لگان: جب عامر خان نے ایک گاؤں بسایا اور انگریزوں کو ہندی سکھائی

بی بی سی اردو  |  Sep 26, 2022

Getty Images

جب آشوتوش گواریکر نے لگان بنانے کا فیصلہ کیا تو تین بڑے چیلنجز کا انھیں سامنا تھا۔ سب سے پہلے بطور ڈائریکٹر ان کا ٹریک ریکارڈ بہت خراب تھا۔ اس سے قبل انھوں نے صرف دو فلمیں پہلا نشہ اور بازی بنائی تھیں اور دونوں فلمیں باکس آفس پر زیادہ مقام حاصل نہیں کر سکیں۔

ان کا سکرپٹ اس وقت ہندی فلموں کی مارکیٹ کے اس غیر تحریری اصول کو توڑ رہا تھا کہ آپ پیریڈ فلم نہیں بنائیں گے اور نہ ہی آپ دیہی کہانی پر اپنا پیسہ لگائیں گے۔ کھیلوں کے کلائمکس پر بننے والی فلمیں بھی فیشن میں نہیں تھیں اور نہ ہی ہیرو دھوتی پہنے ہوئے تھے۔

ایک پروڈیوسر نے آشوتوش سے مطالبہ کیا کہ وہ فلم کے کلائمکس کو ایکشن سے بھرپور بنائیں اور بُھون کو کیپٹن رسل کے سٹمپ کو مارتے ہوئے دکھائیں۔ اس وقت ممبئی فلم بازار کے سکرپٹ میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

Getty Images

پہلی نظر میں عامر خان نے بھی لگان کی کہانی کو مسترد کر دیا۔

چمپانیر گاؤں کی کہانی ایک افسانہ تھا جس میں سنہ 1893 میں دیہی ہندوستان کی کہانی بیان کی گئی تھی۔ گاؤں کا نام بہار کے چمپارن سے متاثر ہو کر رکھا گیا تھا جہاں مہاتما گاندھی نے سنہ 1917 میں مزدوروں کے حقوق کے لیے تحریک شروع کی تھی۔

جب گواریکر نے پہلی بار یہ کہانی عامر خان کو سنائی تو انھوں نے اس کہانی کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ سنہ 1893 میں گاؤں والوں کا لگان سے بچنے کے لیے کرکٹ کھیلنے کا خیال انھیں پہلی نظر میں ہضم نہیں ہوا۔ لیکن اس کے باوجود گواریکر نے اس کہانی کو کاغذ پر لکھنے کا فیصلہ کیا۔

دوسری بار جب وہ یہ کہانی لے کر عامر خان کے پاس گئے تو عامر انھیں نظر انداز نہ کر سکے۔ لیکن اس فلم کے 25 کروڑ کے بجٹ پر کوئی پیسہ لگانے کو تیار نہیں تھا۔

آشوک آمریتراج، شاہ رخ خان اور کئی دوسرے پروڈیوسرز لگان کے سکرپٹ سے متاثر ضرور ہوئے، لیکن کسی نہ کسی وجہ سے انھوں نے فلم سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔

آخر میں جب کوئی نہ ملا تو عامر خان نے خود اس فلم کی ہدایت کاری کا فیصلہ کیا۔ لیکن جب گواریکر اور عامر نے لگان کی کہانی مشہور کہانی کار اور نغمہ نگار جاوید اختر کو سنائی تو وہ بھی اس کہانی سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے۔

آشوتوش اور عامر خان دونوں ہی اس بات سے چونک گئے کہ فلم کی شوٹنگ سے صرف تین ماہ قبل انڈین فلموں کے سب سے کامیاب کہانی نویس بتا رہے ہیں کہ یہ فلم نہیں چلے گی۔

پھر بھی عامر نے یہ فلم بنانے کا خیال نہیں چھوڑا۔ مشہور فلمی نقاد شیلا راول لکھتی ہیں کہ نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت تک انڈیا کی سب سے مہنگی فلموں میں سے ایک لگان کی بنیاد رکھی گئی۔

تقریباً 3000 لوگوں نے چھ ماہ تک مسلسل کام کیا اور 100 ایکڑ زرعی زمین پر چمپانیر گاؤں آباد کیا۔

گواریکر اور آرٹ ڈائریکٹر نتن دیسائی نے گجرات میں بھوج کے قریب فلم کی شوٹنگ کے لیے کناریا کا انتخاب کیا۔

