کارلسن اور نیمن کا مقابلہ جس میں دھوکہ دہی کی بات نے شطرنج کی دنیا کو تہہ وبالا کر رکھا ہے

بی بی سی اردو  |  Sep 25, 2022

Reutersکارلسن کی یہ تصویر سنہ 2018 میں لی گئی تھی وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے نمبر ایک پوزیشن پر ہیں

رواں ماہ کے شروع میں شطرنج کے سنک فیلڈ کپ کے تیسرے راؤنڈ میں جب گرانڈ ماسٹر میگنس کارلسن اور ہنس نیمن اس ایک دوسرے کے سامنے بازی لے کر بیٹھے تو بہت کم لوگوں کو یہ گمان تھا کہ اس سے ایسا تنازع جنملے گا جو رکنے کا نام نہیں لے گا۔

اس بازی میں 19 سالہ نوجوان امریکی اور ٹورنامنٹ میں سب سے نچلے درجے کے کھلاڑی نیمن کا سامنا ایک ایسے ماہر شطرنج کے کھلاڑی سے تھا جس کا شطرنج کی دنیا پر ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک راج تھا۔

ناروے سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ کارلسن کلاسیکی شطرنج میں مسلسل 53 بازیوں میں ناقابل شکست رہے تھے اس بازی میں وہ سفید مہروں سے کھیل رہے تھے جس کا انھوں یہ فائدہ تھا کہ چال انھیں پہلے چلنی ہے۔

لیکن اگر نیمن اندر سے گھبرائے ہوئے بھی تھے توبھی انھوں نے اس ظاہر نہیں ہونے دیا۔ پر اعتماد انداز میں پہلی چال کی سبقت کو ختم کرتے ہوئے وہ رفتہ رفتہ کھیل پر حاوی ہوتے گئے۔ اختتامی کھیل میں ایک مشکل دفاع کا سامنا کرتے ہوئے کارلسن نے غلطی کی اور جلد ہی ناامیدی کی حالت میں اس بازی سے دست بردار ہو گئے۔

یہ نتیجہ چونکا دینے والا تھا لیکن اس کے بعد مقابلے میں کچھ بھی ہونے والا تھا اس کا مقابلہ کسی سے نہیں کیا جا سکتا۔

اس بازی کے فوراً بعد کارلسن بغیر کسی وضاحت کے ٹورنامنٹ سے دستبردار ہو گئے۔ حالانکہ ابھی مقابلے کے مزید چھ راؤنڈ باقی تھے۔ یہ عملاً شطرنج کی اعلیٰ سطح پر ایک ایسا قدم تھا جو پہلے کبھی نہیں اٹھایا گيا۔

شطرنج کے مبصرین، کھلاڑی اور شائقین ابھی یہ سمجھنے کی کوشش کر ہی رہے تھے کہ آخر وہ مزید بازیوں سے کیوں دست بردار ہو گئے کہ اس دوران کارلسن نے ایک ٹویٹ پوسٹ کیا جس میں فٹبال کے مینیجر جوز مورینہو کی ایک ویڈیو شامل تھی جس میں کہا گیا تھا کہ 'اگر میں بولتا ہوں تو میں بڑی مصیبت میں آ جاؤں گا۔'

https://twitter.com/MagnusCarlsen/status/1566848734616555523

اس پیغام کو بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کے شبہات کے طور پر دیکھا گیا۔ کوئی شواہد نہیں دیے گئے اور نہ ہی نیمن کا نام لیا گیا لیکن اندازہ واضح تھا۔

پھر 8 ستمبر کو شطرنج کے سب سے بڑے آن لائن پلیٹ فارم Chess.com نے تصدیق کی کہ انھوں نے موقعے پر دھوکہ دہی کے الزام میں نیمن کو ہٹا دیا ہے۔

الزامات کے پھیلے کے بعد نیمن نے اعتراف کیا کہ انھوں نے 12 اور 16 سال کی عمر میں دو الگ الگ مواقع پر کمپیوٹر کی مدد سے آن لائن گیمز میں جعل کیا تھا لیکن انھوں نے کبھی بھی بورڈ پر دھوکہ دہی سے انکار کیا۔

خیال رہے کہ بورڈ پر دھوکے کو بڑے پیمانے پر زیادہ سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نیمن نے کہا کہ وہ اپنی بے گناہی کو ثابت کرنے کے لیے بغیر کپڑوں کے بھی کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔

