حکومت ہمارے ساتھ بیٹھے ورنہ ہم اسمبلیاں تحلیل کریں گے: عمران خان

اردو نیوز  |  Dec 02, 2022

سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ’حکومت یا تو ان کے ساتھ عام انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے مذاکرات کرے یا پھر وہ اسمبلیاں توڑ دیں گے۔‘

جمعے کو پنجاب کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’یا تو ہمارے ساتھ بیٹھیں، بات کریں، ہمیں عام انتخابات کی تاریخ دیں، نہیں تو پھر ہم اپنی اسمبلیاں تحلیل کردیں گے، ہم آپ کو یہ موقع دے سکتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بیٹھیں۔‘

عمران خان نے مزید کہا کہ ’کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ صرف 66 فیصد پاکستان میں انتخابات ہوں اور آپ وفاق میں بیٹھے رہیں، ہم نے بڑی کوشش کی ہے یہ انتخابات کا نام ہی نہیں لیتے، صرف ایک وجہ ہے کہ ان کو ڈر لگا ہوا ہے کہ جیسے ہی الیکشنز ہوں گے، یہ پِٹ جائیں گے، اور اس کے لیے ان کو ملک کی کوئی فکر نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ کسی طرح مجھے ڈس کوالیفائی کروانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نیب کا قانون بدل کر اپنے کیسز ختم کروانے ہیں۔ یہی ان کا روڈ میپ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ق لیگ ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔ پرویز الہی نے کہا ہے کہ جب میں چاہوں اسمبلیاں تحلیل کر دوں۔‘

تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ ’اس حکومت نے آتے ہی جو فیصلے کیے اس سے افراتفری پھیل گئی۔ روپیہ گرنا شروع ہو گیا۔ یہ قرضے کیسے واپس کریں گے۔ یہ ملک کو ڈیفالٹ کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔ ملک پیچھے چلا جائے گا۔ نیشنل سکیورٹی خطرے میں چلی جائے گی۔ ساری دنیا کہہ رہی ہے ہم ڈیفالٹ کر رہے ہیں۔‘

’جو انہوں نے کیا ہے وہ کوئی دشمن بھی نہیں کر سکتا۔ انٹرنیشنل مارکیٹ کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔ ہمارے وقت میں ڈیفالٹ کا خطرہ پانچ فیصد تھا اب سو فیصد سے زیادہ ہے۔‘

عمران نے کہا کہ ’ان کے پاس ملک کو خطرے سے نکالنے کا کوئی روڈ میپ نہیں ہے ۔ نہ لوگ باہر سے سرمایہ کاری کریں گے اور نہ ہی قرضے ملیں گے۔ لوگ اندر سے بھی سرمایہ کاری نہیں کریں گے۔‘

’ہمارے دور میں تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل تھی اور پیٹرول کی قیمت 150 فی لیٹر تھی۔ چیزوں کی قیمتیں اوپر چلی گئی ہیں اور مہنگائی بڑھ گئی بے روز گاری بڑھ گئی ہے۔ ملک بیٹھتا جا رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم الیکشن کی طرف نہیں جاتے تو استحکام نہیں آئے گا۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد نہیں ہو گا۔ معیشت بہتر نہیں ہو سکے گی۔ اس لیے الیکشن کروانا ضروری ہے۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More