فیکٹ فائنڈنگ کی رپورٹ: ’ارشد شریف کے میزبانوں کے بیانات میں تضاد، مزید تحقیقات کی ضرورت ہے‘

بی بی سی اردو  |  Dec 07, 2022

Getty Images

صحافی ارشد شریف قتل کیس میں فیکٹ فائنڈنگ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صحافی ارشد شریف کو  غلطی سے نہیں بلکہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا اور اس ضمن میں کینیا میں مقتول کے میزبان خرم اور وقار کا کردار اہم  ہے اور ان سے اس ضمن میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

وفاقی تحققیاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے سربراہ کے دستخطوں سے جاری ہونے والی اس رپورٹ کو بدھ کے روز سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا ہے۔

اس فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں  ارشد شریف کے قتل یعنی  23 اکتوبر سے لے کر کینیا میں ہونے والے تمام واقعات، ارشد شریف کے سفری ریکارڈ،موبائل فون، ڈیوائسز، واٹس ایپ اور ای میل کی جائزہ رپورٹ بھی  اس میں شامل کی گئی ہیں۔

پانچ سو بانونے صفحات پر مشتمل فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ارشد شریف کو ایک منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا۔

اس فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے ٹیم کینیا پہنچی تو اس کمیٹی کے ارکان نے 29 اکتوبر کو وقار احمد اور ان کی اہلیہ سے انٹرویو کیے جبکہ 30 اکتوبر کو وقار احمد کے ساتھ کرائم سین کا دوبارہ خاکہ تیار کیا گیا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرائم سین کا خاکہ تیار کرنے کے بعد ان دونوں میاں بیوی سے دوبارہ بات چیت کی گئی اور اس کے علاوہ وقار احمد کے فارم ہاؤس میں کام کرنے والے دو غیر ملکیوں روی اور للو سے بھی اس واقعہ سے متعلق گفتگو کی۔ اس کے علاوہ ان چار میں سے تین پولیس اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کی گئی جن پر الزام ہے کہ انھوں نے غلطی سے ارشد شریف کی گاڑی پر فائرنگ کی تھی۔

کینیا کی پولیس کا عدم تعاون اور بیانات میں تضاد

اس رپورٹ میں کینیا پولیس حکام کی طرف سے کمیٹی کے ساتھ عدم تعاون کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ کینیا پولیس کے حکام نے ان چار پولیس اہلکاروں کے ساتھ شیڈول ملاقات کو منسوخ کردیا تھا جبکہ تین پولیس اہلکاروں کے ساتھ ملاقات کروائی گئی جبکہ چوتھے پولیس اہللکار کے بارے میں کہا گیا کہ وہ زخمی ہے۔ کینیا پولیس حکام کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ ارشد شریف کا قتل غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔

اس رپورٹ میں جائے حادثہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہ علاقہ تنزانیہ اور کینیا بارڈر کے ساتھ ہے اور یہ علاقہ کاروں کی سمگلنگ کے لیے مشہور ہے۔ اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ تکنیکی اعتبار سے کینیا کے حکام کی  اس بات میں کوئی وزن نہیں ہے کہ اس شاہراہ کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا جائے۔

واضح رہے کہ کینیا پولیس کی طرف سے یہ ارشد شریف کے قتل سے متعلق کہا گیا تھا کہ انھیں گاڑی چھینی جانے کے واقعے کی اطلاع بھی ملی تھی جس پر انھوں نے سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں اور ارشد شریف کی گاڑی کو روکنے کا اشارہ کیا لیکن ڈرائیور نے گاڑی نہیں روکی جس پر پولیس اہلکاروں نے گاڑی پر فائرنگ کردی۔

اس بیان کے بعد پولیس حکام کی طرف سے یہ بیان بھی سامنے آیا تھا کہ پولیس اہلکاروں پر اس گاڑی سے فائرنگ کی گئی جس میں ارشد شریف سوار تھے تاہم پولیس اہلکاروں نے اپنے دفاع میں گولی چلائی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کینیا پولیس حکام کے بیانات تضادات سے بھرے پڑے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جس گاڑی میں ارشد شریف سوار تھے پر فائرنگ دو ہتھیاروں سے کی گئی جس میں سے ایک سیون ایم ایم اور دوسری ایک اور گن سے فائرنگ کی گئی اور ان ہتھیاروں سے مجموعی طور پر نو گولیاں چلائی گئیں۔

