امریکا، چین اور روس کے درمیان خلائی ہتھیاروں کی تیز ہوتی دوڑ

بول نیوز  |  Dec 04, 2021

امریکا کے اسپیس فورس کے اسپیس آپریشن کے فرسٹ وائس چیف جنرل ڈیوڈ تھامپسن کہتے ہیں کہ ہم ایک ایسے مقام پر ہیں اب جہاں سے ہمارے اسپیس سسٹمز کو خطرہ ہوسکتا ہے۔

امریکی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطرات ہر دن کے ساتھ بڑھتے جارہے ہیں اور یہ طویل عرصے میں بڑھتے بڑھتے یہاں تک آئے ہیں۔

انہوں نے امریکا کو سیٹلائیٹس پر ہونے والے ریورسیبل حملوں سے نان-کائنیٹک آلات جیسے کہ لیزر، ریڈیو فریکوئنسی جیمرز اور سائبر اٹیکس کے ذریعے ہر دن نمٹنا ہوگا۔

دنیا بھر کے ماہرین نے سیٹلائیٹس کےخلاف کائنیٹک ہتھیار کے استعمال کےخلاف بات کی ہے جو خلاء میں زمین کے گرد ملبے کی صورت حال کو خراب کر رہے ہیں اور دنیا میں موجود انسانوں کو سنگین صورت حال میں پھنسا رہے ہیں۔

چین اپنے ورژن کے جی پی ایس اور دو سو کے قریب جاسوسی اور تحقیقاتی سیٹلائیٹس بنا رہا ہے جو امریکا کے سیٹلائیٹس سے دُگنے  ہیں۔

تھامپسن نےکہا چینی روس سے بہت آگے ہیں۔ وہ آپریشنل سسٹمز کو ناقابلِ یقین شرح سے پھیلا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ’ہم اب بھی دنیا میں بہترین ہیں، صلاحیت کے اعتبار سے لیکن وہ تیزی سے برابر آ رہے ہیں۔ اور اگر ہم نہیں بدلے تو امریکا کو اس دہائی کے آخر تک فکر مند ہونا چاہیئے۔‘

اطلاعات کے مطابق بائیڈن انتظامیہ چین کی کمیونسٹ پارٹی سے سائبر اسپیس اور اسپیس کے متعلق بین الاقوامی ضوابط طے کرنے کے لیے رابطہ کر رہی ہے لیکن بیجنگ کی جانب سے کوئی جواب نہیں آ رہا ہے۔

امریکی اسپیس کمانڈ کے مطابق روس نے جولائی 2020 میں اسپیس بیسڈ اینٹی سیٹلائیٹ ہتھیار کا نان-ڈسٹرکٹِو ٹیسٹ کیا تھا اور یہی ٹیسٹ دوبارہ اس ہی سال دسمبر میں کیا۔

پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق چین بھی ایسے میزائل اور برقی ہتھیار بنانے میں آگے بڑھ رہا ہے جو مدار کی بلند اور نچلے مدار کے سیٹلائیٹس کو نشانہ سکیں۔

امریکا بھی اپنے خلائی ہتھیار کی رُونمائی کا منصوبہ بنا رہا ہے جو سیٹلائیٹ یا اسپیس کرافٹ کو تباہ کر سکے۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More