روکیٹانسکی سنڈروم: وہ بیماری جس میں خواتین رحمِ مادر کے بغیر پیدا ہوتی ہیں مگر اب اس کا کچھ حد تک علاج ممکن ہے

بی بی سی اردو  |  Oct 06, 2022

Getty Images

19 سالہ ماڈل کیسیا نیسیمینٹ کا جسم 13 برس کی عمر میں ہی اُن کی دیگر ہم عمر لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ بالغ ہو چکا تھا مگر اس کے باوجود اُنھیں تب تک اپنی پہلی ماہواری نہیں ہوئی تھی۔

’چونکہ میری والدہ کو بھی ماہواری تھوڑی دیر سے شروع ہوئی تھی اسی لیے مجھے لگا کہ یہ نارمل ہے۔ اسی لیے ہم نے کچھ عرصے مزید انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

مگر یہ انتظار طویل ہوتا گیا کیونکہ انھیں 15 برس کی عمر تک بھی ماہواری شروع نہیں ہوئی۔ وہ ڈاکٹر کے پاس گئیں مگر انھیں بتایا گیا کہ بظاہر اُن میں کوئی نہیں ہے کیونکہ ان میں کسی قسم کی علامات ظاہر نہیں ہو رہی تھیں۔

پھر 16 برس کی عمر میں ایک گائناکولوجسٹ نے انھیں چند ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا، مگر چونکہ یہ وہ دور تھا جب کورونا کی وبا اپنے عروج پر تھی اسی لیے وہ کسی ماہر ڈاکٹر سے اپنا تفصیلی معائنہ نہیں کروا پا رہی تھیں تاکہ مسئلے کی جڑ تک پہنچا جا سکے۔

ایک برس بعد جب وہ 17 برس کی ہوئیں تب اُنھوں نے خون کے ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ اور دیگر گائیناکولوجیکل ٹیسٹ کروائے۔ اُس وقت ڈاکٹر یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان میں رحمِ مادر تھا اور نہ ہی اندام نہانی کی نالی۔

وہ کہتی ہیں کہ اس وقت اُنھوں نے اپنے ڈاکٹر سے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو ماں بننا چاہتی ہیں۔

ڈاکٹر نے کیسیا نیسیمینٹ کو ایک اور ٹیسٹ کروانے کے لیے کہا اور اُنھیں بتایا کہ ممکن ہے کہ اُن کا رحمِ مادر ابھی بالکل ابتدائی حالت میں ہو۔ مگر ایکسرے رپورٹ آنے کے بعد اندازہ ہوا کہ وہ ایک نایاب حالت کی شکار تھیں۔

ٹیسٹس کے بعد گائناکولوجسٹ کے ساتھ ہونے والی بات چیت نے کیسیا نیسیمینٹ کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دی۔

ڈاکٹرز نے بتایا کہ نوجوان خاتون ’روکیٹانسکی سنڈروم‘ کی شکار ہیں جس میں خواتین رحمِ مادر کے بغیر اور ایک مختصر سی اندام نہانی کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب ڈاکٹر نے مجھے یہ بتایا تو میں ہکا بکا رہ گئی۔ آپ کبھی ایسی کسی چیز کی توقع نہیں کرتے۔ میں اپنی والدہ کے ہمراہ بیٹھی ہوئی انھیں سُن رہی تھی اور جب اُنھوں نے بولنا بند کیا تو میں باتھ روم جا کر رونے لگی، پھر اپنے آنسو خشک کیے اور واپس ڈاکٹر کے کمرے میں آ گئی۔‘

BBC

وہ کہتی ہیں کہ اُنھیں گھر لوٹنے کے بعد بھی اپنی حالت کے بارے میں کچھ خاص جوابات نہیں ملے اور وہ مزید پریشان اور بے چین ہو گئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس حوالے سے دستیاب سب مواد بے حد سائنسی تھا، کچھ بھی ایسی زبان میں نہیں لکھا ہوا تھا جسے میری جیسی ٹین ایجر سمجھ سکتی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اُنھیں اس عرصے میں شدید ذہنی دباؤ رہا اور حالانکہ اُنھوں نے ماں بننے کا خواب نہیں دیکھ رکھا تھا مگر پھر بھی اُنھیں نظر آنے لگا تھا کہ اُن کے ماں بننے کا اب کوئی امکان نہیں ہے۔

