صومالیہ میں قحط: بھوک کے باعث کمزوری کی وجہ سے وہ اپنے بچے کو دفنا بھی نہیں سکی۔

بی بی سی اردو  |  Oct 05, 2022

BBCداہر (تصویر میں اپنی بہن اور ماں کے ساتھ بائیں طرف) نے حال ہی میں اپنے بھائی کو بھوک کے باعث کھو دیا

گیارہ سالہ داہر کے پچکے گالوں سے آنسو نیچے بہہ رہے تھے۔ اس نے دھیمی سی آواز میں کہا 'میں صرف ان حالات میں زندہ رہنا چاہتا ہوں۔'

بیدوا شہر کے مضافات میں قائم خیمہ بستی میں ایک عارضی خیمے کے باہر مٹی پر بیٹھے ہوئے داہر کو اس کی کمزور والدہ فاطمہ عمر نے چپ کرنے کو کہا۔

ان کا کہنا تھا 'تمھارے آنسو تمھارے بھائی کو واپس نہیں لائیں گے، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔'

فاطمہ کا دوسرا بیٹا دس سالہ صلات، دو ہفتے قبل بھوک کے باعث ہلاک ہو گیا تھا۔ اس کی ہلاکت اپنے گاؤں سے تین دن پیدل سفر کر کے بیدوا کی خیمہ بستی پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد ہوئی تھی۔

اس کی میت کو ان کے نئے گھر سے چند میٹر کے فاصلے پر پتھریلی زمین میں دفن کیا گیا ہے۔ تاہم اس کی قبر پہلے ہی کوڑے سے ڈھکی ہوئی ہے اور نئے آنے والوں کے اس کے ارد گرد کیمپ لگانے کی وجہ سے اسے دیکھنا مشکل ہے۔

فاطمہ نے اپنی نو ماہ کی بیٹی کو جھولا جھولاتے اور چھ سالہ بیٹی مریم جو بلخم والی کھانسی کر رہی تھی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا 'میں اپنے بیٹے کا غم نہیں منا سکتی، میرے پاس اس کے لیے وقت نہیں ہے مجھے کام اور خوراک کی تلاش کرنی ہے تاکہ دوسرے بچوں کو زندہ رکھ سکوں۔'

اس خیمہ بستی سے گزرتی ہوئی کچی سڑک کے دوسری جانب جو جنوب مشرق میں صومالیہ کے ساحلی دارالحکومت موغا دیشو کی جانب جاتی ہے۔ وہاں موجود بے گھر افراد نے مجھے اس قحط زدہ ملک میں خوراک کی تلاش میں طویل سفر کرنے کی مزید دلخراش کہانیاں سنائی۔

'میرے میں اپنی بیٹی کو دفنانے کی سکت نہیں تھی'

ایک نئے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کیمپوں میں تقریباً دو تہائی چھوٹے بچے اور حاملہ خواتین شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، اور شرح اموات میں اضافے کے علاوہ یہ چیز اس بات کی نشاندہی کر سکتی ہے کہ کہیں پہلے ہی اسے قحط زدہ قرار دینا چاہیے تھا۔

فاطمہ کا کہنا تھا کہ 'میں نے اپنی بیٹی (تین سالہ فارحر) کو اپنے سامنے دم توڑے دیکھا اور میں کچھ نہیں کر سکی۔' انھوں نے اپنے نو بچوں کے ساتھ اپنے گاؤں سے اس خیمہ بستی پہنچنے کے لیے تقریباً 15 دنوں تک پیدل سفر کیا تھا۔

انھوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 'میں نے اسے دس دن تک گود میں اٹھائے رکھا، ہمیں اسے سڑک کنارے چھوڑ کر آنا پڑا، ہمارے پاس اس دفنانے کی سکت نہیں تھی، میں قریب سے لگڑبگڑوں کو آتے سن سکتی تھی۔'

BBCحبیبہ محمد کا کہنا ہے کہ ان کا گاؤں تباہ ہو گیا ہے

پچاس سالہ حبیبہ محمد اپنے ہاتھ میں ایک رسی کو گھماتے ہوئے کہتی ہیں کہ 'میں اپنے ساتھ سفر میں کچھ نہیں لائی تھی، گھر میں کچھ نہیں بچا تھا، مال مویشی بھی مر گئے تھے، کھیت خشک تھے۔'

