سُشانت سنگھ کی موت کی حتمی رپورٹ اور میڈیا ٹرائل پر بحث: ’کیا کوئی ریا چکرورتی سے معافی مانگے گا‘

بی بی سی اردو  |  Mar 26, 2025

آج سے تقریباً ساڑھے چار سال پہلے دو خبریں میڈیا پر حاوی تھیں۔ ایک کورونا اور دوسری بالی وڈ اداکار سُشانت سنگھ راجپوت کی موت۔

ان کی موت کے بعد ایسا لگا کہ جیسے وقت کی سوئی ان کی گرل فرینڈریا چکرورتی پر ہی تھم گئی ہو۔ ان ٹی موت کی خبر کے بعد آئے روز نت نئی اطلاعات نے نہ صرف لوگوں کے دل و دماغ میں تجسس پیدا کیا بلکہ میڈیا بھی اس خبر پر اس طرح چپکا رہا کہ گویا اس کے پاس اس واقعے کے بارے میں تہہ در تہہ معلومات موجود ہیں۔

ہر چھوٹی سی تفصیل کو ’سکوپ‘ کی طرح پیش کیا گیا۔ اس دوران ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ معاملہ کورونا پر حاوی ہو رہا ہے۔

ان گذشتہ سالوں میں اداکارہ ریا چکرورتی کے خلاف تحقیقات کی گئیں۔ انھیں 27 دن جیل میں گزارنے پڑے۔ معاشرے نے انھیں اور ان کے خاندان کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ انھیں سوشل میڈیا پر ٹرول کیا گیا اور انھیں میڈیا ٹرائل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

لیکن سنیچر کو انڈیا کے مرکزی تحقیقاتی ادارے سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن (سی بی آئی) نے سشانت سنگھ کی موت کے معاملے میں عدالت میں دو حتمی رپورٹس جمع کروائی ہیں۔

اس رپورٹ میں اداکار سشانت سنگھ کی موت میں کسی قسم کی سازش کو خارج از امکان قرار دیا گیا ہے۔ ایک طرح سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ریا چکرورتی کو کلین چٹ دے دی گئی ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ پٹنہ کی خصوصی عدالت اور ممبئی کی خصوصی عدالت اس پر کیا فیصلہ دیتی ہے۔

’امید ہے کہ یہ کسی بھی صورت میں نہیں دہرایا جائے گا‘

سشانت سنگھ کی موت سے متعلق جمع کروائی گئی حتمی رپورٹ کے بعد ریا چکرورتی کے وکیل ستیش مانیشنڈے نے ایک بیان میں سی بی آئی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سی بی آئی نے ہر زاویے سے، کیس کے ہر پہلو کی اچھی طرح سے جانچ کی اور کیس کو بند کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ ’سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں، میڈیا اور تفتیشی افسران کے سامنے بے قصور لوگوں کو ہراساں کیا گیا۔‘

ریا کے وکیل ستیش منشیندے کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ یہ کسی بھی صورت میں نہیں دہرایا جائے گا۔ ریا کو بے شمار مصائب سے گزرنا پڑا اور 27 دنوں تک بغیر کسی قصور کے انھیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑا۔

پھر ممبئی ہائی کورٹ کے جسٹس سارنگ کوتوال نے انھیں ضمانت پر رہا نہیں کیا۔

اس معاملے میں پہلی کلوژر رپورٹ سُشانت کے والد کی جانب سے ریا چکرورتی کے خلاف درج کرائی گئی تھی جس میں یہ الزام عائد کیا گیا کہ انھیں خودکشی پر اکسایا گیا تھا۔

دوسری کلوژر رپورٹ اداکارہ ریا چکرورتی کی سُشانت کی بہنوں کے خلاف شکایت سے متعلق ہے۔

ریا چکرورتی کی طرف سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی بیان نہیں آیا ہے۔ لیکن ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ریا چکرورتی نے اپنے خاندان کے ساتھ ممبئی کے سدھی ونائک مندر کا دورہ کیا ہے۔ وہیں ان کے بھائی شاوک نے ویڈیو پوسٹ کی اور لکھا ’ستیا میں وجے ہیں۔‘ یعنی سچ میں جیت ہے۔

سی بی آئی کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹس کے بعد بالی واڈ اداکارہ دیا مرزا نے انسٹاگرام پر لکھا کہ کیا کوئی ایسا میڈیا ہے جو ریا چکرورتی اور ان کے اہل خانہ سے تحریری معافی مانگے؟

دیا مرزا نے مزید لکھا کہ ’آپ (میڈیا) نے اس (ریا چکرووتی) کے بارے میں بہت کچھ الٹا سیدھا کہا اور لکھا۔۔۔۔ آپ (میڈیا) نے اسے اپنی ٹی آر پی کے لیے بہت تکلیف دی اور اس کا استحصال کیا۔ اب تحریری معافی کم از کم وہ اقدام ہے جو تم کر سکتے ہیں۔‘

