پنڈی کی پچ: ’اس سے بہتر ہے ٹیموں کو نیشنل ہائے وے پر ٹیسٹ میچ کِھلا دیا کریں‘

بی بی سی اردو  |  Dec 02, 2022

انگلینڈ کی ٹیم کی جانب سے جب بھی ایشیائی ممالک کا دورہ کیا جاتا ہے تو عموماً انھیں یہاں کی پچز سے یہی شکوہ ہوتا ہے کہ یہ ’ہوم ایڈوانٹیج‘ کا غیر ضروری استعمال کرتے ہوئے سپن بولنگ کے لیے موافق بنائی جاتی ہیں۔

تاہم اس مرتبہ 17 سال بعد پاکستان کا دورہ کرنے والی انگلش ٹیم کا راولپنڈی میں استقبال ایک ایسی پچ سے کیا گیا جسے پاکستانی مداحوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے اور اسے ’پچ کے نام پر سڑک‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس کی وجہ پہلے ٹیسٹ میچ کے پہلے روز انگلش بلے بازوں کی جانب سے ریکارڈ 500 رنز سے زیادہ کا سکور بنانا ہے۔

اس میں کیوی کپتان برینڈن مکلم کے بطور انگلش کوچ بننے کے بعد سے انگلینڈ کے بلے بازوں کا جارحانہ انداز تو ہے ہی لیکن ساتھ ہی اس میں پچ کے مردہ پن کا بھی عمل دخل ہے جس کے باعث پاکستانی بولرز کو بالکل بھی مدد نہیں مل سکی۔

اس میچ میں پاکستان کی جانب سے فاسٹ بولر محمد علی اور حارث رؤف کو ٹیسٹ کیپ دی گئی تھی تاہم اوپنرز نے ہی 233 رنز کی شراکت بنا کر پاکستان کو آغاز میں ہی مشکلات سے دوچار کر دیا۔

انگلینڈ کی جانب سے چار بلے بازوں نے سنچریاں سکور کیں جن میں زیک کرالی، بین ڈکٹ، اولی پوپ اور ہیری بروک شامل ہیں۔

عام طور ٹیسٹ میچوں میں پہلے روز پچ فاسٹ بولرز کے لیے سازگار ہوتی ہے اور پھر وقت کے ساتھ یہ سپنرز کے لیے بہتر ہونا شروع ہوتی ہے۔ تاہم راولپنڈی کی پچ پر فاسٹ بولرز کی گیند نہ ہی سیم ہوتی دکھائی دی اور فاسٹ بولرز کو صرف پرانی گیند سے کچھ وقت کے لیے ریورس سوئنگ کی سہولت میسر آئی۔

اس کے علاوہ سپنر زاہد محمود بھی اس پچ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں کم از کم پہلے روز تو ناکام رہے جس کے بعد ٹوئٹر پر پاکستان مداحوں نے اس پچ کے حوالے تنقید شروع کر دی ہے۔

Getty Images

اکثر صارفین اس کا ذمہ دار پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ کو قرار دے رہے ہیں جنھوں نے گذشتہ سال عہدہ سنبھالنے کے بعد سے پاکستان میں پچز کے حوالے سے متنازع بیانات دیے ہیں۔

سابق پاکستانی کپتان رمیز راجہ نے پہلے پاکستان میں ڈراپ ان پچز کی بات کی تھی تاہم آئیڈیا کو کوئی خاص مقبولیت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بعد جب آسٹریلیا نے پاکستان کا تاریخی دورہ کیا تو پہلے راولپنڈی اور پھر کراچی میں ایسی پچز تیار کی گئیں جہاں رنز بنانا بہت آسان جبکہ بولرز کے لیے بہت زیادہ مشکلات موجود تھیں۔

رمیز راجہ نے ان دونوں پچز کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم آسٹریلیا کو ٹیسٹ میچ تحفے کے طور پر تو نہیں دے سکتے تھے‘ اور ’ہمیں ہوم ایڈوانٹج کا بھی خیال رکھنا ہے۔‘

