شرح سود 7فیصد برقرار رکھے جانے کا امکان

سماء نیوز  |  Sep 18, 2021

فوٹو: اے ایف پی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان 20ستمبر کو کرے گا جس میں شرح سود کو 7فیصد پر برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔

تجزیہ کار رضا جعفری نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے پچھلے سال کرونا کے پیش نظر شرح سود میں کمی تھی، کرونا وبا کے اثرات تاحال ختم نہیں ہوسکے اور کچھ عرصے میں سردیاں بھی آنے والی ہیں تو ممکن ہے کہ کرونا وبا سے ملک معاشی طور پر متاثر ہو، ایسا نہیں لگتا کہ مرکزی بینک اس مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں اضافہ کرے گا۔

تجزیہ کار عدنان سمی شیخ کے مطابق بھی اس بار شرح سود مقررہ سطح پر برقرار رکھے جانے کا امکان ہے اور مہنگائی اگلے تین ماہ میں 8 فیصد سے بھی کم ہونے کا امکان ہے۔ اسکے علاوہ پیٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔

عدنان سمی کے مطابق اگر مرکزی بینک ایسے میں شرح سود میں اضافہ کرتا ہے تو معیشت پر دباو آجائے گا بلکہ معاشی ترقی کے لیے حکومت کو شرح سود مزید کم کرنا پڑے گا۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی ایک ریسرچ میں 68 افراد نے حصہ لیا۔ ریسرچ میں حصہ لینے والے 65 فیصد لوگوں کے مطابق رواں سال کے آخر تک شرح سود میں اضافے کا کوئی امکان نہیں ہے جبکہ 25 فیصد لوگوں کے مطابق رواں سال کے آخر تک شرح سود 0.25 فیصد، آٹھ فیصد لوگوں کے مطابق 0.5 فیصد اور دو فیصد لوگوں کے مطابق شرح سود میں 0.5 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوگا۔

مانیٹری پالیسی کا اعلان ہر دو ماہ بعد کیا جاتا ہے جس میں معاشی جائزے کے بعد نئی مانیٹری پالیسی کی منظوری دی جاتی ہے۔ اگلی مانیٹری پالیسی کا اعلان رواں مالی سال 26 نومبر کو کیا جائے گا۔

واضح رہے مارچ 2020 میں شرح سود 13.25 فیصد کی بلند سطح پر تھی۔ کرونا وبا کے باعث شرح سود مارچ میں 75 پیسے کم کرکے 12.50 فیصد اور اپریل میں 3.50 فیصد کم کر کے 9 فیصد کردی گئی تھی۔

بعد ازاں گزشتہ سال جون میں کرونا کیسز کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود کو مزید کم کرکے 7فیصد تک کر دیا گیا تھا اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے پچھلی 5 ماینٹری پالیسیوں میں بھی معیشت کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے شرح سود میں اضافہ نہیں کیا۔

مانیٹری پالیسی میں مرکزی بینک شرح سود کو بڑھانے یا کم کرنے کا تعین کرتا ہے۔ جب شرح سود میں اضافہ کیا جاتا ہے تو کاروباری افراد کو زیادہ شرح سود پر کاروبار کے لیے بینکوں سے قرضے لینے پڑتے ہیں، شرح سود زیادہ ہونے کے باعث لوگ کم قرضے لیتے ہیں جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور بے روزگاری میں اضافہ اور معیشت میں بحران پیدا ہوتا ہے۔

شرح سود میں کمی کی صورت میں لوگوں کو بینکوں سے سستے قرضے ملتے ہیں اور کاروباری افراد زیادہ سے زیادہ قرضے حاصل کرتے ہیں، کاروباری سرگرمیاں بڑھنے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور لوگوں میں اشیاء کو خریدنے کی قوتِ خرید بڑھتی ہے، اشیاء کی طلب میں اضافے سے قیمتیں بڑھتی ہیں جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More