وہ جانتی ہیں کہ وہ کبھی اپنے گاؤں واپس نہیں جائیں گی۔

موسمیاتی تبدیلی کے باعث تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اور پے در پےخشک سالی سے قرن افریقہ میں صدیوں سے جاری دہی طرز زندگی کو اب خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

اس خیمہ بستی میں دیگر نئے آنے والوں کی طرح حبیبہ بھی درخت کے تنوں، پتوں اور جھاڑ، وہاں موجود پلاسٹک شیٹ اور گتے کے ٹکروں سے اپنے خیمہ لگانے میں مصروف تھی اور وہ یہ امید کر رہی تھی کے رات کی خنکی بڑھنے سے قبل ان کا یہ کام ختم ہو جائے۔ اس کام کے ختم ہو جانے کے بعد وہ وہاں خوراک اور اپنے پانچ بچوں کے لیے کوئی طبی امداد کی تلاش میں جا سکتی ہیں۔

شہر کے مرکزی ہسپتال کے وارڈ میں ڈاکٹر عبداللہ یوسف کبھی ایک بستر سے دوسرے بستر اپنے چھوٹے اور انتہائی کمزور اور بدحال مریضوں کا معائنے کرنے کے لیے پھر رہے ہیں۔ ان کی مریضوں میں زیادہ تر کی عمریں دو ماہ سے تین سال کے درمیان ہیں۔

ان سب میں خوراک کی انتہائی کمی ہے، کچھ کو نمونیہ ہے اور بہت سے خسرے کے وبائی مرض کا شکار ہیں۔

ان میں سے کچھ ہی نومولود بچوں میں رونے کی سکت ہے۔ کچھ کی جلد بری طرح خراب ہو چکی ہے۔ اور انتہائی بھوک اور قحط کی وجہ سے سوزش کے بعد پھٹ چکی ہے۔

ڈاکٹر عبداللہ کا اپنی ٹیم کے ارکان کی جانب سے دو سالا بچے کو ڈرپ لگانے کے لیے اس کے کمزور جسم میں نس کی تلاش کی نگرانی کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 'ان میں سے بہت سے ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتے ہیں۔'

'لوگ مر رہے ہیں، یہ بہت خوفناک ہے'

اگرچہ صومالی حکام اور بین الاقوامی ادارے کئی ماہ سے اس جنوب مغربی خطے میں قحط کے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں، ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ ان کے ہسپتال میں بچوں کے لیے غذائی سپلیمنٹس سمیت بنیادی اشیا کی پہلے ہی کمی ہے۔

انھوں نے واضح پریشانی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 'کبھی ہماری ادویات ختم ہو جاتی ہیں، یہ حقیقت میں بہت حوفناک ہوتا ہے کیونکہ لوگ مر رہے ہیں اور ہم ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ ہماری مقامی حکومت اس سے مناسب طریقے سے نہیں نمٹ رہی۔اس نے خشک سالی یا اس کے نتیجے میں یہاں آنے والے بے گھر افراد کی دیکھ بھال کی منصوبہ بندی نہیں کی۔'

مقامی حکومت کے ایک وزیر نے اعتراف کیا کہ کوتاہیاں ہوئی ہیں۔

جنوبی مغربی ریاست کے انسانی امور کے وزیر ناصر عروش نے بیدوا کے مضافات میں کیمپوں کے مختصر دورے پر کہا کہ 'ہمیں مزید متحرک اور درست سمت میں کام کرنے کی ضرورت ہے، اور زیادہ موثر ہونے کی ضرورت ہے۔'

لیکن انھوں نے اصرار کیا کہ اس کام کے لیے مزید بین الاقوامی حمایت کلیدی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر ہمیں مطلوبہ امداد نہ ملی جس کی ہمیں ضرورت ہے تو ہزاروں افراد مر جائیں گے۔ جو کام ہم آج کر رہے ہیں وہ ہمیں تین ماہ پہلے کرنے کی ضرورت تھی۔ درحقیقت ہم پیچھے ہیں اور اگر جلد کچھ نہ کیا گیا تو میرے خیال میں اس خطے میں ایک انسانی المیہ جنم لے لے گا۔'

کسی بھی خطے کو باضابطہ طور پر قحط زدہ قرار دینے کا عمل پیچیدہ ہے جس پر تفصیلی ڈیٹا پر انحصار کیا جاتا ہے اور کبھی کبھار سیاسی وجوہات کی بنا پر بھی اس کا اعلان نہیں کیا جاتا۔

