سندھ میں غیرقانونی تعمیرات کو ریگولرائز کرانے کیلئے آرڈیننس تیار

سماء نیوز  |  Dec 01, 2021

سندھ حکومت نے کراچی سمیت صوبہ بھر میں غیر قانونی تعمیرات ریگولرائز کرنے کا آرڈیننس تیار کرکے گورنر سندھ کو بھجوادیا۔ آرڈیننس کے مطابق ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن بنایا جائے گا، جس کی سفارش پر غیرقانونی تعمیرات میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی ہوگی۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کراچی میں نسلہ ٹاور، تجوری ہائٹس سمیت متعد غیر قانونی عمارتوں کو مسمار کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

سندھ حکومت نے کراچی سمیت صوبہ بھر میں غیر قانونی تعمیرات کو ریگولرائز کرنے کا آرڈیننس تیار کرلیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آئین کے آرٹیکل 128 کے تحت گورنر سندھ عمران اسماعیل کو آرڈیننس بھجوادیا، سندھ کمیشن فار ریگولرائزیشن آف کنسٹرکشن کا اطلاق پورے سندھ پر ہوگا۔

آرڈیننس میں کہا گیا گیا ہے کہ ريٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن بنایا جائے گا، یہ کمیشن ذمہ داروں کيخلاف کارروائی کا حکم دے سکتا ہے۔

آرڈیننس کے مطابق کمیشن کی سفارش پر غیرقانونی تعمیرات ميں ملوث افسران کيخلاف کارروائی ہوگی۔

اس سے قبل سندھ حکومت کے ترجمان اور ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جو نسلہ ٹاور پر کھڑے ہوکر پریس کانفرنس کرتے ہیں انہوں نے اسمبلی سے راہ فرار اختیار کرلی۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی طرز پر سندھ میں بھی قانون ہے، صرف ایک پیرا شامل کیا گیا ہے کہ اینٹی انکروچمنٹ ڈرائیو کو کمیٹی کے فیصلہ کرنے تک فوری طور پر روک دیا جائے، ریٹائرڈ جج ریگولرائز کمیشن کا سربراہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ امید ہے وہ لوگ جو ایک پاکستان کی بات کرتے ہیں، ان کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہوگا، وہ لوگ اس پر سیاسی رسہ کشی نہیں کریں گے، امید ہے ہم اس آرڈیننس کو اسمبلی سے پاس بھی کروائیں گے۔

 مزید جانیے: کنٹونمٹس کی تمام زمین اصل حالت میں بحال کرنا ہوگی، چیف جسٹسسپریم کورٹ کے نسلہ ٹاور کو منہدم کرنے کے فیصلے پر صوبائی وزیر سعید غنی نے سندھ اسمبلی میں اپنے ایک خطاب میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود لوگوں کو بے گھر نہیں کرسکتے، جسے یہ کام کرنا ہے وہ خود کرلے۔ سپریم کورٹ نے سعید غنی کو طلب کرکے اس معاملے پر وضاحت بھی طلب کی تھی۔

پیپلزپارٹی نے سندھ اسمبلی سے غیر قانونی تعمیرات منہدم کرنے کیخلاف ایک قرار داد بھی منظور کرائی تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More