عامر چاہتے تھے کہ وہ بھون کے کردار کے لیے مونچھیں رکھیں کیونکہ عام طور پر ہندوستانی دیہات کے لوگ مونچھیں رکھتے ہیں لیکن آشوتوش اس خیال سے بالکل متفق نہیں تھے۔

انھوں نے عامر کے سامنے دلیل دی، ’تصور کیجیے چمپانیر کو صدی کی بدترین خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پانی کا کوئی نام و نشان نہیں ہے اور بھون ہر صبح شیو بنانے میں پانی ضائع کر رہا ہے۔‘

آشوتوش نے فلم کی شوٹنگ میں حصہ لینے والے گاؤں کے لوگوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ کچھ دنوں تک نہ تو بال کٹوائیں اور نہ ہی داڑھی منڈوائیں۔

40 سے زائد اداکاروں کو انگلینڈ سے انڈیا لایا گیا

آشوتوش اور عامر دونوں کا خیال تھا کہ اگر فلم میں حقیقی مناظر دکھانے ہیں تو پھر برطانوی اداکاروں کو لانا پڑے گا۔

اس کہانی کے لیے 11 برطانوی کھلاڑیوں، تین سینیئر اداکاروں اور تقریباً 30 جونیئر اداکاروں کو برطانیہ سے انڈیا لانا تھا۔ ان سب کا لندن سے ممبئی کا ہوائی کرایہ اور ان کی فیس نے اس فلم کے بجٹ کو بہت بڑھا دیا۔

عامر اس کے لیے خصوصی طور پر لندن گئے تھے۔ ستیہ جیت بھٹکل اپنی کتاب ’دی سپرٹ آف لگان‘ میں لکھتے ہیں، 'سب سے بڑا مسئلہ برطانوی اداکاروں کو انڈین فلموں میں کام کرنے کے لیے تیار کرنا تھا۔

لگان کا بجٹ برطانوی معیار سے بہت کم تھا اور اس کی شوٹنگ تیسری دنیا کے ایک ملک میں ہو رہی تھی۔

وہاں موجود کاسٹنگ ڈائریکٹر سوال پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ کی پروڈکشن نے پہلے کوئی فلم بنائی ہے؟ عامر جواب دیتے تھے، ’نہیں، یہ بطور پروڈیوسر میری پہلی فلم ہے۔‘ پھر پوچھتے تھے کہ فلم کس زبان میں بنا رہے ہو؟ عامر کا جواب ہندی میں تھا۔ ان کا اگلا سوال یہ تھا کہ برطانوی اداکار کس زبان میں بات کریں گے؟ عامر جب ہندی کا بتاتے تو وہ زیادہ گھبرا جاتے تھے۔

پرانا سامان اور ہندی کی کلاسز

عامر لندن میں سینٹر فار اورینٹل سٹڈیز (ایس او اے ایس) گئے جہاں ان کی دوست ریچل ڈیوائر انڈین سنیما پر کلاس لے رہی تھیں۔

ان کی ایک پاکستانی طالب علم سمیننے ایک ماہ کے اندر منتخب ہونے والے دو ممتاز برطانوی فنکاروں کو ہندی سکھانے کا بیڑا اٹھایا۔ جب تک ریچل اور پال انڈیا جانے کے لیے تیار تھے، وہ ان لائنوں پر مہارت حاصل کر چکے تھے جو ان کو فلم میں ادا کرنا تھیں۔

برطانیہ میں، عامر نے لائبریریوں، عجائب گھروں اور قدیم اشیا فروخت کرنے والی دکانوں کی تلاشی لی اور فلم کو برطانوی راج کا ٹچ دینے کے لیے سب کچھ ترتیب دیا۔

یہاں تک کہ کرکٹ کے بلے بھی سنہ 1893 کے ہیں اور انھیں لندن میں قدیم چیزوں کی دکان سے خریدا گیا تھا۔ عامر دکان میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک ٹوکری میں پرانے زمانے کی گیندیں پڑی ہیں۔ ان گیندوں پر بنانے والی کمپنیوں کا کوئی نشان نہیں تھا، جیسا کہ آج کی گیندوں پر نظر آتا ہے۔

عامر نے دکان کے مالک شان آرنلڈ کو بلے سے لے کر وکٹوں، پیڈز، دستانے تک تمام پرانی چیزیں فروخت کرنے پر آمادہ کیا۔