موغادیشو میں برطانیہ کی سفیر کیٹ فوسٹر نے اسے 'بنیادی طور پر ایک تکنیکی عمل' قرار دیا۔ انھوں نے نشاندہی کی کہ 2011 میں خشک سالی کے دوران '260,000 اموات میں سے نصف قحط کے اعلان سے پہلے ہوئی تھیں۔'

BBC

مزید امداد حاصل کرنے کے لیے صومالیہ کی بین الاقوامی کوششوں کی قیادت کرنے والے صدارتی ایلچی نے حالیہ امداد پر امریکی حکومت کا خاص طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے 'ہمیں امید ملی ہے۔'

لیکن عبدالرحمن عبدیشکور نے خبردار کیا کہ مزید مدد کے بغیر صومالیہ کے ایک حصے میں مقامی سطح پر بحران تیزی سے قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم خطرے کی گھنٹی بجا رہے تھے… لیکن بین الاقوامی برادری کا ردعمل مناسب نہیں تھا۔'

انھوں نے سفر کرتے ہوئے ٹورنٹو، کینیڈا سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا۔

'قحط کا پشین گوئی کی گئی تھی۔ یہ صومالیہ میں کچھ جگہوں، کچھ مقامات میں (پہلے ہی) ہوتا ہے، لیکن پھر بھی ہم اس تباہی کو روک سکتے ہیں۔'

BBC/ Ed Habershonخواتین جا رہی ہیں اور مرد پیچھے رہ رہے ہیں

اگرچہ اندازے مختلف ہیں، لیکن بیدوا کی آبادی پچھلے چند مہینوں میں تقریباً چار گنا بڑھ کر تقریباً 800,000 افراد تک پہنچ گئی ہے۔

اور کوئی بھی دیکھنے والا فوری طور پر ایک حیرت انگیز حقیقت کو جان لےگا کہ تقریباً تمام نئے آنے والے افراد میں صرف خواتین ہیں۔

صومالیہ حالت جنگ میں ہے۔ تین دہائیوں قبل مرکزی حکومت کے خاتمے کے بعد سے، مختلف صورتوں میں یہ تنازع برقرار ہے، اور یہ ملک کے تقریباً ہر حصے پر اثر انداز ہو رہا ہے، اور مسلح گروہوں لڑنے کے لیے مردوں کو اپنے خاندانوں سے الگ کر رہے ہیں۔

بیدوا پہنچنے والے بہت سے افراد کی طرح حدیجہ ابوبکر بھی حال ہی میں صومالیہ کے عسکریت پسند اسلامی گروہ الشباب کے زیر کنٹرول علاقے سے فرار ہو کر یہاں پہنچیں ہیں۔

بیدوا کے ہسپتال میں اپنے بیمار بچے کے ساتھ بیٹھے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ 'اب بھی مجھے اپنے گھر والوں کے فون آ رہے ہیں۔ وہاں حکومت اور الشباب کے درمیان لڑائی ہو رہی ہے۔ میرے رشتہ دار بھاگ کر جنگل میں چھپ گئے ہیں۔'

دیگر خواتین نے شوہروں اور نوجوان بیٹوں کو عسکریت پسندوں کے زیر کنٹرول علاقوں سے نہ نکلنے دینے اور ان کی برسوں بھتہ خوری کے بارے میں بتایا۔

بیدوا خود الشباب کے زیر قبضہ علاقہ نہیں ہے لیکن یہ پناہ گزینوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بھی نہیں ہے۔ بین الاقوامی امدادی تنظیموں، اور غیر ملکی صحافیوں کو یہاں گھومنے پھرنے کے لیے بھاری سکیورٹی درکار ہوتی ہے، اور شہر کی حدود سے باہر کوئی بھی سفر انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

BBC

وسطی اور جنوبی صومالیہ میں اقوام متحدہ کےادارے یونیسیف کے سربراہ چارلس نزوکی کا کہنا ہے کہ 'ہم ان آبادیوں کو دیکھ رہے ہیں جو محاصرے میں ہیں۔ بعض اوقات یہ کافی ناامید محسوس ہوتا ہے۔'

چند اندازوں کے مطابق موجودہ خشک سالی سے متاثر ہونے والی نصف سے زیادہ آبادی الشباب کے زیر کنٹرول علاقوں میں رہتی ہے۔

