تمباکو صنعت ماحولیات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے، عالمی ادارہ صحت

ڈی ڈبلیو اردو  |  Jun 01, 2022

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 'ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے' کی مناسبت سے منگل کے روز اپنی تازہ ترین رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہر سال 80 لاکھ افراد کی موت ہو جاتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے ساتھ ہی تمباکو مصنوعات کی تیاری اور استعمال کے نتیجے میں سالانہ تقریباً  60 کروڑ درختوں، دو لاکھ ہیکٹر اراضی اور 22 ارب ٹن پانی کا بھی نقصان ہوتا ہے۔

تمباکو صنعت کاربن گیس کے اخراج کا اہم ذریعہ

تمباکو کے استعمال یا پیداوار کے نتیجے میں عالمی سطح پر سبز مکانی گیس یا گرین ہاؤس گیسوں میں کافی اضافہ ہوتا ہے۔ تمباکو صنعت کی وجہ سے  سالانہ تقریباً 84 ملین ٹن نقصان دہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس فضا شامل ہو جاتی ہے۔

رپورٹ میں متنبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے، ''ہر سال کمرشل ایئر لائن انڈسٹری سے جتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس پیدا ہوتی ہے، اس کے پانچویں حصے کے برابر کاربن تمباکو صنعت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس میں تمباکو کی پیداوار، پروسیسنگ اور ٹرانسپورٹ شامل ہے، جو گلوبل وارمنگ میں اضافے کا باعث ہے۔‘‘

سگریٹ فلٹر بھی کافی نقصان دہ

ڈبلیو ایچ او کے ہیلتھ پروموشن کے ڈائریکٹر روڈیجر کریچ کا کہنا تھا کہ ہر سال تقریباً 4.5 کھرب سگریٹ فلٹر، جن میں نان بائیو ڈی گریڈیبل مائیکرو پلاسٹک ہوتے ہیں، سمندروں، ندیوں اور ساحلوں کو آلودہ کرتے ہیں۔

کریچ کا کہنا تھا کہ اس کرہ ّ ارض پر سب سے زیادہ گندگی تمباکو مصنوعات سے پھیلتی ہے۔ ان میں سات ہزار سے زائد زہریلے کیمیکلز ہوتے ہیں جو ہمارے ماحولیات کو تباہ کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پھینک دیے جانے والے تمباکو مصنوعات کی صفائی کا خرچ ٹیکس دہندگان کی جیب پر پڑتا ہے۔ جرمنی میں تمباکو کے کچرے کو صاف کرنے کے لیے ہر سال تقریباً 200 ملین ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔

رپورٹ میں پالیسی سازوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سگریٹ فلٹروں کے ماحولیات پر پڑنے والے نقصان دہ اثرات کے مدنظر اس پر پابندی عائد کرنے پر غور کریں۔

ڈبلیو ایچ او نے تمباکو کاشت کرنے والے کسانوں کے استحصال کی جانب بھی توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ تمباکو اگانے والے کسانوں کو نقصان دہ گیسوں کے اخراج کے سبب صحت اور دیگر کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کریچ نے کہا کہ بعض کسانوں میں جلد کے ذریعے زہریلا مادہ نیکوٹین ان کے جسم میں پہنچ گیا۔ 

کریچ نے کہا،" یہ صنعت جو گندگی پھیلا رہی ہے اس کے مدنظر لازم ہے کہ وہ اس نقصان کا ازالہ کرے۔"

ج ا /   ع ب (ڈی پی اے، روئٹرز)

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More