فضا میں دو گھنٹے گزارنے کے بعد جب اچانک احساس ہوا کہ ایک پائلٹ چین میں قانونی طور پر داخل ہونے کے لیے ضروری سفری دستاویزات ساتھ نہیں لایا، تو پرواز کو واپس موڑنا پڑا۔ اس غیرمتوقع صورتحال نے نہ صرف مسافروں کو ششدر کر دیا بلکہ تاخیر کے باعث غصے کی لہر بھی دوڑا دی۔
22 مارچ کی سہ پہر جب فلائٹ یو اے 198 نے لاس اینجلس سے اڑان بھری تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ سفر سان فرانسسکو میں رک جائے گا۔ مقررہ راستے سے ہٹ کر لینڈنگ کرنے والی اس فلائٹ کے مسافروں کو امید تھی کہ شاید کوئی فوری حل نکالا جائے گا، لیکن معاملہ اتنا سادہ نہ تھا۔ قوانین کی سختی کے باعث بغیر پاسپورٹ پائلٹ کا آگے بڑھنا ممکن نہ تھا، جس کے نتیجے میں 257 مسافر شدید کوفت کا شکار ہوگئے۔
ایئرلائن نے مسافروں کے نقصان کے ازالے کے لیے 15 ڈالر کے واؤچرز دیے، مگر یہ آفر زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ثابت ہوئی۔ ایک مسافر نے طنزیہ انداز میں کہا، "ایئرپورٹ پر 15 ڈالر میں تو صرف پانی کی بوتل ہی آتی ہے!"
نئے عملے کے انتظام میں کئی گھنٹے لگے، جس کے بعد پرواز بالآخر دوبارہ روانہ ہوئی اور دو دن بعد، 24 مارچ کو دوپہر 12 بجکر 48 منٹ پر شنگھائی میں لینڈ کر گئی۔
یونائیٹڈ ایئرلائن نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بیان جاری کیا کہ پائلٹ کی سفری دستاویزات مکمل نہ ہونے کے باعث پرواز کو عارضی طور پر روکنا پڑا، تاہم مسافروں کی پریشانی کم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے گئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک بین الاقوامی فلائٹ کے تجربہ کار عملے سے ایسی بنیادی غلطی کی توقع کی جا سکتی ہے؟ یہ واقعہ مسافروں کے لیے محض تاخیر نہیں بلکہ ایک یادگار کہانی بن گیا، جسے شاید وہ کبھی بھلا نہ سکیں!