زندہ ہے توبتاؤ، مرگیاتو لاش ہی دیدو، اہلخانہ لاپتہ افراد

سماء نیوز  |  Dec 01, 2020

لاپتہ شہریوں کے کیس کی منگل کو سندھ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی جس کے دوران متاثر اہل خانہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور اپنے پیاروں کی بازیابی کے حوالے سے کئی سوالات اٹھا دیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے گھر کا لاپتہ فرد مرگیا ہے تو ارباب اختیار ہمیں بتادیں اور اس کی لاش ہی دے دیں تاکہ صبر آجائے۔

کمرہ عدالت ميں دوران سماعت لاپتہ شہريوں کے اہلخانہ نے آواز بلند کرتے رہے۔ کسی فرد کو غائب ہوئے 9 سال تو کسی کو 6 سال بیت چکے ہیں، کسی کا شوہر تو کسی کا بھائی لاپتہ ہے اور ان کے رشتہ دار اپنے پیاروں کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب ہیں۔

اس موقع پر سرکاری دفتر ميں نائب قاصد کی حيثيت سے کام کرنے والے حسن بلال کی اہليہ بھی آبديدہ ہوگئيں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر کا 6 سال سے کچھ پتہ نہیں۔ خاتون کے چار بچے ہيں اور سرکار نے اب ان کے شوہر کی تنخواہ بھی بند کردی ہے۔

عدالت نے 4 فروری کو جیل سپرنٹنڈنٹ کو ذاتی حیثیت ميں طلب کرلیا اور پولیس حکام سے تمام لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق پیشرفت رپورٹ بھی طلب کرلی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More