موت کا سوداگر کہلائے جانے والے بدنام زمانہ اسلحہ سمگلر وکٹر بوٹ کون ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Dec 09, 2022

Getty Images

دنیا کے بدنام زمانہ اسلحہ کے تاجر وکٹر بوٹ کو روس اور امریکہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں روس میں سزا پانے والی امریکی باسکٹ بال سٹار برٹنی گرینر کے بدلے امریکی جیل سے رہائی ملی ہے۔

برٹنی گرینر، جن کو امریکہ کی بہترین خاتون باسکٹ بال کھلاڑی مانا جاتا ہے، کو فروری میں اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب وہ روس میں کھیل کر واپس امریکہ آ رہی تھی اور ماسکو ایئر پورٹ پر ان کے سامان سے منشیات برآمد ہوئی تھیں۔

گذشتہ کئی ماہ سے امریکی میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ وزرات خارجہ کے اعلیٰ  حکام برٹنی کے رہائی کے بدلے وکٹر بوٹ کو رہا کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

سابق سوویت فضائیہ کے افسر کے کارنامے اتنے مشہور اور بدنام زمانہ ہیں کہ ہالی وڈ نے ان کی کہانی سے متاثر ہو کر ایک فلم بنا ڈالی جس کا نام ’لارڈ آف وار‘ ہے۔ یہیں سے ان کے لیے ’موت کے سوداگر‘ کا نام بھی لیا جانے لگا۔

 لیکن موت کا سوداگر کہلائے جانے والا یہ شخص ہے کون؟

بوٹ کو سنہ 2008 میں امریکہ کی انسداد منشیات کی خفیہ ایجنسی ڈی ای اے کے ایک آپریشن کے بعد سنہ 2010 میں تھائی لینڈ سے امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا۔  

سنہ 2008 میں امریکی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے ایک چال چلی۔ انھوں نے کولمبیا کے فارک نامی باغی گروہ کے اراکین کا روپ دھارا جسے امریکہ دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا تھا اور اسلحہ کے خریدار بن کر پہلے وکٹر کے ایک سابق ساتھی تک اور پھر خود وکٹر تک پہنچ گئے تھے۔

وکٹر نے دعوی کیا تھا کہ وہ ایک عام سا کاروباری شخص ہے جو قانونی طور پر بین الاقوامی سطح پر سامان کی منتقلی کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان پر جنوبی امریکہ کے باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا جھوٹا الزام لگایا گیا جس کے پیچھے امریکہ کے سیاسی عزائم تھے۔

لیکن نیو یارک میں موجود جیوری نے ان کی کہانی کا یقین نہیں کیا۔ سنہ 2012 میں ان کے خلاف امریکی حکام کو قتل کرنے کی سازش کرنے اور ایک دہشت گرد تنظیم کو طیارہ شکن میزائل اور اسلحہ فراہم کرنے کا الزام ثابت ہونے پر عدالت نے انھیں 25 سال قید کی سزا سنائی۔

تین ہفتوں تک ان کے مقدمے کی جاری رہنے والی سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ ’وکٹر کو بتایا گیا تھا کہ وہ جو اسلحہ فراہم کرے گا، اس سے ان امریکی پائلٹس کو مارا جائے گا جو کولمبیا کے حکام کے ساتھ کام کرتے ہیں۔‘ استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ سن کر وکٹر نے جواب دیا تھا کہ ’ہمارا دشمن ایک ہی ہے۔‘

Getty Images

وکٹر بوٹ ایک روسی شہری ہیں جو تاجکستان میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے سوویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد 1990 کی دہائی کے اوائل میں فضائی ٹرانسپورٹ میں کیریئر کا آغاز کیا۔

سنہ 2007 میں سکیورٹی ماہر ڈگلس فاراح اور سٹیفن بران نے اپنی کتاب ’موت کے سوداگر‘ میں لکھا کہ بوٹ نے سوویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد ایئر فیلڈز پر کھڑے فوجی طیاروں کی مدد سے اپنا کاروبار شروع کیا تھا۔

اس دور میں سویت فضائی کمپنیوں انٹوو اور الیوشنز کے کارگو جہاز اپنے عملے کے ساتھ برائے فروخت تھے اور وہ دنیا بھر میں سامان کی ترسیل کرنے کے لیے بہت موزوں تھے۔

وکٹر بوٹ، جو سزا سنائے جانے کے وقت 45 برس کے تھے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افریقہ کے جنگ زدہ علاقوں میں ہتھیاروں کی ترسیل فرنٹ کمپنیوں کے ذریعے کرتے تھے۔

اقوام متحدہ نے وکٹر بوٹ کو لائبیریا کے سابق صدر چارلس ٹیلر کے ساتھی کے طور پر نامزد کیا تھا، جسے 2012 میں سیرا لیون کی خانہ جنگی کے دوران جنگی جرائم کی مدد کرنے اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کے دستاویزات میں کہا گیا ہے’(بوٹ) ایک تاجر، ڈیلر اور ہتھیاروں اور معدنیات کا ٹرانسپورٹر ہے (جس نے) سابق صدر ٹیلر کی حکومت کو سیرا لیون کو غیر مستحکم کرنے اور ہیروں تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنے کی کوششوں میں مدد فراہم کی۔‘

مشرق وسطیٰ میں ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ طالبان اور القاعدہ کو اسلحہ فراہم کرتے تھے۔‘

ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انھوں نے انگولا کی خانہ جنگی میں دونوں فریقین، اور وہاں کے وار لارڈز کو اسلحہ فراہم کیا اور وسطی افریقی ریپبلک سمیت کانگو، سوڈان اور لیبیا کی حکومتوں کو بھی اپنی خدمات فراہم کیں۔

سنہ 2009 میں برطانیہ کے چینل فور کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے طالبان یا القاعدہ سے کبھی بھی کسی تعلق کا واضح الفاظ میں انکار کیا تھا۔

تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ 1990 میں انھوں نے افغانستان میں اسلحہ پہنچایا تھا جو طالبان کے خلاف لڑنے والے کمانڈروں نے استعمال کیا تھا۔

انھوں نے روانڈا میں قتل عام کے بعد فرانسیسی حکومت کو بھی سامان پہنچانے میں مدد کرنے اور اقوام متحدہ کے امن قائم کرنے والے فوجی دستوں کو لے جانے میں بھی خدمات سرانجام دینے کا دعویٰ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’موت کا سوداگر‘: روسی شہری جسے ایک کھلاڑی کے بدلے امریکی جیل سے رہائی ملی

پابلو ایسکوبار: دنیا کے خطرناک ترین شخص کو مارنے کی کوشش کرنے والے کرائے کے قاتل کی کہانی

ویرپپن: انڈیا کے صندل سمگلر جنھوں نے اپنے ٹھکانے کو خفیہ رکھنے کے لیے اپنی نوزائیدہ بیٹی کو قتل کیا

خدا بخش لنڈ: کچے کے ڈاکوؤں کا ’ڈان‘ جس کی ہلاکت کے بعد پولیس نے علاقے میں گشت کرنا چھوڑ دیا

Getty Images

مگر 2000 کی دہائی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل ان کا پیچھا کرتے رہے  اور سنہ 2002 میں ان کو اس وقت بیلجیئم میں اپنا گھر چھوڑنا پڑا جب حکام نے ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے بعد وہ جعلی نام پر سفر کرتے رہے اور اس دوران متحدہ عرب امارات اور جنوبی افریقہ میں بھی دیکھے گئے۔ 2003 میں ان کو روس میں دیکھا گیا تھا۔

اسی برس برطانیہ کے وزیر خارجہ پیٹر ہین نے انھیں موت کے سوداگر کا لقب دیا تھا۔

سنہ 2003 میں وکٹر بوٹ کی رپورٹ پڑھنے کے بعد پیٹر ہیئن نے کہا تھا کہ ’وہ موت کا سوداگر ہے جو مشرقی یورپ میں بلغاریہ، مالڈووا اور یوکرین سے لائبیریا اور انگولا تک اسلحہ فراہم کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ ’اقوام متحدہ نے بوٹ کو اسلحہ سمگلرز، ہیروں کے بیوپاریوں کی خفیہ دنیا کا مرکزی کردار ثابت کیا ہے جو جنگوں کو ختم نہیں ہونے دیتے۔‘

اسی دوران امریکہ بھی وکٹر کے خلاف کارروایاں کر رہا تھا۔ 2006 میں وکٹر کے اثاثے منجمند کر دیے گئے لیکن اس وقت تک ایسا کوئی قانون نہیں تھا جس کے تحت ان پر امریکہ میں مقدمہ چلایا جا سکتا۔

 سنہ 2008 میں امریکی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے ایک چال چلی۔ انھوں نے کولمبیا کے ایک ایسے باغی گروہ کے اراکین کا روپ دھارا جسے امریکہ دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا تھا اور اسلحہ کے خریدار بن کر پہلے وکٹر کے ایک سابق ساتھی تک اور پھر خود وکٹر تک پہنچ گئے۔

انھوں نے تھائی لینڈ میں ہونے والی ملاقات میں وکٹر سے فارک باغی تنظیم کے لیے اسلحہ کی فراہمی پر بات چیت کی جس کے بعد اچانک تھائی لینڈ انتظامیہ نے وکٹر کو گرفتار کر لیا اور وکٹر کو امریکہ منتقل کرنے کے حوالے سے طویل قانونی کارروائی کا آغاز ہو گیا۔

وکٹر کا کہنا تھا کہ  امریکہ نے اس کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمہ قائم کیا ہے اور ان کی اہلیہ نے کہا تھا کہ اس کا کولمبیا سے تعلق صرف ’وہاں سے ٹینگو رقص‘ سیکھنے کے حوالے سے ہے۔

روسی حکام نے اس کے مقدمے کی سماعت کے دوران مسلسل اس کی حمایت اور مدد کی اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے ان کی روس واپسی کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے تھائی لینڈ کی عدالت کے فیصلے کو ’غیر منصفانہ اور سیاسی‘ قرار دیا تھا۔

سنہ 2005 میں ان کی زندگی سے متاثر ہو کر بنائی جانے والی ہالی وڈ فلم لارڈ آف وار کے اختتام پر بھی انھیں قانون کے ہاتھوں بچ نکلتے دکھایا گیا تھا۔

شاید اس وقت ایسا لگتا تھا کہ بوٹ کا یہ خواب شاید ہی کبھی پورا ہو سکے لیکن 12 برس بعد آج وہ سلاخوں کے پیچھے سے رہا ہو کر اپنے گھر واپس جا چکے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More