زمین کو محفوظ بنانے کا تجربہ: ناسا نے کامیابی کے ساتھ خلائی جہاز ایک سیارچے سے ٹکرا دیا

بی بی سی اردو  |  Sep 27, 2022

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے خلا میں ایک تجربے کے دوران انتہائی مہارت اور کامیابی کے ساتھ اپنا ایک خلائی جہاز ایک سیارچے سے ٹکرا کر تباہ کر دیا ہے۔ ناسا اس مشن کے ذریعے یہ جاننا چاہتا ہے کہ ایک بڑے حجم کے خلائی پتھر کو زمین سے ٹکرانے سے روکنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔

خلا میں موجود ایک بڑے پتھر سے خلائی جہاز ٹکرانے کا یہ تجربہ زمین سے تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ کلومیٹر دور کیا گیا ہے۔ اور جس سیارچے کو خلائی جہاز نے ہدف بنایا اس کو ڈیمورفوس کا نام دیا گیا ہے جبکہ اس مشن کو ڈارٹ مشن کہا جاتا ہے۔

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ خلائی پتھر زمین سے ٹکرانے کے راستے یا مدار پر نہیں ہے اور نہ ہی یہ تجربہ اس پتھر کو حادثاتی طور پر یا غلطی سے زمین کی طرف بھیجے گا۔

یہ تجربہ برطانوی وقت کے مطابق رات 12 بجے کر 14 منٹ پر کیا گا جب ناسا کا خلائی جہاز اس سیارچے سے جا ٹکرایا اور اس سارہ عمل کی اس خلائی جہاز پر موجود کیمرے سے عکس بندی بھی کی گئی تاوقت کہ وہ تباہ نہیں ہو گیا۔

اس خلائی جہاز نے اس تمام تجربے اور سیارچے سے ٹکرانے کے سفر کی ہر سکینڈ تصاویر زمین پر بھیجی ہیں۔

خلا میں موجود سب سے بڑی ٹیلی سکوپ جیمز ویب سمیت دیگر خلائی دور بینوں کے ذریعے اس تجربے کو دیکھا گیا ہے۔

ہم نے ہالی وڈ کی فلموں میں کئی مرتبہ ایسے مناظر دیکھے ہیں جب وہ اپنے بہادر خلا بازوں اور ایٹمی ہتھیاروں سے ایسے کارنامے انجام دیتے ہیں۔ مگر حقیقت میں ایک خطرناک سیارچے سے زمین کو کیسے بچایا جائے؟

ناسا اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے خیال میں اس کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ خلائی جہاز کو ہی اس سیارچے کے ساتھ ٹکرا دیا جائے۔

اس عمل کے پیچھے یہ سوچ یا خیال ہے کہ آپ کو اس سیارچے کی زمین کی جانب بڑھنے کے رخ کو معمولی سا تبدیل کرنے کے لیے اس کی رفتار کو کم کرنا ہو گا تاکہ زمین ان کا ہدف نہ بن سکے۔ بشرطیکہ آپ یہ کارروائی زمین سے کافی فاصلے سے کر لیں۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی اپلائیڈ فزکس لیبارٹری میں موجود کنٹرولرز اس تجربے کے مکمل ہوتے ہی خوشی سے اچھل پڑے کیونکہ اس خلائی جہاز کے ٹکراؤ سے چند لمحے قبل اس کے کیمرے میں ڈیمورفوس سیارچے کے منطر سے بھر دیا تھا۔

سائنسدانوں کے ابتدائی حساب کتاب کے مطابق اس تجربے میں خلائی جہاز، سیارچے کے مرکز سے صرف 17 میٹر ہٹ کے ٹکرایا ہے۔

البتہ ناسا کے سائنسدانوں کو یہ جاننے میں کچھ وقت لگے گا کہ کیا ان کا تجربہ کامیاب رہا مگر ناسا میں خلائی سائنس کی ڈائریکٹر لوری گلیز کو یقین ہے کہ کچھ اہم نتائج حاصل ہو گئے ہیں۔

انھوں نے رپورٹروں کو بتایا کہ 'ہم بنی نوع انسان کے ایک نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں، ایک ایسا دور جس میں ہم ممکنہ طور پر اپنے آپ کو کسی خطرناک سیارچے کے اثرات سے بچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کتنی حیرت انگیز بات ہے۔ ہمارے پاس اس سے پہلے کبھی یہ صلاحیت نہیں تھی۔‘

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اپلائیڈ فزکس لیبارٹری میں ہی مشن سسٹم انجینئر ڈاکٹر ایلینا ایڈمز کا کہنا تھا کہ 'ہم زمین باسیوں کو سکون کی نیند سونا چاہیے کیونکہ انھیں علم ہونا چاہیے کہ اب ان کے پاس خلائی حملے سے دفاعی نظام موجود ہے۔