اس کے بعد انھوں کارلسن، Chess.com اور دنیا کے سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے شطرنج کے سٹریمر ہیکاری ناکامورا پر اپنے کیریئر کو برباد کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔

نیمن نے کہا کہ ’اگر وہ چاہتے ہیں کہ میں مکمل طور پر برہنہ ہو جاؤں تو میں اس کے لیے تیار ہوں۔‘

EPAکارلسن

’مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں بے قصور ہوں۔ آپ اگر چاہتے ہیں کہ میں صفر الیکٹرانک ٹرانسمیشن کے ساتھ کسی بند کمرے میں کھیلوں، تو بھی مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ میں یہاں جیتنے کے لیے ہوں اور یہی میرا مقصد ہے۔‘

شطرنج میں دھوکہ دینا نیا نہیں ہے لیکن سمارٹ فون کی ایجاد نے اسے بہت آسان بنا دیا ہے۔

شطرنج کے بہترین ایپس، جن میں سے بہت سی مفت دستیاب ہیں، اب سرفہرست کھلاڑیوں سے بھی زیادہ مضبوط ہیں۔

کیونکہ ایپ میں کھیل کی موجودہ صورت حال ڈالنے سے یہ ہوتا ہے کہ کمپیوٹر تیزی سے تقریبا کامل چال بتا دیتا ہے۔ اسی وجہ سے اوور دی بورڈ گیمز میں فون کے استعمال پر پابندی ہے۔

لیکن ایسے واقعات سامنے آئے ہیں کہ کھلاڑیوں نے دھوکہ دینے کے خفیہ طریقے تلاش کیے ہیں جن میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جو اپنی ٹانگوں پر فون چپکائے ہوئے پکڑا گیا تھا جبکہ ایک مائیکرو ایئر پیس اسے اس کی آگے کی چال بتاتا تھا۔

اب تک کی سب سے مضبوط خواتین کھلاڑیوں میں سے ایک گرینڈ ماسٹر سوزان پولگر نے بی بی سی کو بتایا کہ شطرنج میں دھوکہ دہی کا مسئلہ کئی سالوں سے ایک 'سنگین مسئلہ' رہا ہے، یہاں تک کہ تعلیمی سطح پر بھی جس کے نتیجے میں بعض والدین اور کوچز کو میچز بعض اوقات دیکھنے پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔

’یہاں تک کہ کچھ سمولز (ایک ہی ساتھ متعدد بساط پر متعد مخالفین کے خلاف کھیلنا) جو کہ ایک غیر اہم، غیر درجہ بند مقابلہ ہوتا ہے، اس کے دوران میں نے دیکھا ہے کہ کوئی دوست فون اور ایک خاص پوزیشن کے ساتھ کھڑا ہے، اور پھر جب میں وہاں سے دوسری طرف جاتی ہوں تو وہ بتاتا کہ انجن (کمپیوٹر) کیا کہتا ہے۔‘

اگرچہ کھیل کی اعلیٰ سطحوں پر دھوکہ دہی کے خلاف بہت زیادہ سخت اقدامات کی وجہ جزوی طور پر دھوکہ دہی کا امکان بہت کم ہوتا ہے، لیکن پھر وہ کہتی ہیں کہ یہ اس کے باوجود بھی ممکن ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’جی ایم (گرینڈ ماسٹر) کی سطح پر ہر ایک حرکت بتانے کے لیے کمپیوٹر کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔ لیکن گیم میں چند نازک لمحات ہوتے ہیں (جہاں اس کی ضرورت پڑ جاتی ہے)۔‘

پھر بھی نیمن جیسے ٹاپ کھلاڑی پردھوکہ دہی کا الزام لگانا انتہائی غیر معمولی بات ہے۔

سنہ 2006 کے 'ٹوائلٹ گیٹ' معاملے کے بعد سے اعلی سطح کی شطرنج میں اس طرح کا سکینڈل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس وقت عالمی چیمپیئن شپ کے چیلنجر ویسلن ٹوپالوف کی ٹیم نے چیمپیئن ولادیمیر کرامنک پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا تھا کہ وہ ’اگر مشکوک نہیں، تو عجیب‘ ہے کہ وہ بار بار ٹوائلٹ جا رہے تھے۔

