کو معمول کی سردی لگ جانے، یعنی فلو، بخار یا کھانسی سمجھ رہے ہوتے ہیں جبکہ ان کی کووڈ انیس پر کی جانے والی تحقیق کے تازہ ترین اثرات سے پتا چلا ہے کہ مریضوں میں '' پچھلا انفیکشن، جو شدید نہیں تھا، دل کے ایک خطرناک عارضے ''مایوکارڈیٹس‘‘ یعنی دل کے عضلات کے انفیکشن کا سبب بنا ہے۔

کورونا انفیکشن اور مریضوں کے دل کے پٹھوں کی سوزش

جرمن محققین نے اپنی نئی تحقیق میں دو افراد کی کیس اسٹیڈی کو شامل کیا۔ انہیں دل کی تکلیف ''مایوکار ڈیِٹس‘‘  کا شکار ہونے کے شبے میں مغربی جرمن شہر مائنز کی یونیورسٹی کلینک کے 'سینٹر فار کارڈیولوجی‘ میں داخل کیا گیا۔

یہ دونوں مریض 40 سال سے کم عمر کے تھے۔ جسمانی طور پر فعال تھے اور ان کے ناک اور گلے سے Sars-coV2 ٹیسٹ کے نمونے لے کر ان کا ٹیسٹ کیا گیا جس کے نتائج منفی نکلے یعنی یہ اس انفیکشن کا شکار نہیں پائے گئے۔ کلینک میں داخلے سے چار ہفتے پہلے انہیں شدید انفیکشن کے ساتھ فلو ہوا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More