یہ مشن اس نظریہ کا تجربہ کرنا تھا کہ160 میٹر چوڑے ڈیمورفوس نامی سیارچے سے ایک خلائی جہاز تقریباً 20 ہزار سے 22 ہزار کلومیٹر کی رفتار سے جا ٹکرائے۔

BBC

یہ توقع ہے کہ اس تجربے کے بعد یہ سیارچہ اپنے قریبی موجود اپنے سے کافی بڑے ڈیڈیموس نامی سیارچے کے مدار کی جانب روزانہ چند منٹ بڑھنا شروع ہو جانا چاہیے۔

ناسا نے وعدہ کیا تھا کہ جیسے ہی خلائی جہاز 570 کلوگرام وزنی سیارچے سے ٹکرائے گا اس تمام تجربے کی شاندار تصاویر حاصل کی جائیں گی۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اپلائیڈ فزکس لیبارٹری کی ڈاکٹر نینسی چابوٹ نے اس مشن کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 'ڈارٹ مشن خلا میں پہلا دفاعی تجربہ ہے جس میں ایک خلائی جہاز کو سیارچے سے ٹکرانے کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے تاکہ خلا میں اس سیارچے کی سمت کو تھوڑا سا تبدیل کیا جا سکے۔'

زمین پر موجود تقریباً دو درجن سے زیادہ خلائی دوربینوں نے اس تجربے کا مشاہدہ کیا اور اب وہ باریکی سے ڈیمورفوس اور ڈیڈیموس نامی سیارچے کے مداروں کے درمیان فاصلے کا مشاہدہ کریں گی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'یہ ایک ایسا عمل ہے کہ ضرورت پڑنے پر آپ برسوں پہلے ہی کسی سیارچے کو اس کے مدار سے تھوڑا سا ہٹانے کے لیے ایک جھٹکا دیں تاکہ مستقبل میں زمین اور وہ سیارچہ آپس میں ٹکرانے سے بچ سکیں۔ '

اس ڈارٹ مشن سے قبل سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ خلائی جہاز کے لیے ڈیمورفوس نامی اس سیارچے کو نشانے بنانا کافی مشکل ہو گا کیونکہ ناسا کا خلائی جہاز تقریباً آخری 50 منٹ میں اس سیارچے کے قریب موجود780 میٹر چوڑے ڈیڈیموس سیارچے اورڈیمورفوس میں تفریق کر پائے گا اور اپنے اصل ہدف کو نشانہ بنا پائے گا۔

مشن کے بعد ان کا کہنا ہے کہ سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا اور ڈارٹ مشن نے ڈیمورفوس نامی سیارچے اور ڈیڈیموس سیارچے میں تفریق کر کے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔

خلائی جہاز میں موجود نیویگیشن سوفٹ ویئر کو اس طرح سے پروگرام یا تیار کیا گیا کہ خلائی جہاز سفر کرتے ہوئے سیدھا اپنے ہدف کو ہی نشانہ بنائے۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اپلائیڈ فزکس لیبارٹری میں اس مشن کے سربراہ ڈاکٹر اینڈی ریوکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بالکل ایسا ہی ہوا جیسا یہ پروگرام تیار کیا گیا تھا، یہ ایسا ہی ہے کہ جو ڈبے پر لکھا تھا اندر بھی وہی ملا۔‘

BBC

یہ بھی پڑھیے

ناسا کا انسان کو چاند پر بھیجنے کا منصوبہ تکنیکی مسائل کی وجہ سے معطل

’ستاروں سے آگے جہاں‘ کی تلاش میں تاریخ کا عظیم ترین سائنسی مشن

مشتری سے دور دراز کہکشاؤں تک، جیمز ویب دوربین کی نئی تصاویر

ناسا میں اس ڈارٹ مشن کے سائنسدان ڈاکٹر ٹوم سٹاٹلر کا کہنا ہے کہ 'روشنی کی رفتار جتنی رفتار اور فاصلے کی وجہ سے یہ ممکن نہیں کہ کوئی پائلٹ زمین پر بیٹھ کر اس خلائی جہاز کو کنٹرول یا چلا سکے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'ہمیں ایک ایسا سوفٹ ویئر تیار کرنا پڑا ہے جو اس خلائی جہاز سے لی گئی تصاویر کو فوری طور پر جانچ سکے، یہ تعین کر سکے کہ اصل ہدف کون سا ہے اور اپنے ہدف کے تعاقب میں سیدھا راستہ لے سکے۔‘