سشانت سنگھ کی آخری فلم کی ریلیز آج، تاپسی پنو کنگنا کے نشانے پربالی وڈ میں منشیات کے استعمال کی کہانیسوشانت سنگھ راجپوت: سی بی آئی سے انکوائری کروانے کی سفارشسُشانت سنگھ راجپوت کی موت کی گتھی ایک سال بعد بھی کیوں نہیں سلجھ سکی؟’میں خود سے لڑ رہا ہوں‘Getty Images

14 جون 2020 کو سُشانت سنگھ راجپوت ممبئی کے علاقے باندرہ میں اپنے گھر پر مردہ پائے گئے۔ پولیس نے اس واقعے کو خودکشی قرار دیا تھا۔

اس کے بعد کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر ان کی دوست ریا چکرورتی کے خلاف نفرت انگیز تبصرے کیے۔ اس خبر کو بھی میڈیا میں سنسنی خیز معاملے کے طور پر پیش کیا گیا۔

ریا چکرورتی نے اس واقعے کے ایک ماہ بعد اپنی خاموشی توڑی تھی اور سوشل میڈیا پر انکشاف کیا کہ وہ سوشانت کی گرل فرینڈ ہیں۔

انھوں نے انسٹاگرام پرسشانت کے نام ایک پیغام میں لکھا تھا کہ ’میں اب بھی اپنے جذبات پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہوں۔ میں اپنے آپ سے لڑ رہی ہوں۔ میرے دل میں ایک خلا ہے۔ تم ہی ہو جس نے مجھے محبت پر اور محبت کی طاقت پریقین کرنا سکھایا۔ تم نے مجھے سکھایا کہ ریاضی کا ایک چھوٹا سا فارمولا زندگی کو سمجھنے میں کس طرح مدد کرتا ہے۔ میں نے تم سے ہر روز سیکھا ہے۔ میں کبھی بھی یہ قبول نہیں کر سکوں گی کہ اب تم یہاں نہیں ہو۔۔۔مگر میں جانتی ہوں کہ اب تم پر سکون زندگی گزار رہے ہو۔‘

جب اداکار سشانت سنگھ کی موت ہوئی تھی اس وقت ریا چکرورتی بھی فلم انڈسٹری میں قدم جمانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ایک طرف دوست کو کھونے کا غم تھا تو دوسری طرف آئے روز نئے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

یہ خبریں تھیں کہ سوشانت سنگھ راجپوت ڈپریشن کا شکار ہیں اور اس کے لیے دوا لے رہے ہیں۔ ساتھ ہی منشیات لینے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔

AFP

سُشانت سنگھ راجپوت کے اہل خانہ نے ریا کے خلاف سُشانت کو خودکشی کے لیے اکسانے، چوری، اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی اور دھوکہ دہی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

لیکن دوسری جانب ریا چکرورتی پر نارکوٹکس کنٹرول بیورو یا این سی بی نے سُشانت سنگھ راجپوت کو منشیات سپلائی کرنے کا الزام لگایا تھا۔

ماہر نفسیات اور صنفی ماہر ساکشی سنگلا کہتی ہیں کہ ’کیا اس مسئلے کو نفسیاتی سطح پر سمجھا گیا؟

وہ سوال کرتی ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے ایک لڑکی کسی کی زندگی میں آتی ہے اور وہ شخص اس کی وجہ سے خودکشی کر لیتا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے؟‘

’ریا چکرورتی نے ایک دوست کھو دیا تھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس صدمے کو ہضم کر پاتی، انھیں مجرم بنا دیا گیا۔ ریا کو اس سے سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملا۔‘

ریا کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کیسے کی جا سکتی ہے؟

انڈین پنجاب کی پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ جینڈر سٹڈیز سے منسلک ڈاکٹر امیر سلطانہ کہتی ہیں کہ ہندوستانی معاشرے میں زیادہ تر واقعات میں خواتین کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ریا نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ سُشانت کے اپنے والد کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں تھے۔ ماں کے جانے کے بعد سُشانت اداس تھا، اس نے اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کو کہا، ریا صرف اس کی مدد کر رہی تھی۔ لیکن سُشانت کے اہل خانہ نے ریا پر الزام لگایا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ساری کارروائی کسی سیاسی یا دوسرے اثر و رسوخ کے تحت کی گئی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ رپورٹ آج آئی ہے لیکن اتنے سالوں میں سوشل میڈیا اور میڈیا نے ریا کو بدنام کیا ہے، اس کا ازالہ کون کرے گا؟کیا وہ دن واپس لائے جا سکتے ہیں؟ وہ انڈسٹری میں خود کو جمانے کرنے کی کوشش بھی کر رہی تھی، اس کا مالی نقصان بھی ہوا، اس کی ذہنی صحت کو جو نقصان ہوا؟ اس کا جواب کون دے گا؟ اس کی تلافی کیسے ہو گی؟‘