رپورٹ میں فائر کی جانیوالی گولیوں کی ٹریجکٹری کو بھی بیان کیا گیا ہے اور ارشد شریف کے سینے میں لگنے والی گولی ٹریجکٹری فائرنگ پیٹرن سے نہیں ملتی۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ ارشد شریف کو ایک گولی کمر کے اوپری حصے میں لگی اور گولی گردن سے تقریباً چھ سے آٹھ انچ نیچے  لگی جو سینے کی جانب سے باہر نکلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس زخم سے یہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ گولی قریب سے چلائی گئی۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کو کمر پر بھی گولی ماری گئی تاہم جس سیٹ پر مقتول بیٹھے ہوئے تھے اس کی  سیٹ پرگولی کا کوئی نشان نہیں، جو کہ اس واقعے کو مشتبہ بناتی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے اس تاثر کو بھی تقویت ملتی ہے کہ قتل سے پہلے ارشد شریف کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کے زیر استعمال جو فون تھا وہ برآمد ہوا تو اس کو پاسورڈ لگا ہوا تھا اس رپورٹ میں کہا گیا کہ اس پاسورڈ کو کریک کرنے کی کوشش کی گئی تو فارنزک ماہرین کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے اس فون میں موجود ڈیٹا ختم ہو جائے گا جو کہ تحقیقات میں کارآمد ہوسکتا ہے۔

اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ انھوں نے موبائیل فون بنانے والی متعقلہ کمپنی کو اس کا پاسورڈ دینے کی درخواست کی تھی تاہم کمپنی کے حکام نے کلائنٹ پالیسی کی وجہ سے ارشد شریف کے  مبینہ طور پر زیر استعمال موبائیل فون کا پاسورڈ دینے سے انکار کردیا تھا۔ وقار احمد کے مطابق حادثے کے بعد پولیس نے ارشد  شریف کا آئی فون، آئی پیڈ، والٹ، دو عدد یو ایس بیز حوالے کیں۔

وقار احمد اور خرم احمد کا کردار

 اس رپورٹ میں وقار احمد اور ان کے بھائی خرم احمد کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ ان سے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے ارکان نے جو انٹرویو کیے تو ان کے بیانات ایک دوسرے سے نہیں مل رہے تھے۔ اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جس روز ارشد شریف کو قتل کیا گیا تو اس وقت ان کی گاڑی خرم احمد چلا رہے تھے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دوبئی میں قیام کے بعد ارشد شریف 20 اگست کو کینیا پہنچے جہاں پر وقار احمد کے ایک رشتہ دار جس کا نام جمیل بتایا جاتا ہے، اس نے ارشد شریف کا استقبال کیا اور ارشد شریف وقار احمد کے اپارٹمنٹ میں دو ماہ اور تین دن تک قیام پذیر رہے۔

وقار احمد نے کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ کینیا میں ویزے کے لیے انھوں نے ارشد شریف کو سپانسر لیٹر دیا تھا، تاہم انھوں نے اس لیٹر کی کاپی کمیٹی کے ارکان کو فراہم نہیں کی۔

فیکٹ فائنڈٖنگ رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کے کینیا میں میزبان خرم اور وقار کا کردار اہم اور مزید تحقیق طلب ہے۔ وقار احمد اور خرم احمد  کمیٹی کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ جبکہ  کچھ ایسی معلومات بھی ملی ہیں کہ وقار کا تعلق کینیا کی انٹیلی جنس سمیت کئی بین الاقوامی ایجنیسوں سے ہے تاہم اس کی تصدیق ہونے کے بارے میں رپورٹ میں کچھ نہیں کہا گیا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وقار احمد کو جب فیکٹ فائنڈنگ  کمیٹی نے طلب کیا اور ان سے اس قتل سے متعلق متعدد سوالات کیے تو وقار احمد کمیٹی کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جس روز ارشد شریف کو قتل کیا گیا اس وقت گاڑی چلانے والے خرم کے بیانات تضاد سے بھرپور ہیں اور کمیٹی کے ارکان نے جب خرم سے ارشد شریف سے ملاقات اور وہ ان کی سفری تفصیل کے بارے میں پوچھا گیا تو خرم اس سے متعلق کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔

وقوعے سے متعلق بتایا گیا ہے کہ خرم جو کہ ارشد شریف کو لے کر گاڑی میں جارہے تھے کہ راستے میں انھیں سڑک پر پتھر نظر آئےجس پر خرم نے ارشد  کو بتایا کہ ’یہ ڈاکو ہوں گے‘۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خرم نے بتایا کہ جیسے سے سڑک پر پڑے پتھروں کو پار کیا تو انھیں گولیوں کی آواز سنائی دی اور خرم گولیوں کی آواز سن کر بھاگ گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خرم نے محسوس کیا ارشد شریف کو گولی لگی ہےجس کے بعد خرم نے اپنے بھائی وقار کو فون کیا اور فارم ہاؤس پر پہنچنے کا کہا اور فارم ہاؤس وقوعہ سے  18کلو میٹر دور تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فارم ہاؤس پہنچ کر خرم نے گاڑی کو گیٹ پر ہی چھوڑ دیااور اندر بھاگ گیا اور خرم کا کہنا ہے ارشد کی ہلاکت فارم ہاؤس کے گیٹ پر ہوئی، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وقوعہ کی جگہ سے فارم ہاؤس تک خرم کے علم میں نہیں تھا کہ ارشد زندہ ہے یا نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک عجیب بات ہے ارشد کے سر میں گولی لگی تھی اور جس زاویے پر خرم بیٹھا تھا اسے نظر آنا چاہیے تھا کہ ارشد بری طرح زخمی ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ دونوں افراد مطلوبہ معلومات دینے سے ہچکچا رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وقار احمد نے پہلے فارم ہاؤس کی  سی سی ٹی وی فوٹیج دینے پہلے آمادگی ظاہر کی لیکن پھر  انھوں نے فوٹیج دینے سے معذرت کرلی۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ ان دونوں افراد کے علاوہ ایک درجن کے قریب اہم کردار ارشد شریف سے مستقل رابطے میں تھے اور وہ کردار پاکستان، دبئی، کینیا میں مقتول کے ساتھ رابطے میں تھے

واضح رہے کہ اسلام آباد میں ارشد شریف کے قتل کا جو مقدمہ درج کیا گیا ہے اس میں وقار احمد اور خرم احمد نامزد ملزمان میں شامل ہیں۔

Getty Imagesارشد شریف کی جان کو خطرہ تھا

اس فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خاندان اور دوستوں کے مطابق ارشد شریف کو قتل کی دھکمیاں دی گئیں تاہم مقتول ارشد شریف کو کس نے دھکمیاں دیں اس کا  کوئی ثبوت نہیں مل سکا جبکہ ان کے خلاف پاکستان میں 16 مقدمات درج کیے گئے اور صرف 3 مدعیان ہی پیش ہوسکے۔ انھوں نے کہا ایک ایک دن میں ارشد شریف کے خلاف  تین تین ایف آئی آر درج کی گئیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے ارکان کو  ارشد شریف کے خلاف درج ہونے والے مقدمات میں سے صرف 9 مقدمات کی کاپیاں فراہم کی گئیں اور کمیٹی نے اسلام آباد، بلوچستان، سندھ کے آئی جی کو بھی خطوط لکھے۔

اس رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ  ایف آئی ار کے اندراج میں قانونی طریقوں کو پورا نہیں کیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں حفاظتی ضمانت کروانے کے لیے جب ارشد شریف آئے تھے تو انھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ انھیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ ان کے خلاف بلوچستان میں بھی مقدمات درج کروائے جائیں گے جب وہ اس مقدمات کی پیروی کے لیے وہاں پر جائیں گے تو اپ کو لگ پتا جائے گا۔

اس رپورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما فیصل واوڈا کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنھوں نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو نہ شواہد دیے اور نہ ہی بیان جمع کرایا ہے۔ فیصل ووڈا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی کو ان افراد کے نام بتانے کو تیار ہیں جو ارشد شریف کے قتل میں ملوث ہیں۔

فیکٹ فائنڈنگ کا زیادہ تر حصہ لوگوں سے کیےگئے انٹرویو پر مشتمل ہے ارشد شریف قتل کیس میں زیر استعمال گاڑی، نقشہ جات، کرائم سین کی جائزہ رپورٹ قتل کیس میں استعمال اسلحہ، بیلسٹک رپورٹ، ارشد شریف کے موبائیل فون، ڈیوائسز، واٹس ایپ اور ای میل کی جائزہ بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔

ارشد شریف کی ڈائری سے ملی ہاتھ سے لکھی چِٹ

فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کی نظروں سے ارشد شریف کی پرسنل ڈائری بھی گزری ہے۔ ’اس میں ایک ہاتھ سے لکھی چِٹ تھی جو بظاہر ان کی اپنی ہینڈ رائٹنگ میں نہیں۔

فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں درج ہے کہ ’ارشد شریف فوج سے پرانی قربت بحال کرنے کی کوشش کر رہے تھے‘ اور اپنے نئے اسٹیبلشمنٹ مخالف موقف کے باوجود ’خود سے یا کسی اور کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے۔ یہ غیر واضح ہے آیا ان کے اندرونی اختلافات حل ہوئے تھے یا نہیں۔‘

بیرسٹر شعیب نے دعویٰ کیا کہ ارشد شریف نے وطن واپسی کی غرض سے عدالت میں درخواست دائر کرنے کی ہدایت دی تھی۔ مہرین وقار (وقار احمد کی بیوی) نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے چند دنوں میں واپس جانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔‘

تحقیقاتی ٹیم نے یہ بھی کہا ہے کہ پینٹ ہاؤس سے برآمد کی گئی یو ایس بی میں سب سے اہم ڈیٹا ان کمپنیوں کے بارے میں ہے جن کے مالک زلفی بخاری ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More