کیا نریندر مودی عالمی رہنما اور انڈیا عالمی طاقت کے طور پر ابھر رہے ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Sep 27, 2022

Reuters

انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے جون کے آخری ہفتے میں جی سیون ممالک کے اجلاس میں مہمان کے طور پر شرکت کی۔ جی سیون دنیا کے سات بڑے ممالک کا گروپ ہے۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم مودی کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو سے بات کر رہے تھے تبھی پیچھے سے امریکی صدر جو بائیڈن آئے اور انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ مودی نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بائیڈن تھے، پھر دونوں ایک دوسرے سے گرم جوشی سے ملے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے اس ویڈیو کلپ کو انڈین نیوز ایجنسی اے این آئی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا اور لکھا کہ امریکی صدر بائیڈن خود انڈین وزیر اعظم مودی کے پاس ہاتھ ملانے آئے۔

یہ ویڈیو کلپ چند ہی گھنٹوں میں وائرل ہو گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے حامیوں نے اسے انڈیا کے عالمی سطح پر بڑھتے اثرورسوخ کی علامت بتایا۔ ایک مودی حامی صحافی نے لکھا کہ یہی چیزیں بائیں بازو کے لوگوں کو پریشان کرتی ہیں۔

جی سیون ماضی میں جی ایٹ ہوا کرتا تھا۔ لیکن 2014 میں روس نے یوکرین کے علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا تو اسے اس گروپ سے باہر نکال دیا گیا۔

اب کہا جا رہا ہے کہ اس گروپ میں روس کی جگہ انڈیا لے سکتا ہے۔ جی سیون اجلاس کے ٹھیک تین ماہ بعد ازبکستان کے شہر سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ہوا۔

https://twitter.com/ANI/status/1541396513326526464

بین الاقوامی سرخیوں میں چھانے والا مودی کا بیان

چین کی سربراہی والے اس گروپ کے انڈیا، روس اور پاکستان بھی رکن ممالک ہیں۔ 16ستمبر کو ایس سی او سمٹ کے موقع پر وزیر اعظم مودی اور روسی صدر ولادی میر پوتن کی ملاقات ہوئی۔

اس ملاقات میں مودی نے کیمرے کے سامنے پوتن سے کہا کہ یہ دور جمہوریت، سفارت کاری اور مذاکرات کا ہے، نہ کے جنگ کا۔ وزیر اعظم مودی نے یہ بات پوتن سے یوکرین پر حملے سے متعلق کہی تھی۔

مودی کے اس بیان کو مغربی رہنماؤں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔

یاد رہے کہ یہ سب کچھ اس دوران ہو رہا تھا جب مغربی ممالک یوکرین پر روس کے حملے کے بارے میں انڈیا کے رد عمل سے خوش نہیں تھے۔

انڈیا اقوام متحدہ میں یوکرین پر روسی حملے کے خلاف تجاویز پر ووٹنگ سے باہر رہا تھا۔ امریکہ اور یورپ کے تمام بڑے ممالک چاہتے تھے کہ انڈیا روس کے خلاف ووٹ دے۔

دوسری جانب 24 فروری کو پوتن کے یوکرین پر حملے کے اعلان کے ساتھ انڈیا میں روس سے تیل کی درآمد میں اضافہ ہوتا گیا۔ وہیں مغربی ممالک روس پر پابندیاں سخت کر رہے تھے تاکہ اس کی معاشی سرگرمیوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔

اسی ماہ 13 ستمبر کو اقوام متحدہ کی 77ویں جنرل اسمبلی کا آغاز ہوا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دنیا کے متعدد بڑے رہنماؤں کا خطاب ہوتا ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=ZArCm31UiZc

مودی کی حکمرانی میں انڈیا نے اب تک کیا حاصل کیاانڈیا برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت بن گیااقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں اصلاحات کی انڈین تجویز کی روس اور امریکہ نے حمایت کیانڈیا کے پاس جی 20202020 ایس سی او کی صدارتانڈیا اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں غیر مستقل رکنمغربی ممالک کی مخالفت کے باوجود انڈیا روس سے تیل خریدنے کی بات پر ڈٹا رہاانڈیا نے روس سے ایس 400400 لیا، لیکن امریکہ نے پابندی عائد نہیں کیفرانسیسی صدر میکخواں نے وزیر اعظم مودی کی تعریف کی