عامر کے لیے سب سے بڑا چیلنج چمپانیر گاؤں کو آباد کرنا تھا۔

لگان کے آرٹ ڈائریکٹر نتن دیسائی، جنھوں نے دیوداس اور 1942 اے لو سٹوری کے سیٹ بنائے، کہتے ہیں کہ بنجر زمین پر گاؤں بنانا سٹوڈیو میں سیٹ بنانے سے کہیں زیادہ مشکل کام تھا۔

آخر میں، چمپانیر گاؤںنے حقیقی ہونے کا تاثر دیا۔

دو ہزار دھوتی کرتوں کا اہتمام

فلم کی شوٹنگ شروع ہونے سے پہلے تمام اداکار چمپانیر گاؤں میں بنائے گئے فرضی گھروں میں ٹھہرے تاکہ وہاں کے ماحول کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔

لیکن اس دوران ایک اور مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ اگرچہ عامر اور آشوتوش نے فلم کی شوٹنگ میں حصہ لینے والے لوگوں کے لیے دو ہزار دھوتی کرتوں کا انتظام کیا تھا، لیکن وہ کم پڑ گئے اور سیٹ پر روزانہ بہت سے لوگ پینٹ شرٹ پہن کر آنے لگے۔

جب پروڈکشن ٹیم نے عامر کو یہ مسئلہ بتایا تو فیصلہ ہوا کہ پتلون پہنے ہوئے لوگوں کو دھوتی کُرتا پہنے لوگوں کی قطار کے پیچھے چھپایا جائے گا۔

جب کلائمکس سین فلمایا گیا تو بھون کی ٹیم جیتتے ہی ہزاروں تماشائی میدان میں دوڑ پڑے۔ لیکن پھر کالی پینٹ اور جامنی رنگ کی شرٹ پہنے ایک شخص کیمرے کے سامنے آیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اتنی اچھی طرح سے شاٹ کو دوبارہ لینا پڑا۔

ہیروئن کے لیے گریسی سنگھ کو بڑی اداکاراؤں پر ترجیح دی گئی

عامر خان نے فلم کی ہیروئن کے لیے نمرتا شروڈکر، امیشا پٹیل اور نندیتا داس کا آڈیشن لیا۔

ہر اداکارہ کی اپنی خوبیاں ہوتی ہیں لیکن آشوتوش کے ذہن میں گوری کا کردار ادا کرنے کے لیے ایک خاص لڑکی کی تصویر تھی۔

ان دونوں کا خیال تھا کہ اس کردار کے لیے ہیروئین کی سٹار ویلیو اتنی اہم نہیں ہے جتنا اس کردار کے لیے اس کا موزوں ہونا۔

ستیہ جیت بھٹکل لکھتے ہیں، ان دنوں ایک نئی اداکارہ گریسی سنگھ آشوتوش سے ملنے آئی، اس دن ان کی سالگرہ تھی۔ گریسی بہت پرکشش یا گلیمرس شخصیت کی شاید مالک نہیں تھیں لیکن ان کی اندرونی خوبصورتی آشوتوش سے چھپی نہ رہ سکی۔

انھوں نےاسے آڈیشن کے لیے بلایا۔ عامر نے نوٹ کیا کہ گریسی آڈیشن کے دن ضرورت سے زیادہ خاموش ہیں۔ ان کے چہرے پر نہ گھبراہٹ تھی نہ جوش۔ گریسی نے کیمرے کے سامنے بہت اچھی اداکاری کی اور اس کردار کے لیے انھیں منتخب کیا گیا۔

Getty Imagesاداکاروں کے سامنے کرکٹ کھیلنے میں دشواری

عامر نے بھون کی ٹیم کے 11 ارکان کے لیے کاسٹ کا آڈیشن دیا۔

11 کرداروں کے لیے تقریباً 200 اداکاروں کا آڈیشن لیا گیا۔ جب آشوتوش نے پہلی بار لگان کا سکرپٹ لکھا تو انھوں نے دو اننگز کے میچ کا خیال پیش کیا۔

لیکن بعد میں لوگوں کے مشورے پر انھوں نے اسے محض ایک اننگز کا میچ بنا دیا۔ میچ کے اہم پہلو کو سکرپٹ میں جگہ دی گئی۔

