عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کرنے والا ہلاک، یہودی عبادت گاہ کے یرغمالی بازیاب

اردو نیوز  |  Jan 16, 2022

امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے کہا ہے کہ یہودی عبادت گاہ میں یرغمال بنائے گئے تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ٹیکساس کے گورنر کے اعلان سے قبل عبادت گاہ کے قریب دھماکے اور گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں۔

پولیس حکام نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ 'عبادت گاہ میں یرغمال بنانے والا مشتبہ شخص مارا گیا۔'

قبل ازیں وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ صدر جو بائیڈن کو یہودی عبادت گاہ میں پیش آنے والے واقعے اور بدلتی صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ 

خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق ٹیکساس کے گورنر نے کہا تھا کہ عبادت گاہ میں تین افراد کو یرغمال بنانے والے شخص نے امریکہ کی جیل میں قید عافیہ صدیقی سے بات کرنے یا ملنے کا مطالبہ کیا۔

یہودی عبادت گاہ میں تین افراد کو یرغمال بنانے کا واقعہ امریکہ کے مقامی وقت کے مطابق سنیچر کی صبح پیش آیا اور تقریبا دس گھنٹے سے زائد جاری رہا۔

اس دوران آٹھ گھنٹے بعد پہلے یرغمالی کو رہا کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق کولیویل شہر کی کانگریگیشن بیتھ اسرائیل نامی عبادت گاہ میں یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہاں ہونے والی عبادت کو لائیو سٹریم کیا جا رہا تھا۔ 

عبادت گاہ کی لائیو سٹریم فیڈ کو ہٹانے سے قبل نشر ہونے والی ویڈیو میں ایک شخص کو بلند آواز میں کہتے سنا گیا کہ وہ کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔

پولیس کے مطابق ایف بی آئی کے اہلکار عبادت گاہ میں یرغمالی صورتحال بنانے والے شخص سے مذاکرات کرتے رہے۔

روئٹر نیوز ایجنسی نے اے بی سی ٹیلی ویژن کے حوالے سے بتایا تھا کہ عبادت گاہ میں موجود شخص مسلح ہے جس کا دعویٰ تھا کہ اس نے مختلف جگہوں پر نصب کیے ہیں۔

اے بی سی ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق ایک ربی اور دیگر تین افراد کو یرغمال بنانے والے شخص نے پاکستان سے تعلق رکھنے والی عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم نفتالی بینیٹ نے ایک ٹویٹ میں یرغمال بنائے گئے افراد اور ان کو ریسکیو کرنے کے لیے موجود لوگوں کے تحفظ کی دعا کی۔

انہوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ 'میں نے کولیویل، ٹیکساس کے کانگریگیشن بیتھ اسرائیل میں یرغمال بنانے کے واقعے کی صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے۔'

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More