میڈیا کا کام فیصلہ دینا نہیں

سُشانت سنگھ کا معاملہ ہو یا دیگر خبریں میڈیا ٹرائل پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ میڈیا کا کردار کسی کو صحیح یا غلط قرار دے کر فیصلہ دینا نہیں ہے۔

لیکن چاہے وہ ریا کیس ہو یا 2008 کا مشہور آروشی قتل کیس یا 'مونا لیسا' کی حالیہ مثال جو مدھیہ پردیش سے کمبھ میں مالا بیچ کر پیسہ کمانے آئی تھی۔میڈیا کا کردار ہمیشہ سوالوں کی زد میں رہا ہے۔

ساکشی سنگھل کا کہنا ہے کہ ’میڈیا اب حقائق نہیں بلکہ اپنی رائے پیش کرتا ہے اور اسے اکثر ایسے سنسنی خیز انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر رہتا ہے کہ خبر سچ ہے یا نہیں۔

ان کے مطابق ’اس کیس میں کارروائی مکمل نہیں ہوئی تھی لیکن ریا کو مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اسے ’گولڈ ڈگر‘ یعنی ’موقع سے فائدہ اٹھانے والی‘ کہا گیا تھا۔ایسا لگتا ہے کہ اس میں صنفی تعصب نظر آتا ہے۔ ایسا کسی مرد کے ساتھ ہوتا نظر نہیں آتا۔ ریا کے خاندان کو دھمکیاں ملی تھیں۔ انھیں سوشل میڈیا پر ٹرول کیا گیا تھا کیونکہ وہ سوشل میڈیا پر مقبول ہو گئیں تھیں۔‘

حساسیت کا فقدان تھا

سشانت کی موت کے بعد انڈین میڈیا میں ریا اور سوشانت کی ذاتی زندگی کو نہ صرف بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا بلکہ ریا ایک طرف تھی اور معاشرہ، سوشانت کا خاندان، سوشل میڈیا اور میڈیا دوسری طرف۔

اتنا ہی نہیں یہ معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ ایک دم ایسا لگنے لگا کہ بہار بمقابلہ مغربی بنگال ہے۔ سوشانت سنگھ کی موت پر فلم انڈسٹری بھی کھل کر سامنے نہیں آئی۔ اس وقت میں شبانہ اعظمی، دیا مرزا اور ودیا بالن جیسے چند نام ہی ریا چکرورتی کی حمایت میں سامنے آئے۔

اس تمام معاملے میں حساسیت کی کمی صاف نظر آتی تھی۔

ڈاکٹر عامر سلطانہ کا کہنا ہے کہ حال ہی میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ دیا جس میں کہا گیا کہ ’خواتین کی چھاتی کو چھونا، یا شلوار کو ہاتھ ڈالنا ریپ نہیں سمجھا جا سکتا تو سوشل میڈیا یا میڈیا اس پر بحث کیوں نہیں کرتا؟ ایسے مسائل کیوں نہیں اٹھائے جاتے؟ دونوں ہی مسائل میں خواہ وہ معاشرے کی طرف سے ہو یا نظام عدل سے، متاثرہ عورت ہے۔

میڈیا میں بہت سے معاملات میں بے حسی نظر آتی ہے۔ ریا چکرورتی اس وقت ’چیپٹر ٹو‘ کے نام سے ایک پوڈ کاسٹ کی میزبانی کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر امیر سلطانہ کا کہنا ہے کہ ریا چکرورتی نے یہ کیس بہت مضبوطی سے لڑا ہے لیکن کچھ زخم ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو وہ کسی کو دکھانا نہیں چاہتیں۔

یہاں اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ میڈیا ایسے واقعات کو کس طرح اٹھائے تاکہ کسی کی پرائیویسی اور حساسیت کی خلاف ورزی نہ ہو اور زندگی مشکل نہ ہو۔

سُشانت سنگھ راجپوت کی موت کی گتھی ایک سال بعد بھی کیوں نہیں سلجھ سکی؟سوشانت سنگھ کی موت اور ’اقربا پروری‘، بالی وڈ اور سوشل میڈیا منقسمبالی وڈ: وہ فلمی ستارے جنھوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ اپنے ہاتھوں کیااداکار سُشانت سنگھ کی موت کی سی بی آئی سے تفتیش کا مطالبہ
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More