ستیہ جیت بھٹکل لکھتے ہیں، یہ پہلے سے طے تھا کہ ہر کھلاڑی کتنے رنز بنائے گا اور اسے کیسے آؤٹ کیا جائے گا۔ یہ بھی طے پایا کہ کھلاڑی کا سٹروک آف سائیڈ پر جائے گا یا لیگ سائیڈ پر، فیلڈنگ کی جائے گی یا گیند باؤنڈری کی طرف جائے گی۔ یہ تمام تفصیلات کاغذ پر لکھی ہوئی تھیں۔

اس میچ میں کل 1200 شاٹس لینے تھے۔ کرکٹ کی شوٹنگ کے لیے 20 دن مختص کیے گئے تھے۔ اس کا مطلب تھا ہر روز 60 شاٹس کا ہدف۔ اس مقصد کو پورا کرنا کسی کے لیے بھی ناممکن تھا۔

دیوا کا کردار ادا کرنے والے پردیپ سنگھ راوت بھی ایک اداکار تھے، کرکٹر نہیں۔

پلان کے مطابق بولنگ کرنا ان کے بس میں نہیں تھا۔ یا تو وہ گیند کو سٹمپ کے باہر پھینک رہے تھے یا ان کی گیند آف سٹمپ کی طرف جارہی تھی۔

یہ شاٹ اتنی بار لیا گیا کہ آشوتوش پریشان ہونے لگے کہ آیا وہ وقت پر شوٹنگ مکمل کر پائیں گے یا نہیں۔

لنچ کے بعد ارجن سنگھ کو سکرپٹ کے مطابق اپنی مختصر اننگز میں دو چوکے لگا کر آؤٹ ہونا تھا لیکن انھوں نے اپنی حقیقی زندگی میں کبھی کرکٹ نہیں کھیلی تھی۔

سمتھ نے جیسے ہی گیند پھینکی کیمرہ چلنے لگا۔ گیند ان کے درمیانی سٹمپ پر آئی لیکن ارجن شاٹ نہیں لگا سکے۔ جب تمام کوششیں ناکام ہوئیں تو آشوتوش نے فیصلہ کیا کہ اس شاٹ میں کوئی باؤلر نہیں ہوگا۔

کیمرے کے قریب سے گیند کو آہستہ آہستہ ان کی طرف پھینکا جائے گا اور انھیں گیند کو چُھونا پڑے گا۔ لیکن گیند ارجن کے ہاتھ سے نکل گئی۔ وہ اس بار اسے اپنے بلے سے چھو بھی نہیں سکے۔

آخرکار آشوتوش کو گیند کو فریم سے ہٹانا پڑا۔ ارجن کو صرف زور سے بلے کو سوئنگ کرنے کے لیے کہا گیا تاکہ ان کے چہرے کے تاثرات کا شاٹ لیا جا سکے۔

ایک شاٹ تھا جس میں یارڈلے کا ایک باؤنسر عامر کے کان پر لگنا تھا۔ ضروری تھا کہ گیند عامر کے کان پر لگتی کیونکہ کان سے بہتے ہوئے خون کا شاٹ پہلے ہی لیا جا چکا تھا۔

ٹیسٹ لیول کے باؤلر کے لیے بھی دائیں کان پر باؤنسر لگا کر بلے باز کو زخمی کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

یہاں یارڈلے کا کردار ادا کرنے والے کرس انگلینڈ نے اپنی زندگی میں کبھی گیند نہیں پکڑی تھی۔ اس کا واحد علاج یہ تھا کہ کسی نے پاس سے عامر کے کان پر گیند پھینکی جسے کیمرہ پکڑ نہ سکا۔

عام طور پر یہ کوئی مشکل کام نہیں تھا لیکن اس شاٹ میں عامر کو گیند سے بچنے کے لیے ڈک کرنا پڑا۔ کبھی گیند عامر کے گال پر لگ جاتی تھی۔ کبھی ان کے سر پر اور کبھی ان کے سینے پر لیکن ان کے کان ہمیشہ گیند سے بچ جاتے۔

اگرچہ وہاں استعمال ہونے والی گیند اصل گیند نہیں تھی پھر بھی پاس سے گیند بہت تیزی سے پھینکی جا رہی تھی جس کی وجہ سے عامر کو بھی کافی چوٹیں آئیں۔