پروفیسر کینتھ ریگن جنھیں شطرنج میں دھوکہ دہی کے حوالے سے دنیا کے سب سے بڑے ماہر کے طور پر جانا جاتا ہے ان کے تجزیے ایسے شواہد نہیں ملے کہ کرامنک نے دھوکہ دیا تھا۔

لیکن بعض اوقات مضحکہ خیز قسم کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

Getty Imagesاناتولے کارپوف کے خلاف ان کو چيلنج کرنے والے کورچنوئی نے شیشے والی عینک پہن لی

سنہ 1978 میں عالمی چیمپئن شپ کے چیلنجر وکٹر کورچنوئی کی ٹیم نے چیمپیئن اناتولے کارپوف کی ٹیم پر اپنے کھلاڑی کو بلیو بیری والا دہی بھیج کر دھوکہ دینے کا الزام لگایا۔ کورچنوئی کی ٹیم نے دلیل دی کہ یہ کوئی خاص چال چلنے کا اشارہ ہو سکتا ہے۔

یہ میچ دونوں طرف سے دشمنی اور ذہنی خلل کے لیے قابل ذکر تھا۔ کارپوف کی ٹیم میں ایک ہپناٹسٹ شامل تھا جو اگلی قطاروں میں کورچنوئی کو گھورتا رہا تھا جنھوں نے بظاہر اپنی حفاظت کے لیے آئینے والا چشمہ پہن لیا تھا۔

کارلسن کی جانب سے کسی ٹھوس الزامات کی عدم موجودگی میں شطرنج کی دنیا نے بورڈ پر کسی بھی دھوکہ دہی کے شواہد کے لیے گیمز کے بارے میں نیمن کے انٹرویوز کو کریدا ہے۔

کچھ لوگوں نے پچھلے 20 مہینوں میں نیمن کے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی طرف اشارہ کیا ہے، جس کے دوران وہ دنیا میں تقریباً 800 ویں نمبر سے بڑھتے ہوئے دنیا کے ٹاپ 50 کھلاڑیوں میں شامل ہو گئے۔

ناکامورا نے اس ترقی کو ’بے مثال‘ قرار دیا ہے۔ حالانکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ نیمن کی ترقی کی تیز رفتاری کا دوسرے ٹاپ جونیئر کھلاڑیوں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

بہر حال شطرنج کی دنیا میں بہت سے لوگوں میں نوعمر نیمن کے لیے ہمدردی ہے کیونکہ ان کے خیال سے کسی شواہد کے بغیر بورڈ پر ان کی ساکھ داغدار ہوئی ہے۔

پروفیسر ریگن، جو ایک بین الاقوامی ماسٹر بھی ہیں، انھوں نے نیمن کے کھیلوں کا تجزیہ کیا اور انھیں دھوکہ دہی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

یہ بھی پڑھیے

سرگودھا کا سلطان خان: سلطنت برطانیہ میں شطرنج کا چیمپیئن

میگنس کارلسن جس نے شطرنج کو مقبولِ عام کیا

انڈیا کی وہ خواتین شطرنج کھلاڑی جنھوں نے تاریخ رقم کر دی!

عالمی چیمپئن شپ کے فائنل میں حصہ لینے والے واحد برطانوی کھلاڑی گرینڈ ماسٹر نائجل شارٹ نے بھی شبے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ نیمن نے کارلسن کے خلاف اپنی جیت کے دوران کوئی دھوکہ دیا ہو۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'میرے خیال میں کسی شواہد، بیان یا کسی بھی چیز کی عدم موجودگی میں، چیزوں کا اس طرح انجام پزیر ہونا بدقسمتی ہے۔'

شارٹ نے کہا کہ شطرنج کی اعلیٰ سطحوں پر دھوکہ دہی کے واقعات کے شاذ و نادر ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر کسی کھلاڑی پر الزامات ثابت ہو جائے تو اس کھلاڑی کا کیریئر ختم ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کھلاڑیوں میں دھوکہ دہی زیادہ عام ہے جو کم انعامات کے والےچھوٹے ٹورنامنٹس میں مقابلہ کرکے گزربسر کرتے ہیں۔