روکیٹانسکی سنڈروم کیا ہے؟

یہ ایک پیدائشی نقص ہے جس کی وجہ سے رحمِ مادر جسم میں موجود ہی نہیں ہوتا ہے یا پھر اندام نہانی کا ایک حصہ پوری طرح بن نہیں پاتا۔ یہ حالت ایمبریو بننے کے بعد چھٹے ہفتے میں ہی سامنے آ جاتی ہے۔

برازیل کی پوزیٹیوو یونیورسٹی میں گائناکولوجسٹ اور پروفیسر نتالیہ پیووانی کہتی ہیں کہ ’اس سنڈروم کے باعث عضو کی ساخت بدل جاتی ہے مگر خواتین میں بیضہ دانیاں ہوتی ہیں اور اُن کی جنسی خصوصیات بھی پرورش پاتی ہیں۔ لڑکیاں عام طور پر ڈاکٹر کے پاس اس لیے جاتی ہیں کیونکہ اُنھیں ماہواری نہیں آ رہی ہوتی۔‘

ماہواری اس لیے نہیں آتی کیونکہ رحمِ مادر کو ڈھکنے والی بافت اینڈرومیٹرییم اس عضو کی عدم موجودگی کے باعث ٹھیک سے اپنی جگہ موجود نہیں ہوتی۔

عام طور پر لڑکیوں کو اپنی پہلی ماہواری نو سے 13 برس کی عمر کے درمیان ہوتی ہے۔

اس سنڈروم کو تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ٹائپ 1، سب سے عام ہے اور یہ تقریباً 70 فیصد مریضوں میں ہوتی ہے۔ اس میں تولیدی نظام کمتر حالت میں ہوتا ہے۔

ٹائپ 2، کو اے ٹیپیکل بھی کہا جاتا ہے اور یہ عام طور پر کم ہی پائی جاتی ہے۔ اس میں بیضہ دانی کے مسائل کے ساتھ ساتھ گردوں، ہڈیوں اور کانوں میں بھی پیدائشی نقص ہوتے ہیں۔

ٹائپ 3، سب سے نایاب اور سب سے شدید ہوتی ہے اور اس میں متعدد اعضا میں پیدائشی نقائص ہوتے ہیں۔

ویسے تو یہ مرض وسیع پیمانے پر نہیں پایا جاتا مگر پھر بھی ڈاکٹرز روکیٹانسکی سنڈروم کو نایاب نہیں تصور کرتے کیونکہ یہ پانچ ہزار خواتین میں سے ایک خاتون میں موجود ہوتا ہے۔

Getty Images

عام طور پر اس حالت کا اس وقت پتا لگتا ہے جب ماہواری نہیں آ رہی ہوتی یا پھر اُنھیں جنسی زندگی شروع کر دینے کے باوجود بھی ماہواری نہ آ رہی ہو اور جنسی عمل کے دوران بے حد تکلیف اور دشواری کا سامنا ہو۔

چونکہ جنسی عضو باہر سے بالکل نارمل ہوتے ہیں اس لیے اس سنڈروم کی تشخیص بہت مشکل ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عام طور پر چیک اپ اور ٹیسٹس کے دوران کسی ’غیر معمولی‘ چیز کا پتا لگاتے ہیں۔

برازیل کی فیڈرل یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو میں جنسی اعضا کے نقائص کے کلینک کی کوآرڈینیٹر کلاڈیا ٹکانو کہتی ہیں کہ ’ہم پیڑو کی ہڈی کا ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ اور ایک جینیاتی ٹیسٹ کر سکتے ہیں تاکہ یہ دیکھیں کہ مریض میں XX کروموسومز ہیں یا نہیں۔‘

کیا اس کا علاج موجود ہے؟

کچھ علاج اور ورزشوں کے ذریعے روکیٹانسکی سنڈروم کو دور کیا جا سکتا ہے۔ ڈائلیٹرز کے ذریعے اندام نہانی کو عمومی سائز تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

برازیل کی گائناکولوجسٹ پروفیسر پریسیلا میڈینا کہتی ہیں کہ ’مریض کی اندام نہانی کا سائز دو تہائی ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے عام طور پر جنسی عمل کے دوران دشواری ہوتی ہے۔ علاج میں پہلے چھوٹے ڈائلیٹرز استعمال کیے جاتے ہیں اور پھر بڑے۔‘