77ویں جنرل اسمبلی میں بھی یوکرین اور روس کا مسئلہ چھایا رہا۔ فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں نے 20 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے روسی صدر کے سامنے بالکل صحیح کہا تھا کہ یہ دور جنگیں لڑنے کا نہیں ہے۔

میکخواںنے وزیر اعظم مودی کا نام لیتے ہوئے کہا ’نریندر مودی نے روسی صدر کے سامنے صحیح بات کہی تھی۔ یہ وقت مغرب کے خلاف غصہ یا اس کی مخالفت کرنے کا نہیں ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم سبھی مل کر عالمی چیلنجز کا سامنا کریں۔‘

فرانس اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا مستقل رکن ہے اور یو این کی جنرل اسمبلی میں میکخواں کی جانب سے وزیر اعظم مودی کی تعریف کو اہم سمجھا گیا۔

مودی حکومت کے وزیر انوراگ ٹھاکر اور کیرین ریجیجو نے ان کی اس ویڈیو کلپ کو ٹوئیٹ کیا۔ وہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ انڈیا اب عالمی سطح پر اپنی جگہ بنا رہا ہے۔

یو این جی اے میں انڈیا کا نام کئی ممالک نے لیا۔ برطانوی وزیر اعظم لز ٹرس نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انڈیا کا نام لیا اور کہا کہ برطانیہ انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کر رہا ہے۔

EPA

فرانس اور برطانیہ کے سربراہان کے علاوہ جرمن چانسلر، پرتگال کے وزیر اعظم، یوکرین کے صدر، گیانا کے صدر، ترکی کے صدر کے ساتھ ساتھ میکسیکو اور وینزویلا کے رہنماؤں نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انڈیا کا نام لیا۔

میکسیکو کے وزیر داخلہ لوئی ایبرارڈ کیساؤبون نے تو روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دیے جانے کی تجویز پیش کر دی جس میں مودی، پوپ فرانسس اور اقوام متحدہ کے سربراہ اینٹونیو گوتیریس کو شامل کرنے کا مشورہ دیا۔

میکسیکو کے اس مشورے کی وینیزویلا نے بھی حمایت کی۔ دوسری جانب روس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انڈیا کے لیے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل میں انڈیا اور برازیل کی مستقل رکنیت کی حمایت کرتے ہیں۔

21ستمبر کو امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خطاب میں کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں اصلاحات کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں۔ بائیڈن نے کہا تھا کہ امریکہ سکیورٹی کونسل کے مستقل اور غیر مستقل ممبران میں اضافے کی حمایت کرتا ہے۔ سکیورٹی کونسل میں امریکہ نے بھی انڈیا کی مستقل رکنیت کی حمایت کی۔

Reutersروس اور امریکہ: مخالفین ہونے کے باوجود دونوں انڈیا کے حامی

ایس جے شنکر وزیر خارجہ بننے کے بعد پہلی بار اسی ماہ 10 ستمبر کو سعودی عرب گئے تھے۔ اس دوران انھوں نے سعودی گزٹ کو دیے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ ٹیکنالوجی کا مرکز ہے۔ اس کے علاوہ روایتی طور پر عالمی معاملوں میں انڈیا سرگرم رہا ہے۔ یہ تمام چیزیں انڈیا کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں مستقل رکنیت کے قابل بناتی ہیں۔‘

جے شنکر کے ایسا کہنے کے ایک ہفتہ بعد ہی امریکی صدر کا سکیورٹی کونسل میں تبدیلیوں کی بات کی حمایت کرنا اور روس کا یہ کہنا کہ وہ سکیورٹی کونسل میں انڈیا کی مستقل رکنیت کی حمایت کرتا ہے، خاص معنی رکھتا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ مغربی ممالک ابھی ماحولیاتی تبدیلی اور چین کے جواب میں سپلائی چین کو بدلنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں انڈیا ایک اہم ملک بن چکا ہے۔