تاہم پاکستان کو الٹا آسٹریلیا سے لاہور میں شکست ہوئی اور یوں پاکستان کو اپنے ہی سرزمین پر آسٹریلیا سے ایک صفر سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اس وقت راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کی پچ کو ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیا گیا تھا اور اس پر خاصی تنقید کی گئی تھی۔ سابق آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹر مارک ٹیلر نے کہا تھا کہ ’اس سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان کی کرکٹ کہاں کھڑی ہے۔ حالانکہ ان کے پاس بہت اچھے کرکٹرز موجود ہیں لیکن ان کی انتظامیہ کو بہادر انداز اپنانا ہو گا۔‘

انھوں نے گذشتہ بی بی سی ٹیسٹ میچ سپیشل سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ پچز کی صورتحال پر قابو نہیں پا سکے ہیں اور ان کے نزدیک ڈراپ ان پچیں ہی اس کا حل ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ہر سینٹر کی پچ دوسری سے مختلف ہو۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان اب بھی ایک بہترین پانچ دن کی وکٹ بنانے سے کئی سال پیچھے ہیں۔‘

تاہم اس حوالے سے سوشل میڈیا پر رمیز راجہ اور پی سی بی پر خاصی تنقید کی جا رہی ہے اور ان پر ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کا معیار خراب کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

Getty Images

https://twitter.com/Abdullah719_/status/1598191345143009280?s=20&t=SKfehc-w6I16qsi3VTeCMA

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ کچھ ہفتے قبل قائداعظم ٹرافی کے میچوں میں اسی پچ پر اوسط سکور 250 کے لگ بھگ تھا۔

انھوں نے اس کے ساتھ پنڈی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے ڈومیسٹک میچ کی تصویر بھی لگائی جس سے صاف ظاہر تھا کہ اس پچ پر خاصی گھاس موجود تھی لیکن پاکستان اور انگلینڈ کے ٹیسٹ کے لیے اس پر سے گھاس کو مکمل طور پر صاف کر دیا گیا تھا۔

رمیز راجہ کے بیان پر ایک صارف نے لکھا کہ ’پنڈی پچ جنوبی افریقہ کے میچ میں تو بتہرین تھی، (وہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان 2021 کے آغاز میں ہونے والی ٹیسٹ سیریز کا حوالہ دے رہے تھے)۔‘

https://twitter.com/lmaomirzay/status/1598203980794167297?s=20&t=a--xdJVtDgzWzU18tLOtpQ

اکثر صارفین کی جانب سے اسے ایک سٹرک کہا جا رہا ہے اور کچھ صارفین نے تو اس پر فوٹوشاپ کر کے سائن بورڈ لگا دیے ہیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’آپ نے انگلینڈ کے بیز بال طرز کھیل کے لیے بہترین صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اس بارے میں ہمیں کچھ نہ بتائیں کہ یہ ٹیسٹ کرکٹ کو کیسے تبدیل کر سکتا ہے۔‘

صحافی جیمی آلٹر نے لکھا کہ ’حیرانگی کی بات ہے کہ اربوں ڈالر اکانومی والی انڈین ٹیم کو ہرانے والی پاکستان ٹیم ایک اچھی ٹیسٹ میچ وکٹ نہیں بنا سکی۔‘

صارف حیدر عباسی نے لکھا کہ ’کمنٹری پر رمیز راجہ کہا کرتے تھے کہ پاکستان ٹیم بہت سست کھیلتی ہے، اب انھوں نے ایسی پچز بنانا شروع کر دی ہیں کہ مخالف ٹیمیں ایک دن میں 500 رنز بنا دیتی ہیں۔ انھوں نے پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ تباہ کر دی ہے۔‘

https://twitter.com/gurkiratsgill/status/1598192515328663553?s=20&t=QZ7bgG9PkmgDV9T8Oeo8rg

ایک صارف گرکیرات سنگھ نے لکھا کہ ’اس سے بہتر ہے ٹیموں کو نیشنل ہائے وے پر ٹیسٹ میچ کھلا دیا کریں کیونکہ کرکٹ کی کوالٹی پر زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More