اس کے بعد کئی طرح کے ماہرین مل کر علاج کرتے ہیں جن میں گائناکولوجسٹ، فزیوتھیراپسٹ، اور سائیکالوجسٹ شامل ہیں۔ اس علاج میں نفسیاتی مدد کی اپنی اہمیت ہے کیونکہ اس میں جنسیت اور ماں بننے کے بارے میں مسائل پر گفتگو کر کے ذہنی پریشانی دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اگر ڈائیلیٹرز بھی ناکام ہو جائیں تو پھر سرجری کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس کے لیے کئی تکنیکیں موجود ہیں مگر سب سے عام طریقے میں اندام نہانی کی ایک نئی نالی بنائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

'میرے درد کو سب لوگ تماشے کا نام دیتے تھے'

ماہواری کے درد کے بارے میں کب پریشان ہونا چاہیے؟

جبری مانع حمل: ’میں کنواری تھی اور نہیں جانتی تھی میرے ساتھ کیا کیا جا رہا تھا‘

زچگی کے مسائل: ’یہ نہیں بتایا جاتا کہ اگر کچھ کام وقت پر نہ کیے جائیں تو کیا ہو سکتا ہے‘

مریض کو چار سے پانچ دن کے لیے ہسپتال میں رہنا ہوتا ہے اور وہ چار ماہ تک کوئی جنسی عمل نہیں کر سکتے۔

اس کے علاوہ مریض کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اسی مرض کی حامل دیگر خواتین سے ملیں جلیں اور بات کریں تاکہ اُنھیں اپنے تنہا ہونے کا احساس نہ ہو۔

معلومات اور ہمدردی کی کمی

نیسیمینٹو کی طرح 19 سالہ ڈیبوراہ مورائز میں روکیٹانسکی سنڈروم کی تشخیص ہوئی تھی۔ اُنھیں 16 برس کی عمر تک ماہواری نہیں ہوئی تھی سو وہ ڈاکٹر کے پاس گئیں کہ کہیں وہ بیمار تو نہیں ہیں۔

Getty Images

ابتدائی طور پر ان کی گائناکولوجسٹ نے اُنھیں بتایا کہ اُن کے پردہ بکارت میں سوراخ ہے مگر اُنھیں ان کی ممکنہ بیماری سے آگاہ نہیں کیا۔ اپنے ٹیسٹس کی رپورٹس لے کر وہ ایک اور ڈاکٹر کے پاس گئیں تو اُنھیں پتا چلا کہ اُن کے پاس رحمِ مادر ہے ہی نہیں۔ مگر اُنھیں وہاں بھی اس حوالے سے زیادہ معلومات نہیں ملیں۔

’مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میرے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔ ڈاکٹروں کو بھی ٹھیک سے سمجھانا نہیں آ رہا تھا۔‘

مورائز کہتی ہیں کہ یہ پورا مرحلہ بہت پریشان کُن تھا اور حالانکہ وہ چاہتی تھیں کہ ڈاکٹر انھیں حوصلہ دلائیں اور ان کی صورتحال کے بارے میں اُن کی رہنمائی کریں مگر ایسا نہیں ہوا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ایک مرتبہ جب میں کلینک سے باہر نکلی تو رونے لگی۔ پہلے ڈاکٹر میں کوئی احساسِ ہمدردی نہیں تھا اور اُنھوں نے مجھے کہا کہ میں کسی کو نہ بتاؤں۔‘

مورائز کی حالت خراب ہوتی گئی اور اُنھیں کوئی سپیشلسٹ ڈھونڈنے میں وقت لگا جو اتنے مشکل وقت میں انھیں ممکنہ طور پر علاج فراہم کر سکے۔

ماں بننا بھی ممکن ہے

تشخیص ہونے کے بعد ذہن میں سب سے پہلے خیالات اور بے چینی جو پیدا ہوتی ہے وہ یہ کہ مریض روایتی طور پر حاملہ نہیں ہو سکتا۔

نیسیمینٹو کہتی ہیں کہ خود کو ماں بنتے تصور نہ کرنا بہت دردناک تھا۔ مورائز بھی ماں بننا چاہتی تھیں مگر اس تشخیص کے بعد ان کا خواب ٹوٹ گیا۔ ’یہ ہم میں سے زیادہ تر کا خواب ہوتا ہے تاہم کچھ خواتین اسے قبول نہیں کرتیں۔‘

