انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں ڈی جی جیل کی لاش گھر سے برآمد

اردو نیوز  |  Oct 05, 2022

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی جیل کے ڈائریکٹر جنرل ہیمنت کمار لوہیا کی لاش جموں میں ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی ہے۔ 

پولیس کا کہنا ہے کہ قتل میں مبینہ طور پر گھریلو ملازم ملوث ہے۔این ڈی ٹی وی کے مطابق 57 سالہ ہیمنت کمار لوہیا کا گلا کاٹا گیا ہے جبکہ جسم پر جلنے کے نشانات بھی موجود ہیں۔ 

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مشکوک شخص واقعے کے بعد بھاگ رہا ہے۔

پولیس نے یہ دعوٰی بھی کیا ہے کہ اس کے ہاتھ ہیمنت کمار کے گھریلو ملازم 23 سالہ یاسر احمد کی ڈائری بھی لگی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ قتل میں ملوث ہے۔

پولیس کے مطابق ’ڈائری میں ہندی میں گانے لکھے ہوئے ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ ’بھلا دینا مجھے‘، اسی طرح دوسرے صفحات پر کچھ جملے ہیں جن میں لکھا گیا ہے کہ ’مجھے اپنی زندگی سے نفرت ہے‘ اور ’زندگی صرف غم ہے۔‘ اسی طرح ایک موبائل کی بیٹری کا خاکہ بنایا گیا ہے جس پر ایک فیصد لکھا ہے جس کو انہوں نے ’اپنی زندگی‘ قرار دیا ہے۔

اس کے بعد لکھا گیا ہے کہ ’محبت صفر فیصد، ٹیشن 90 فیصد، مصنوعی مسکراہٹ 100 فیصد۔‘

ڈائری میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’پیاری موت، جلد آ جاؤ۔‘ ایک اور جگہ لکھا گیا ہے کہ ’میرا دن، ہفتہ، مہینہ، سال بلکہ زندگی سب کچھ برا چل رہا ہے۔‘

اسی طرح ایک اور جملہ یہ لکھا گیا ہے کہ ’میں جیسی زندگی جی رہا ہوں مجھے اس سے کوئی پرابلم نہیں، پرابلم اس بات کی ہے کہ آگے کیا ہوگا۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ رمبان کا رہائشی یاسر احمد ہیمنت کمار کے گھر چھ ماہ سے کام کر رہا تھا پولیس کے مطابق ’وہ جارحانہ مزاج کا حامل ہے اور ڈپریشن کا شکار دکھائی دیتا ہے۔‘

پولیس کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’ابتدائی تفتیش میں ابھی تک دہشت گردی سے کوئی تعلق سامنے نہیں آیا ہے تاہم مزید تحقیقات میں اس کا امکان ہے۔‘

اعلٰی افسر کے قتل کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر داخلہ امیت شاہ اس ریاست کے دورے پر ہیں۔

ہیمنت لوہیا کی اس علاقے میں پوسٹنگ دو ماہ قبل ہی ہوئی تھی وہ اپنی فیملی کے ساتھ ایک دوست کے گھر پررہائش پذیر تھے جبکہ سرکاری طور پر ان کو ملنے والے گھر کی تزئین و آرائش کا کام ہو رہا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More