24 ستمبر کو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمزکے ساؤتھ ایشیا بیورو چیف مجیب مشال نے لکھا تھا کہ انڈیا کا اثرورسوخ عالمی سطح پر بڑھ رہا ہے۔ لیکن ملک کے اندر جمہوریت کمزور ہو رہی ہے۔

مشال نے لکھا ’مودی کی توجہ انڈیا کی مضبوطی کا فائدہ اٹھانے پر ہے۔ کووڈ 19 کی وبا، یوکرین پر روس کا حملہ اور چین کے اپنے علاقے میں اضافے کی کوششوں کے سبب عالمی امن متاثر ہوا ہے۔ مودی اسے موقع کی طرح دیکھ رہے ہیں اور انڈیا کو اپنی شرائط پر کھڑا کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں۔‘

انھوں نے لکھا ’برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر انڈیا دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے۔ متعدد ممالک سے انڈیا تجارتی معاہدے کر رہا ہے۔ انڈیا کے پاس نوجوانوں کی ایک بڑی آبادی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انڈیا ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کے شعبے میں بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ انڈیا کو چین کے جواب کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔‘

Getty Imagesکیا انڈیا موقع کا فائدہ اٹھا رہا ہے؟

مجیب مشال نے لکھا کہ ’روس اور امریکہ دونوں کے ساتھ انڈیا فوجی مشقیں کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور یورپ کے دباؤ کے باوجود انڈیا روس سے تیل خرید رہا ہے۔ انڈیا میں جمہوریت سے منسلک متعدد سوال اٹھ رہے ہیں۔ لیکن مغربی ممالک اسے چیلنج نہیں کر رہے۔ ماہرین اور سفیروں کا خیال ہے کہ تجارت اور جغرافیائی سیاست پر جب بھی دھیان دیا جاتا ہے تو ایسے میں انسانی حقوق کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ نئی دلی کے ایک یورپی سفارتکارنے کہا کہ یورپی یونین انڈیا سے صرف ٹریڈ ڈیلز چاہتا ہے۔‘

انڈیا کے ابھرنے اور مودی حکومت کی کامیابی میں اس بات کو اجاگر کیا جاتا ہے کہ انڈیا دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے۔ لیکن اس کے بر عکس اس تصویر کا ایک مختلف پہلو بھی ہے۔

اقوام متحدہ کے ڈیولپمنٹ پروگرام نے انسانی ترقی کی رپورٹ یعنی ایچ ڈی آر 2021-22 جاری کی ہے۔ اس کی عالمی فہرست میں انڈیا 2020 میں 130ویں مقام پر تھا، جبکہ 2021 میں 132ویں مقام پر آ گیا۔

یہ فہرست زندہ رہنے کی اوسط عمر، تعلیم اور فی کس آمدنی کے بنیاد پر تیار کی جاتی ہے۔ کووڈ کے دوران انڈیا کا اس فہرست میں نیچے جانا کوئی حیرانی والی بات نہیں، لیکن عالمی سطح پر اس معاملے میں جتنی گراوٹ دیکھی گئی ہے انڈیا میں اس سے زیادہ گراوٹ سامنے آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کو بین اقوامی سطح پر ملنے والی ذمہ داریاں: پاکستان کو کتنا فکر مند ہونے کی ضرورت ہے؟

سلامتی کونسل کی صدارت: انڈیا کے مقاصد کیا ہیں اور کیا پاکستان فکرمند ہے؟

اقوام متحدہ میں چین اور انڈیا ایک ہی صفحے پر؟

’انڈین شہریوں کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کے کافی ثبوت دیے تھے‘

https://twitter.com/Anurag_Office/status/1572442852738891776

2021 میں ایچ ڈی آر میں 1.4% کی گراوٹ آئی جبکہ عالمی سطح پر یہ گراوٹ 0.4% تھی۔ 2015 سے 2021 کے درمیان انڈیا ایچ ڈی آر رینکنگ میں مسلسل نیچے جاتا رہا۔ جبکہ اسی دورانیہ میں چین، سری لنکا، بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات، بھوٹان اور مالدیپ اوپر جاتے رہے۔

انڈیا، جاپان، امریکہ اور انڈونیشیا میں آسٹریلیا کے سفیر رہ چکے جان میکارتھی نے 21 ستمبر کو فنانشل ریویو میں شائع ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ مودی کی سربراہی میں انڈیا ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔

جان میکارتھی نے لکھا تھا کہ ’جب مودی نے پوتن سے کہا کہ یہ دور جنگ لڑنے کا نہیں ہے تو انھوں نے بڑی آسانی سے روسی صدر سے فاصلہ قائم کر لیا۔ سرد جنگ کے دوران چین پاکستان کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ دوسری جانب روس کو انڈیا کے مضبوط سفارتی شراکت دار کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ لیکن وہ دور اب ختم ہو گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا ’انڈینز کے دل میں تاریخی اعتبار سے روس کے لیے کچھ معاملوں میں عزت دیکھی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نیٹو کی طاقت میں اضافے کے بارے میں بھی ایک خیال ہے۔ سمرقند میں مودی فاتح رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ آپ انھیں ناپسند کرتے ہیں تو کیجیے لیکن جغرافیائی سیاست کی سمجھ کی بنیاد پر میں یہ کہہ رہا ہوں کہ انھیں شکست دینا مشکل ہے۔ مودی نے سمرقند میں شی جن پنگ کو نظر انداز کیا تو انھیں معلوم تھا کہ ان کے ووٹر اس سے ناراض نہیں ہوں گے اور کواڈ کے پارٹنر بھی اس بارے میں راضی رہیں گے۔ انڈیا کے عوام چین کو پسند نہیں کرتے۔‘

https://twitter.com/nytimesworld/status/1574205385262653441

دلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں سینٹرل ایشیا اور رشیئن سٹڈیز کے سینٹر میں پروفیسر راجن کمار کہتے ہیں کہ کوئی بھی ملک بڑی اور مضبوط معیشت کی بنیاد پر عالمی طاقت بنتا ہے۔

راجن کمار کہتے ہیں ’انڈیا کی معیشت 2003 سے مستقل بڑھ رہی ہے۔ منموہن سنگھ کے دور میں ہی انڈیا کی اضافے کی شرح آٹھ فیصد تھی۔ 2014 کے بعد انڈیا کی اضافے کی شرح سست روی کا شکار بھی ہوئی ہے۔ یعنی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ صرف اس حکومت کے دور اقتدار میں انڈیا کی اہمیت بڑھی ہے۔

یہ بات قابل غور ضرور ہے کہ مودی کا دوسری بار وزیر اعظم بننے کا دور خارجہ پالیسیوں کے اعتبار سے کافی اہم رہا ہے۔ پہلی مرتبہ ان کا زور لوگوں کو اکٹھا کرنے پر تھا۔ لیکن ایس جے شنکر کے وزیر خارجہ بننے کے بعد انڈیا کے خارجہ پالیسی میں کئی اہم تبدیلیاں آئی ہیں۔ انڈیا ماضی میں کسی کی طرف داری نہ کرنے کی پالیسی پر عمل کرتا تھا، لیکن اب ملٹی انگیجمنٹ کی پالیسی پر زور نظر آ رہا ہے۔ پہلے کسی گروپ میں نہ رہنے کی بات ہوتی تھی، اب ہر گروپ میں رہنے کی بات ہو رہی ہے۔‘

انڈیا کو اگلے برس کئی اہم ذمہ داریاں ملنے جا رہی ہیں۔ جی 20 کی صدارت انڈونیشیا سے انڈیا کے پاس آ رہی ہے اور اگلے برس انڈیا میں ہی جی 20 اجلاس ہونے جا رہا ہے۔ ایس سی او کی صدارت بھی انڈیا کو ملنے جا رہی ہے اور اگلے سال اس کا اجلاس بھی انڈیا میں ہو گا۔

اسی برس دسمبر میں انڈیا کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی صدارت ایک ماہ کے لیے ملنے جا رہی ہے۔ اسے انڈیا کی کامیابی اور عالمی ممالک کے درمیان حیثیت میں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اتوار کو انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے واشنگٹن میں کہا کہ اب انڈیا کو سنا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا ’ہماری رائے اب معنی رکھتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ گذشتہ چھ برسوں میں یہ ہماری کامیابی ہے۔ ایسا وزیر اعظم مودی کی وجہ سے ہوا ہے۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More