بہت تحقیق کرنے کے بعد نیسیمینٹو اور مورائز کو روکی انسٹیٹیوٹ نامی ایک مرکز کا پتا چلا جہاں اس سنڈروم پر تحقیق ہوتی ہے۔ اُنھوں نے ماں بننے کے حوالے سے ممکنات کا جائزہ لینا شروع کیا تو اُنھیں معلوم ہوا کہ ویسے یہ مشکل تو ہے مگر اس حوالے سے متبادل ضرور موجود ہے۔

اُنھیں بتایا گیا کہ یا تو وہ کسی اور کے رحم میں حمل ٹھہرا سکتی ہیں یا پھر بچہ گود لے سکتی ہیں۔ کلاڈیا ٹکانو کہتی ہیں کہ ایک اور طریقے پر ابھی تحقیق ہو رہی ہے اور وہ رحمِ مادر کا ٹرانسپلانٹ ہے۔

مورائز کہتی ہیں کہ اب وہ بہتر محسوس کر رہی ہیں اور اس مسئلے سے بہتر انداز میں نمٹ رہی ہیں۔ نیسیمینٹو کہتی ہیں کہ وہ اس سنڈروم کے بارے میں سوچتی تھیں کہ اس نے اُنھیں بانجھ بنا دیا ہے مگر اب وہ بھی اسے مختلف انداز میں دیکھتی ہیں۔

معلومات کی کمی اور تاخیر سے تشخیص کے باعث کئی بالغ لڑکیاں اور خواتین کئی برسوں تک روکیٹانسکی سنڈروم کے اثرات سے گزرتی رہتی ہیں۔

اسی وجہ سے ڈاکٹر کلاڈیا میلوٹی نے روکی انسٹیٹیوٹ کے قیام کا فیصلہ کیا جو اس سنڈروم کی شکار خواتین کے لیے مدد کا اولین ذریعہ بنتا ہے۔ وہ خود بھی اس مسئلے کی شکار ہیں اور اُنھیں رحمِ مادر نہ ہونے کا پتا 13 برس کی عمر میں چلا۔

تاہم اُن کی مکمل تشخیص ہونے میں چھ برس لگ گئے۔ ’مجھے تب پتا چلا جب میں 19 برس کی تھی۔ میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ سیکس کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور مجھے بے حد درد ہو رہا تھا۔‘

چونکہ یہ مرض اب تک طبی برادری میں بھی زیرِ بحث ہے اس لیے وہ بتاتی ہیں کہ کئی خواتین پوری زندگی کسی بھی طرح کی رہنمائی کے بغیر یا پھر غلط علاج کے ساتھ گزار دیتی ہیں۔

کلاڈیا کے مطابق ایسی خواتین کا خیال رکھنے اور اُنھیں نفسیاتی مدد فراہم کرنے میں بھی کئی دشواریاں موجود ہیں۔

BBC

تاہم وہ کہتی ہیں کہ سرجری اور ڈائلیشن اکثر کامیاب ہو جاتی ہیں۔

ان کا یہ مرکز ڈاکٹروں، فزیوتھیراپسٹس اور سائیکولوجسٹس کے ساتھ مفت رابطہ کاری کی سہولت فراہم کرتا ہے جبکہ مدد کے طلبگار لوگوں کے لیے بھی نیٹ ورک موجود ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم طبی آگاہی کے ساتھ ساتھ ڈائیلیٹرز بھی فراہم کرتے ہیں۔‘

مورائز کو آن لائن مدد فراہم کی گئی اور ڈائیلیشن میں بھی مدد دی گئی۔ اس کی وجہ سے اُن کی حالت میں کافی بہتری آئی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اُنھوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور اس سے مجھے بہت مدد ملی ہے کیونکہ یہ سنڈروم میری ذہنی صحت متاثر کر رہا تھا۔ اب میں زیادہ خوش ہوں۔‘

نیسیمینٹو کہتی ہیں کہ اُنھیں ایسی خواتین سے مل کر مستقبل کے حوالے سے امید ملی جو اس مرض کی شکار ہونے کے باوجود شادی شدہ زندگی گزار رہی تھیں۔

مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More