کیا دوسرے بینکوں کے اے ٹی ایم سے کیش نکلوانے پر اضافی کٹوتی ہو رہی ہے؟

اردو نیوز  |  Mar 27, 2025

دفتر سے گھر جاتے ہوئے محمد علی (فرضی نام) اپنے بینک کی برانچ کے اے ٹی ایم پر کیش نکلوانے کے لیے رُکے لیکن وہاں رَش دیکھ کر انہوں نے ایک قریبی نجی بینک کی اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم، جب انہوں نے دوسرے نجی بینک  کے اے ٹی ایم میں اپنا کارڈ ڈالا تو سکرین پر ایک پیغام نمودار ہوا جس میں درج تھا کہ بیلنس انکوائری پر 100 روپے جبکہ کیش نکلوانے پر 750 روپے چارج ہوں گے۔

وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے، کیوں کہ وہ ایک فائلر ہیں اور انہیں معلوم تھا کہ بینک کی مقررہ فیس کے علاوہ ایسا کوئی چارج نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے تصدیق کے لیے صرف بیلنس انکوائری کی، اور پتا چلا کہ ان کے اکاؤنٹ سے واقعی 100 روپے کاٹ لیے گئے ہیں۔

انہوں نے اس پر محتاط رہتے ہوئے کیش نکالنے کا ارادہ ترک کر دیا اور اپنے ہی بینک کے اے ٹی ایم سے رقم نکلوائی۔

نجی بینک کی نمائندہ مدیحہ جاوید نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے پر کوئی اضافی چارجز عائد نہیں کیے گئے، بلکہ یہ ایک تکنیکی مسئلہ تھا، جس کی وجہ سے صارفین کو غلط معلومات دی جا رہی تھیں۔‘

انہوں نے ان صارفین کے دعوؤں کو مسترد کیا کہ ان کے اکاؤنٹس سے واقعی اضافی رقم کاٹی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سسٹم میں آنے والی خرابی کو دُور کر دیا گیا ہے، اور اب صارفین کو ایسا کوئی پیغام سکرین پر نظر نہیں آرہا۔‘

نان فائلرز پر وِدہولڈنگ ٹیکس کی موجودہ صورت حال

واضح رہے کہ پاکستان میں نان فائلرز کے لیے 50 ہزار روپے سے زائد رقم نکلوانے پر 0.6 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔

مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں اس ٹیکس کو 0.9 فیصد تک بڑھانے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے اسے مسترد کر دیا، جس کے بعد یہ بدستور 0.6 فیصد کی شرح سے لاگو ہے۔

سسٹم کی خرابی یا ممکنہ سائبر حملہ؟

ڈیجیٹل معیشت کے ماہر ڈاکٹر حسنین ساجد کے مطابق، بعض اوقات بینکنگ سسٹم میں تکنیکی خرابی کے باعث اے ٹی ایمز پر اس طرح کے غلط پیغامات آ سکتے ہیں، اور ایسے مواقع پر بعض صارفین سے غیرمتوقع کٹوتی بھی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ’بینک فائلرز یا نان فائلرز سے کسی اضافی ٹیکس کی کٹوتی کے مجاز نہیں ہیں، لہٰذا اس طرح کے کسی بھی معاملے پر صارفین کو بینک سے فوری طور پر وضاحت طلب کرنی چاہیے۔‘

اس کے علاوہ، حسنین ساجد نے ایک اور خدشے کا اظہار کیا کہ بعض اوقات سائبر حملوں کے ذریعے بھی بینکوں کے ڈیجیٹل سسٹمز کو متاثر کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کے ساتھ دھوکا دہی کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More