شارٹ کا کہنا ہے کہ کارلسن کا یہ طرز عمل اس دباؤ کی عکاسی کر سکتے ہیں کہ وہ دنیا کے بہترین کھلاڑی کے طور پر کس قدر دباؤ میں ہوتے ہیں۔

ناروے کے شہری سنہ 2013 سے عالمی چیمپئن ہیں اور اس سے بھی زیادہ عرصے تک عالمی درجہ بندی میں سرفہرست رہے ہیں۔ رواں سال کے شروع میں انھوں نے شطرنج کی دنیا کو اس وقت چونکا دیا جب انھوں نے کہا کہ اب وہ اپنے عالمی چیمپئن شپ کے تاج کا دفاع نہیں کریں گے کیونکہ اب ان میں کوئی ترغیب یا تحریک نہیں ہے۔

یہ اعلان اس لیے اور بھی زیادہ حیران کن تھا کیونکہ 31 سال کی عمر میں کارلسن اب بھی اپنے عروج پر ہیں اور ان سے امید کی جاتی ہے ابھی وہ کئی بار اپنی چیمپیئن شپ کا دفاع کرسکتے ہیں۔

Getty Images

شارٹ نے کہا کہ 'یہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں ہے جو زیادہ تر لوگ کریں گے۔ آپ عام طور پر آگے بڑھتے ہیں، آپ لڑتے ہیں، آپ پیسے کماتے ہیں، آخر کار کوئی آپ کو مات دینے والا آجاتا ہے۔'

انھوں نے مزید کہا: 'میرا خیال یہ ہے کہ میگنس کے اندر کوئی کشمکش جاری ہے۔ شاید میں غلط ہوں، لیکن باہر سے دیکھنے میں مجھے ایسا ہی لگتا ہے۔۔۔ شاید یہی اس کے فیصلے کو متاثر کر رہا ہے۔'

لیکن سوزن پولگر کا کہنا ہے کہ وہ نیمن کے خلاف دعووں پر کوئی قیاس آرائی نہیں کریں گی، تاہم انھوں نے کہا کہ ایسے الزامات لگانا کارلسن جیسے شخص کے کردار سے باہر ہے۔

'وہ اس قسم کا لڑکا نہیں ہے جو کوئی بے ترتیب کام کرے گا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ جو کچھ کہتا ہے اور جو کچھ اس نے کیا ہے اسے کہنے سے پہلے وہ باخبر تھا کہ اس سے شطرنج کی دنیا میں ایک بڑا ہنگامہ کھڑا ہو جائے گا۔'

اس کہانی نے سوموار کو ایک اور موڑ لیا جب دونوں بڑے آن لائن ٹورنامنٹ میں دوبارہ ملے۔ خیال رہے کہ کووِڈ وبا کے بعد سے اس طرح کے مقابلے عام ہو گئے ہیں۔

ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ یہ معاملہ ٹھنڈا ہونے والا ہے کیونکہ اس میچ میں کارلسن صرف ایک چال کے بعد مقابلے سے دست بردار ہو گئے جو کہ بظاہر نیمن کی شرکت کے خلاف واضح احتجاج تھا۔

نقصان اٹھانے کے باوجود کارلسن کوالیفائنگ گروپ میں آسانی کے ساتھ سرفہرست رہے۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ وہ ٹورنامنٹ ختم ہونے کے بعد اس سکینڈل پر مکمل بیان جاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جبکہ نیمن کوارٹر فائنل مقابلہ اپنا مقابلہ ہار گئے۔

پولگر کا کہنا ہے کہ اس سکینڈل کا توجہ حاصل کرنا ایک ناپسندیدہ پہلو ہے، جو مسابقت اور مقابلے کے جذبے سے ہٹاتا ہے۔ جبکہ شارٹ کا کہنا ہے کہ کارلسن کے اقدامات نے کھیل کو بدنام کیا ہے۔

لیکن وہ اس معاملے کا ایک دوسرا اثر دیکھتے ہیں کہ کس طرح نے اسے میڈیا نے اٹھایا ہے یہاں تک کہ امریکی پریزینٹرز ٹریور نوح اور اسٹیفن کولبرٹ نے بھی اس موضوع کو اٹھایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس طرح پرانی کہاوت صادق آتی ہے کہ بری تشہیر جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ 'ٹھیک ہے، میں اس سے صد فیصد اتقاق نہیں کرتا، لیکن اس میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ ہوتا ہے۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More