فیکٹ چیک:افغانستان میں فنکاروں کےساتھ توہین آمیز ویڈیو کی حقیقت

سماء نیوز  |  Jan 16, 2022

افغانستان میں اس وقت معاشی بحران شدید ہوتا جا رہا ہے تاہم اس دوران افغانستان کے صوبے پکتیکا میں طالبان کی جانب سے مبینہ طور پر موسیقی کے آلات جلانے معاملہ سامنے آیا ہے۔

ٹویٹر پر وائرل ایک ویڈیو میں افغان طالبان موسیقی کے آلات جلاتے ہوئے نظر آرہے ہیں جس نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔

یہ ویڈیو ایک ٹویٹر صارف اہتشام افغان کی طرف سے پوسٹ کی گئی ہے جسے اب تک تقریباً ایک لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے تاہم واقعہ کی اصل تاریخ کی تصدیق کسی باوثوق ذریعے سے نہیں ہوسکی۔

ویڈیو میں فنکاروں کے پھٹے ہوئے کپڑوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ انہیں بھی مارا گیا ہے۔ ویڈیو میں طالبان کو اپنے بال کاٹتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔ افغان صحافیوں کے مطابق یہ واقعہ پکتیکا صوبے کے ضلع زازی آریوب میں پیش آیا ہے۔

معروف افغان صحافی بلال سروری نے ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ طالبان جنگجوؤں نے ملک بھر میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔

سماء ڈیجیٹل کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ ویڈیو تین سال پرانی ہے۔ پکتیا کے ایک مقامی طالبان کمانڈر زدران کے مطابق ویڈیو تین سے ساڑھے تین سال پرانی ہے۔

 طالبان رہنما کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں اسلحہ اور کالی شال کے ساتھ نظر آنے والا شخص اللہ نور طوفان ہے جسے دو سال پہلے شہید کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ “یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی مردہ آدمی اچانک ویڈیو میں دوبارہ سامنے آجائے۔”

زدران کے مطابق ان کے ساتھ کھڑا دوسرا آدمی بھی ڈھائی سال پہلے شہید ہو گیا تھا۔انہوں نے مزید لکھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے تقریباً تمام افراد اب اس دنیا میں نہیں ہے اور طالبان کے علم میں ہے کہ یہ پرانی ویڈیو ہے اسلئے سرکاری سطح پر واقعہ پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔

خیال رہے کہ طالبان نے تاحل موسیقی پر پابندی کے حوالے سے باقاعدہ کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق افغان طالبان اس وقت ایک عبوری سیٹ اپ میں ہیں اور ابھی تک کوئی شرعی قانون نافذ نہیں ہوا تاہم طالبان شراب، اسلحے کی اسمگلنگ اور منشیات پر پابندی کے قوانین کی پیروی کر رہے ہیں کیونکہ یہ خلاف قانون ہے۔  داڑھی کاٹنے اور موسیقی پر پابندی افغانستان میں طالبان حکومت کی سرکاری پالیسی کا حصہ نہیں ہے ہاں البتہ کچھ علاقوں میں مقامی طالبان پرانی پابندیوں کی بات کرسکتے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More