اس مشن کے دوران جب خلائی جہاز اس سیارچے کی جانب 'ٹکراؤ' کے لیے بڑھ رہا ہو گا تو اس کارروائی اور منظر کی ہر سکینڈ ایک تصویر زمین پر بھیجے گا۔ اور ان تصاویر میں پہلے ایک چمکتا نقطہ دکھائے دینے والا سیارچہ ایک دم بڑھ کر پورے منظر پر چھا جائے گا اس کے بعد تصاویر آنے کا سلسلہ ایک دم منقطع ہو جائے گا کیونکہ اس وقت یہ خلائی جہاز اس سیارچے سے ٹکرا کر تباہ ہو چکا ہو گا۔

خوش قسمتی سے اس تمام تر مشن کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی کیونکہ اس ڈارٹ مشن میں شامل خلائی جہاز نے چند روز پہلے اٹلی کا تیارکردہ ایک 14 کلو وزنی سیٹلائٹ بھی خلا میں چھوڑا تھا۔ جس کا مقصد ہی یہ پتا لگانا ہے کہ جب ڈارٹ سیارچے سے ٹکرا جائے گا تو اس کے بعد کیا ہو گا۔ یہ سیٹلائٹ اس تمام عمل کو ریکارڈ کرے گا۔

یہ سیٹلائٹ اس مشن کے دوران تقریباً 50 کلومیٹر دور سے اس تجربے کی تصاویر کھینچے گا اور اگلے چند دنوں کے دوران اس کی تصاویر زمین تک واپس پہنچیں گی۔

اس سیٹلائٹ کو لیسیا کیوب کا نام دیا گیا ہے اور اطالوی خلائی ایجنسی کے سیمون پیروٹا کا کہنا ہے کہ 'یہ ڈارٹ کے سیارچے سے ٹکرانے کے تقریباً تین منٹ بعد اس مقام سے گزرے گا۔'

وہ کہتے ہیں کہ ' تین منٹ کا وقت اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اس وقتتک خلائی جہاز کے ٹکرانے سے سیارچے کو پیش آنے والے اثرات مکمل ہو جائے اور اس ٹکراؤ سے اس کے مدار میں ہونی والی تبدیلی کو وقت مل سکے۔ کیونکہ لیسیا کیوب سیٹلائٹ کا دوسرا بڑا اہم کام یہ ہے کہ وہ اس بات کا مشاہدہ کرے کے خلائی جہاز کے سیارچے سے ٹکرانے کے بعد اس کے مدار میں کتنی تبدیلی آئی اور وہ کس حد تک اپنے مدار سے سرکا ہے۔'

اس وقت ڈیمورس نامی سیارچہ تقریباً 11 گھنٹوں اور 55 منٹ میں ڈیڈیموس نامی سیارچے کے گرد اپنا چکر مکمل کرتا ہے۔ توقع ہے کہ اس تجربے سے اس کے مدار میں چکر لگانے کے وقت میں معمولی کا فرق پڑے گا اور وہ یہ چکر 11 گھنٹوں اور 45 منٹ میں مکمل کر لے گا۔ تاہم خلائی دوربین کے ذریعے اس پیمائش کی تصدیق اگلے چند ہفتوں اور مہینوں کے دوران ہو گی۔

خلا کے جائزوں اور شماریاتی اعداو و شمار کے مطابق ہم نے خلا میں 95 فیصد ایسے دیوہیکل سیارچوں کی نشاندہی کی ہے جو اگر زمین کے ساتھ ٹکرا جائیں تو زمین پر انسانی زندگی مکمل طور پر ختم کر سکتے ہیں (مگر وہ ایسا نہیں کر سکتے، ان کے مدار کا حساب لگایا گیا ہے وہ زمین کے قریب نہیں آ سکتے۔)

لیکن ان کے باوجود خلا میں ایسے بہت سے چھوٹے سیارچے موجود ہیں جو زمین سے ٹکرانے کے بعد تباہی مچا سکتے ہیں چاہیے وہ علاقائی یا کسی ایک مخصوص شہر کی سطح پر ہی کیوں نہ ہو۔

سائسندانوں کے مطابق اگر ڈیمورفوس جیسا سیارچہ زمین سے ٹکرائے جائے (جو کہ نہیں ٹکرائے گا) تو یہ ایک کلومیٹر چوڑا اور سینکڑوں میٹر گہرا گڑھا بنا سکتا ہے اور اس ٹکراؤ کے نتیجہ میں آنے والے جھٹکے سے اس کے قریبی علاقوں پر شدید اثر پڑ سکتا ہے۔

آج سے چار برس بعد یورپی خلائی ایجنسی کے پاس تین خلائی جہاز ہو گے جن کو مشترکہ طور پر ہیرا مشن کا نام دیا جائے گا اور وہ ڈیٹیموس اور ڈیمورفوس پر اس تجربے کے بعد کے حالات پر تحقیق کریں گے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More