شوٹنگ کے دوران ہدایت کار آشوتوش گواریکر کی کمر میں تکلیف ہوئی جس کی وجہ سے وہ کھڑے نہیں رہ سکتے تھے۔ لیکن آشوتوش نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری اور لیٹ کر ہی فلم کی ہدایت کاری کی۔

Getty Imagesعامر خانانگریزی اداکاروں کو ہندی بولنے کی تربیت

گواریکر نے برطانوی فنکاروں کے تئیں کوئی رعایت نہیں کی۔

لگان کے ولن کیپٹن رسل کا کردار ادا کرنے والے پال بلیک تھورن کہتے ہیں، ’تین ماہ تک مجھے ابتدائی تیاری کے طور پر ہندی اور گھڑ سواری سیکھنے کو کہا گیا۔ میں نے بار بار اپنی ہندی لائنوں کی مشق کی۔‘

’یہ میرے لیے اتنا مشکل تھا کہ ایک بار میں نے سوچا کہ یہ سب چھوڑ کر واپس چلا جاؤں۔ کہیں چار مہینوں میں جا کر میں سکرپٹ کے ہر لفظ کے بارے میں اپنی سمجھ پیدا کرنے میں کامیاب رہا۔‘

عامر اور گواریکر کے درمیان کئی دنوں تک یہ بحث جاری تھی کہ فلم میں کون سی زبان استعمال کی جائے۔ کھری یا اودھ والی۔ ملبوسات کو ڈیزائن کرنے کی ذمہ داری فلم گاندھی کے لیے آسکر ایوارڈ جیتنے والے بھانو اتھیا کو دی گئی۔

بھانو نے برطانوی اداکارہ ریچل شیلی کے لیے سینکڑوں ٹوپیاں ڈیزائن کیں۔

بھانو نے لگان کے لباس کے لیے اتنی ہی تحقیق کی جتنی انھوں نے فلم گاندھی کے لیے کی تھی۔

بعض اوقات گواریکر کو فنکاروں کی ناراضگی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ شیلے کے مکالموں میں جب بھی ہندی کی ایک اضافی لائن شامل کی جاتی تو وہ ناراض ہو جاتی تھیں۔ لیکن آخر میں انھیں بھی ڈائریکٹر سے کوئی شکایت نہیں تھی۔

عامر خان نے کنڑیا کے گاؤں والوں سے اپنا وعدہ پورا کیا تھا کہ وہ فلم کی ریلیز سے پہلے اس گاؤں میں ایک شو کریں گے۔

Getty Images

لگان کا سنیما پر وہی اثر پڑا جو سٹار وارنے ہالی وڈ پر کیا۔ مشہور ہالی ووڈ ہدایت کار جیمز گن لگان کو اپنی پسندیدہ انڈین فلم مانتے ہیں۔

کچھ ناقدین کے مطابق فلم لگان کا اصل خیال 50 کی دہائی میں بننے والی فلم نیا دور سے لیا گیا تھا۔

لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فلم کا ماخذ زیادہ تر ہالی ووڈ کی فلم اسکیپ ٹو وکٹری سے لیا گیا ہے جس میں مشہور فٹ بال کھلاڑی پیلے نے اداکاری کی تھی۔

اس فلم میں اتحادی جنگی قیدی نازی فوجیوں کو فٹ بال میچ میں شکست دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

'عامر خان کو فلم بیچنے کا ہنر آتا ہے'

’لال سنگھ چڈھا‘ میں عامر، شاہ رخ اور سلمان ساتھ ہوں گے؟

عامر خان کو فلم ’لگان‘ کے لیے ’ہاں‘ کرنے میں دو سال کیوں لگے؟

حقیقی زندگی میں لگان کا موازنہ موہن بگان ٹیم کے ننگے پاؤں کھلاڑیوں سے کیا جا سکتا ہے جس نے سنہ 1911 میں آئی ایف اے شیلڈ کے فائنل میں ایسٹ یارکشائر رجمنٹ کی ٹیم کو شکست دی تھی۔

فلم کی نمائش کے بعد انڈیا میں پیدا ہونے والے بہت سے بچوں کا نام بھون رکھا گیا۔

یہ بھی ایک خوش کن اتفاق تھا کہ گجرات کے ایک گاؤں کو اودھ کے علاقے کی نمائندگی کے لیے چنا گیا، جو انڈین کرکٹ کے عظیم کھلاڑی رانجی کی آبائی ریاست بھی تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More