نامزد دہشت گرد گروپوں کو مالی فائدہ پہنچنے کی روک تھام کے امریکی حکومت کے سخت قوانین کے باعث بہت سی مشکل میں گھری آبادیوں تک پہنچنے کا عمل پیچیدہ ہے۔

لیکن بین الاقوامی تنظیمیں، اور صومالی حکام، ان آبادیوں تک رسائی بڑھانے کے لیے چھوٹے مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور اب کچھ متنازعہ علاقوں میں ہوائی جہاز بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

ایک امدادی کارکن نے، آف دی ریکارڈ بات کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ اس بات کی ضمانت دینا تقریباً ناممکن تھا کہ الشباب تک کوئی خوراک یا رقوم نہیں پہنچ رہی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ 'ہمیں اتنے معصوم نہیں بننا چاہیے (الشباب) ہر چیز پر ٹیکس لیتی ہے حتی کہ کیش عطیات پر بھی ٹیکس لیتی ہے۔'

برسوں کے دوران اس عسکریت پسند گروہ نے نہ صرف تشدد اور دھمکیوں کے لیے بلکہ ایک ایسے ملک میں فوری انصاف کی فراہمی کے لیے بھی شہرت قائم کی ہے جہاں سرکاری بدعنوانی بہت عام ہے۔

بیدوا کے قریب کم از کم چار دیہاتوں میں، الشباب شرعی عدالتوں کا ایک نیٹ ورک چلاتا ہے جسے شہر کے رہائشی اور مبینہ طور پر موغادیشو اور اس سے باہر کے لوگ کاروبار اور زمینی تنازعات کو حل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ملک کے شمال مشرق میں الشباب کے خلاف مقامی آبادیوں اور قبائلی ملیشیا کی بغاوت دیکھنے میں آئی ہے۔ جنھیں اب مرکزی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔

BBC/ Ed Habershon

اس مزاحمت نے حالیہ ہفتوں میں الشباب گروہ کو درجنوں قصبوں اور دیہاتوں سے بے دخل کر دیا

عسکری کامیابیوں نے خطے میں امید کو جنم دیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس سے قحط کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی، یا صرف صومالی حکومت کی توجہ ہٹ جائے گی۔

مقامی وزیر ناصر اروش کا کہنا تھا کہ 'شاید یہ سود مند ہو یا نہ ہو، میرے خیال میں اس سے مزید افراد بے گھر ہوں گے۔ یا حکومت مزید علاقوں کو آزاد کروا کر لے اور شاید زیادہ عوام تک امداد پہنچ سکے۔ لہذا ہم اسے ہر نظر سے دیکھ رہے ہیں۔'

خود بیدوا میں شہر کی تنگ گلیوں پر دہائیوں سے جاری تنازعے اور بدانتظامی کے نقوش ہیں۔شہر میں بنیادی اشیا خوردو نوش جیسا کے چاول کی قیمت گذشتہ ماہ میں دگنی ہو گئی ہے۔ بہت سے رہائشی اس کا الزام قحط سالی پر عائد کرتے ہیں لیکن دوسرے اس کے دیگر وجوہات بتاتے ہیں۔

38 سالہ شکری معلمنے اپنے سوکھے کنویں اور سبزیوں کے لیے مختص خشک زمین کے پاس سے گزرتے ہوئے کہا کہ 'آٹا، چینی، تیل، ان سب میں تقریباً ایک ہی طرح سے اضافہ ہوا ہے۔ بعض اوقات ہمیں کھانا چھوڑنا پڑتا ہے۔ میں نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے بارے میں سنا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ان مسائل کی بنیادی وجہ یہی ہے۔'

اگرچہ اس خطے میں پھیلتے ہوئے قحط سے بچاؤ کی لڑائی فوری توجہ کا مرکز ہے، صومالیہ کی نئی حکومت بھی مستقبل کے بارے میں مزید سوالاتکے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

عبدالرحمان عبدیشکور کا کہنا ہے کہ 'قحط سالی کا جواب دینا، الشباب کے خلاف لڑنا، اور (بین الاقوامی) موسمیاتی انصاف کے لیے مالیات تک رسائی کے لیے مہم چلانا، ایک چیلنجنگ کام ہے۔'

'ہمارے پاس ایک نوجوان آبادی ہے، اور بڑے پیمانے پر بیرون ملک آباد افراد ہیں اور شاندار ہنر ہیں۔ یہ ہمیں امید دیتا ہے۔ مگر یہ چیلنجنگ ہے، لیکن ہمارے پاس اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More